غزہ کی صورتحال اسرائیلی حملوں میں مزید 75 فلسطینی شہید، بھوک نے 10 افراد کو لقمہ اجل بنا دیا

غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور بھوک کے سبب انسانی بحران شدید ہو گیا ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں کم از کم 85 فلسطینی شہید ہوئے، جن میں بچے اور امداد کے متلاشی شامل ہیں۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق مجموعی طور پر 62,895 افراد شہید اور ایک لاکھ 58,895 زخمی ہو چکے ہیں۔ شہری بنیادی انسانی ضروریات سے محروم ہیں، ہسپتال اور طبی مراکز محدود وسائل کے باعث دباؤ کا شکار ہیں، اور بچوں کی حالت سب سے زیادہ تشویشناک ہے۔ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں فوری امداد کی اپیل کر رہی ہیں۔ عالمی برادری کی بروقت مداخلت کے بغیر اس المیے کے اثرات مزید بڑھ سکتے ہیں۔
گریٹر اسرائیل منصوبہ پاکستان مسترد کرتا ہے، اسحٰق ڈار کا او آئی سی اجلاس سے خطاب

نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحٰق ڈار نے او آئی سی اجلاس سے خطاب میں کہا کہ گریٹر اسرائیل منصوبہ ناقابلِ قبول ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ فلسطین میں انسانی المیہ روکنے اور فوری جنگ بندی کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
اسرائیلی فورسز کی غزہ میں بغیر کسی پیشگی وارننگ بے دریغ بمباری، مزید 111 فلسطینی شہید

غزہ میں اسرائیلی بمباری شدت اختیار کر گئی، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 111 فلسطینی شہید اور 820 زخمی، امداد کے متلاشی بچوں اور خواتین پر گولیاں برسائی گئیں، شہداء کی تعداد 60 ہزار سے تجاوز کر گئی۔
اسرائیل کا غزہ کے 3 مخصوص علاقوں میں روزانہ 10 گھنٹے کیلیے فوجی حملے روکنے کا اعلان

اسرائیلی فوج نے شدید عالمی دباؤ کے بعد غزہ کے المواسی، دیرالبلاح اور غزہ شہر میں روزانہ 10 گھنٹے فوجی کارروائی روکنے کا اعلان کیا ہے۔ اقوام متحدہ اور امدادی اداروں نے انسانی بحران پر فوری ردعمل کا مطالبہ کیا ہے۔