ایران کشیدگی کے دوران امریکا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ مشرقِ وسطیٰ کی جانب روانہ
بحیرۂ روم: امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران امریکی بحریہ کا دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ بحیرۂ روم میں داخل ہوگیا ہے، جسے خطے میں بڑھتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں انتہائی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان جوہری مذاکرات کا دوسرا دور بھی شروع ہوچکا ہے، تاہم کشیدگی بدستور برقرار ہے اور سفارتی کوششوں کے باوجود صورتحال میں نمایاں بہتری نہیں آ سکی۔
آبنائے جبل الطارق سے گزر کر مشرقِ وسطیٰ کی جانب پیش قدمی
بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی ویب سائٹس کے مطابق یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ کیریئر اسٹرائیک گروپ اس وقت آبنائے جبل الطارق عبور کر رہا ہے، جو بحیرۂ روم میں داخلے کا اہم راستہ ہے۔
اس پیش رفت سے واضح ہوتا ہے کہ امریکی بحری بیڑا تیزی سے مشرقِ وسطیٰ کی جانب بڑھ رہا ہے، جہاں پہلے ہی کشیدگی عروج پر ہے۔
ٹرمپ کا حکم اور ممکنہ فوجی آپریشنز
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے اس کیریئر اسٹرائیک گروپ کو مشرقِ وسطیٰ روانہ کرنے کا حکم دیا تھا۔ ذرائع کے مطابق امریکا ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے مختلف آپشنز پر غور کر رہا ہے۔

امریکی دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ اس طیارہ بردار بحری جہاز کو خطے میں پہنچنے میں مزید چند دن لگ سکتے ہیں، جس کے بعد یہ مکمل آپریشنل تیاری کے ساتھ کسی بھی ممکنہ کارروائی کے لیے دستیاب ہوگا۔
جدید جنگی صلاحیتوں کا مظاہرہ
امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے جاری کردہ تصاویر میں یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ کے عرشے سے ایف/اے-18 ایف سپر ہارنیٹ طیارے کی پرواز کو دکھایا گیا ہے، جو امریکی بحریہ کی مکمل جنگی تیاری اور جدید صلاحیتوں کی عکاسی کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس سطح کی تعیناتی نہ صرف عسکری طاقت کا مظاہرہ ہے بلکہ ایک واضح پیغام بھی ہے کہ امریکا خطے میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔
خطے کی صورتحال مزید نازک
مشرقِ وسطیٰ میں پہلے ہی سیاسی اور عسکری کشیدگی موجود ہے، اور ایسے میں دنیا کے سب سے بڑے طیارہ بردار بحری جہاز کی تعیناتی صورتحال کو مزید حساس بنا سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو خطہ ایک بڑے تنازعے کی طرف جا سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی سطح پر بھی مرتب ہوں گے۔
نتیجہ
امریکا کی جانب سے یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ کی مشرقِ وسطیٰ میں تعیناتی ایک بڑی اسٹریٹجک پیش رفت ہے، جو خطے میں طاقت کے توازن اور سیکیورٹی صورتحال پر گہرے اثرات ڈال سکتی ہے۔
دنیا کی نظریں اب امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات اور آئندہ ممکنہ اقدامات پر مرکوز ہیں، کیونکہ یہی فیصلے خطے کے مستقبل کا تعین کریں گے۔
🚨 USS Gerald R. Ford enters Mediterranean via Strait of Gibraltar pic.twitter.com/U7OLtRWZhx
— Eagle Eye (@zarrar_11PK) February 20, 2026