ایران کیلئے امریکا کی نئی تجویز سامنے آگئی، پابندیوں میں نرمی کا امکان
امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی کشیدگی اور مذاکرات کے تناظر میں ایک نئی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں امریکا کی جانب سے ایران کیلئے نئی پیشکش کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایرانی سیاسی مبصر Ali Golhaki نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے ایران کو 25 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے واپس کرنے اور محدود یورینیم افزودگی کی اجازت دینے کی تجویز پیش کی ہے۔ ذرائع اور تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیشکش دونوں ممالک کے درمیان جاری پس پردہ سفارتی رابطوں کا حصہ ہو سکتی ہے، جن کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا اور ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار کرنا ہے۔
منجمد اثاثوں کی واپسی کی تجویز
رپورٹس کے مطابق امریکی تجویز میں ایران کے تقریباً 25 ارب ڈالر مالیت کے منجمد اثاثے واپس کرنے کی پیشکش شامل ہے۔ یہ اثاثے گزشتہ برسوں کے دوران مختلف پابندیوں کے باعث منجمد کیے گئے تھے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ پیشکش عملی شکل اختیار کرتی ہے تو ایران کی معیشت کو بڑا سہارا مل سکتا ہے، کیونکہ ملک طویل عرصے سے اقتصادی پابندیوں اور مالی دباؤ کا شکار ہے۔
یورینیم افزودگی کی اجازت
Ali Golhaki کے مطابق امریکی تجویز میں ایران کو 3.67 فیصد تک یورینیم افزودگی کی اجازت دینے کی بات بھی شامل ہے۔ یہ شرح 2015 کے جوہری معاہدے (JCPOA) میں طے شدہ حد کے قریب سمجھی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام ایران کے جوہری پروگرام پر عالمی نگرانی برقرار رکھنے کی کوشش کا حصہ ہو سکتا ہے۔
🛢️ ایرانی تیل فروخت میں نرمی
اطلاعات کے مطابق محدود مدت کیلئے ایرانی تیل کی فروخت کی سہولت بھی امریکی تجویز کا حصہ ہے۔ پابندیوں کے باعث ایران کی تیل برآمدات شدید متاثر ہوئی تھیں، جس سے ملکی معیشت پر دباؤ بڑھا۔ اگر تیل فروخت میں نرمی دی جاتی ہے تو عالمی آئل مارکیٹ پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
آبنائے ہرمز کا معاملہ
Strait of Hormuz عالمی توانائی تجارت کیلئے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے۔ رپورٹس کے مطابق امریکا چاہتا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بحالی اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کا معاملہ ایک جامع معاہدے سے مشروط ہو۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی تیل سپلائی اور قیمتوں پر براہ راست اثر ڈالتی ہے۔
ایران کا مؤقف
دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ کسی بھی معاہدے پر مکمل عملدرآمد اور تصدیق کے بعد ہی مذاکراتی عمل کو آگے بڑھایا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق ایران چاہتا ہے کہ پابندیوں میں نرمی اور عملی اقدامات کو پہلے یقینی بنایا جائے، جس کے بعد ہی اگلے مراحل پر بات ہو۔
امریکا ایران تعلقات کا پس منظر
امریکا اور ایران کے تعلقات کئی دہائیوں سے کشیدگی کا شکار رہے ہیں۔ 2015 میں عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان جوہری معاہدہ طے پایا تھا، تاہم بعد میں امریکا اس معاہدے سے الگ ہو گیا تھا، جس کے بعد پابندیاں دوبارہ عائد کی گئیں۔
عالمی مارکیٹ پر اثرات
ماہرین معاشیات کے مطابق ایران سے متعلق کسی بھی مثبت پیش رفت کا اثر عالمی منڈیوں، خصوصاً تیل کی قیمتوں پر فوری طور پر پڑتا ہے۔ سرمایہ کار اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے سے متعلق خبروں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
سفارتی سرگرمیاں
حالیہ مہینوں میں مشرق وسطیٰ میں سفارتی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ مختلف ممالک خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکراتی عمل کو فروغ دینے کیلئے کردار ادا کر رہے ہیں۔
ممکنہ چیلنجز
اگرچہ نئی پیشکش کو مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ مجموعی طور پر امریکا ایران نئی پیشکش خطے کی سیاست اور عالمی معیشت کیلئے اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔ اگر دونوں ممالک کسی معاہدے تک پہنچنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو اس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی توانائی مارکیٹ اور سفارتی تعلقات پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

