پاک افغان سیز فائر طالبان حکومت کی درخواست پرکیا، طویل مدتی امن کیلئے گیند اب کابل کے کورٹ میں ہے، وزیراعظم

وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں افغانستان کو واضح پیغام دیا کہ پاکستان نے 48 گھنٹے کے لیے سیز فائر انسانی ہمدردی کے تحت کیا، مگر اب فیصلہ کابل کو کرنا ہے کہ وہ امن چاہتا ہے یا تصادم۔ انہوں نے کہا کہ افغان سرزمین سے دہشتگردی برداشت نہیں کی جائے گی، اور پاکستان اپنے دفاع کا ہر حق محفوظ رکھتا ہے۔ شہباز شریف نے غزہ امن معاہدے، فلسطینی ریاست، اور آئی ایم ایف پروگرام پر بھی اہم گفتگو کی۔
صدر آصف زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف کی ملاقات، ملکی و علاقائی امور پر تفصیلی مشاورت

اسلام آباد میں صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف کے درمیان اہم ملاقات ہوئی جس میں ملکی سیاست، سیکیورٹی، معاشی استحکام اور خطے کی بدلتی صورتحال پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔ وزیر اعظم نے اپنے حالیہ غیر ملکی دوروں کی رپورٹ پیش کی جبکہ صدر زرداری نے قومی استحکام، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور عوامی فلاح پر زور دیا۔ دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ پاکستان میں جمہوری تسلسل اور معاشی ترقی ہی قومی کامیابی کی ضمانت ہے۔
نومنتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے عہدے کا حلف اٹھا لیا، گورنر خیبر پختونخواہ نے حلف لیا

خیبر پختونخوا کے نومنتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے گورنر فیصل کریم کنڈی سے عہدے کا حلف اٹھالیا۔ تقریب گورنر ہاؤس پشاور میں منعقد ہوئی جس میں پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنان نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ سہیل آفریدی نے اپنے خطاب میں امن، روزگار اور گورننس میں بہتری کو اپنی ترجیحات قرار دیا۔
پنجاب حکومت کا بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو سیلاب متاثرین کیلئے استعمال نہ کرنا غیر ذمہ دارانہ ہوگا، آصفہ بھٹو

پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما آصفہ بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سیلاب متاثرین کو امداد کی ترسیل کا سب سے تیز اور شفاف ذریعہ بی آئی ایس پی ہے، جبکہ پنجاب حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ متاثرہ خاندانوں کو ’’ریلیف کارڈ‘‘ کے ذریعے امداد فراہم کرے گی۔ اس بیان کے بعد ملکی سیاست میں نئی بحث نے جنم لیا ہے کہ سیلاب متاثرین کو کس نظام کے تحت ریلیف دیا جائے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ بی آئی ایس پی کے پاس پہلے ہی مستحق خاندانوں کا مستند ڈیٹا موجود ہے جبکہ نیا نظام وقت طلب اور غیر شفاف ثابت ہو سکتا ہے۔ عوامی سطح پر بھی اس معاملے پر بحث جاری ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر سیاسی اختلافات نہ سُلجھے تو سب سے زیادہ نقصان متاثرین کو ہوگا۔
عمران خان کی ہدایت پر قومی اسمبلی کی چار قائمہ کمیٹیوں سے چیئرمین بیرسٹر گوہر کا استعفیٰ

پاکستان تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی نے عمران خان کی ہدایات پر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں سے استعفیٰ دے دیا۔ یہ فیصلہ ملکی سیاست میں بڑی ہلچل کا باعث بن گیا ہے اور اسے ایک اہم سیاسی حکمتِ عملی قرار دیا جا رہا ہے۔
ضمنی انتخابات 2025 عمران خان کا الیکشن میں حصہ نہ لینے اور پارلیمانی کمیٹیوں سے مستعفی ہونے کی ہدایت

پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان سے ان کی ہمشیرہ علیمہ خان اور دیگر بہنوں نے سنٹرل جیل اڈیالہ میں ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد علیمہ خان نے میڈیا کو بتایا کہ عمران خان نے پارٹی رہنماؤں اور عوام کو واضح پیغام دیا کہ وہ کسی دباؤ یا دھمکی کے تحت جھکنے والے نہیں ہیں۔ سابق وزیراعظم نے ہدایت دی کہ پارٹی پارلیمنٹ کی تمام کمیٹیوں سے مستعفی ہو اور ضمنی انتخابات میں حصہ نہ لے، تاکہ انتخابات کو قانونی جواز نہ دیا جائے۔ ملاقات کے دوران عمران خان نے ملکی سیاسی صورتحال، میڈیا، فوجی آپریشنز اور سیلاب متاثرہ علاقوں پر بھی رائے دی۔ علیمہ خان کے بیانات کے بعد پارٹی کی داخلی صورتحال اور عوامی ردعمل پر بھی بحث چھڑ گئی ہے، اور یہ ملاقات پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اہم موڑ کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
عمران خان کیس: پی ٹی آئی ارکان کو اڈیالہ جیل طلب – عالیہ حمزہ کی ہدایت

پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کے کیس کی اڈیالہ جیل میں سماعت کے موقع پر پی ٹی آئی پنجاب کے اراکین اسمبلی اور ٹکٹ ہولڈرز کو منگل کے روز جیل پہنچنے کی ہدایت کر دی گئی ہے، بصورت دیگر شوکاز نوٹس جاری کیا جائے گا۔
پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کا ضمنی انتخابات میں اتحاد: سیاسی تعاون کی نئی مثال

پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتیں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے ضمنی انتخابات میں مشترکہ حکمت عملی کے تحت مل کر میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اتحاد کا مقصد انتخابی کامیابی کو یقینی بنانا اور قومی مفاد کو مقدم رکھنا ہے۔
پی ٹی آئی رہنماؤں عمر ایوب اور شبلی فراز کا ڈی نوٹیفکیشن کے خلاف پشاور ہائیکورٹ سے رجوع

پی ٹی آئی رہنما عمر ایوب اور شبلی فراز نے الیکشن کمیشن کے ڈی نوٹیفکیشن فیصلے کے خلاف پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا۔ جانیں کیس کی تفصیلات، موقف، اور ممکنہ قانونی اثرات۔
میرے بیٹے احتجاج کے لیے پاکستان نہیں آئیں گے، عمران خان نے وا ضح کردیا

راولپنڈی میں عدالتی سماعت کے دوران عمران خان نے واضح کر دیا کہ ان کے بیٹے سیاسی احتجاج میں شرکت کے لیے پاکستان نہیں آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بیٹے پاکستان آئیں گے تو صرف ملاقات کی غرض سے۔