وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب اور ترکیہ کا دورہ جلد کریں گے، مشرق وسطیٰ صورتحال پر اہم مشاورت

وزیراعظم شہباز شریف مشرق وسطیٰ صورتحال پر سعودی عرب اور ترکیہ کا دورہ کریں گے
پاکستان سعودی عرب دفاعی معاہدہ: پاکستانی فضائیہ کا دستہ شاہ عبدالعزیز ایئر بیس پہنچ گیا

پاکستان سعودی دفاعی معاہدے کے تحت پاک فضائیہ کا دستہ سعودی عرب پہنچ گیا
پاکستان سعودی عرب یکجہتی: شہباز شریف کا محمد بن سلمان سے رابطہ، مکمل حمایت کا اعلان

پاکستان سعودی عرب یکجہتی، وزیراعظم شہباز شریف نے ولی عہد محمد بن سلمان کو مکمل حمایت کی یقین دہانی کرائی، حملوں کی شدید مذمت۔
اسلام آباد میں اہم سفارتی سرگرمیاں، اسحاق ڈار کی سعودی، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ سے ملاقات

اسحاق ڈار نے اسلام آباد میں سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ سے ملاقات کی، جس میں مشرق وسطیٰ کشیدگی اور امن اقدامات پر غور کیا گیا۔
جدہ میں وزیراعظم شہباز شریف کی محمد بن سلمان سے ملاقات، علاقائی صورتحال پر گفتگو

وزیراعظم شہباز شریف نے جدہ میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی جس میں علاقائی صورتحال اور پاکستان سعودی تعلقات پر گفتگو کی گئی۔
وزیراعظم شہباز شریف ہنگامی دورے پر سعودی عرب پہنچ گئے

وزیراعظم شہباز شریف چند گھنٹوں کے ہنگامی دورے پر سعودی عرب پہنچ گئے جہاں وہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کریں گے۔
سعودی عرب کی ایران کو جوابی کارروائی کی دھمکی، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ

سعودی عرب نے پہلی بار ایران کو براہِ راست جوابی کارروائی کی وارننگ دے دی اور کہا ہے کہ مملکت یا آئل تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تو سخت ردعمل دیا جائے گا۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سعودی وزیر دفاع سے ملاقات، خطے کی سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان سے ملاقات میں ایران کے ڈرون اور میزائل حملوں کے بعد خطے کی سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی اہم پریس بریفنگ: پاکستان ایران کے ساتھ کھڑا، سفارتی کوششیں تیز

اسحاق ڈار نے کہا پاکستان ایران کے ساتھ کھڑا ہے، مشرق وسطیٰ بحران پر اہم بریفنگ، پاکستانیوں کے انخلا اور سفارتی کوششوں کی تفصیلات سامنے آگئیں۔
قومی اسمبلی کی کمیٹی کی سفارشات: بارہ ربیع الاول پر پارلیمانی وفد کو روضۂ رسول ﷺ بھیجا جائے گا

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور نے وزارت مذہبی امور کو تحریری سفارشات ارسال کی ہیں کہ ہر سال بارہ ربیع الاول کے موقع پر دس رکنی پارلیمانی وفد کو سرکاری خرچ پر مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ بھیجا جائے تاکہ وفد روضۂ رسول ﷺ پر حاضری دے اور پاکستانی عوام کی جانب سے درود و سلام پیش کرے۔ وفد کے قیام، خوراک، رہائش، ٹرانسپورٹ اور طبی سہولتیں بھی سرکاری ذمہ ہوں گی۔