تھائی لینڈ میں 300 سالہ بارش: سیلاب سے 19 ہلاک، ہٹ یائی شہر تباہ

تھائی لینڈ میں 300 سالہ بارش سے سیلاب زدہ ہٹ یائی شہر
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

تھائی لینڈ میں 300 سالہ بارش: ایک نایاب قدرتی آفت

جنوری 2025 سے جاری موسلا دھار بارشوں نے جنوبی تھائی لینڈ کو تباہ کر دیا ہے۔ 21 نومبر 2025 کو ہٹ یائی شہر میں 335 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی، جو 300 سال کا سب سے زیادہ ریکارڈ ہے۔ تھائی لینڈ میں 300 سالہ بارش کی اس شدت نے نہ صرف ریکارڈ توڑے بلکہ ملک کے 10 صوبوں کو زیر آب کر دیا۔ مقامی حکام کے مطابق، یہ بارش موسمیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے، جو جنوب مشرقی ایشیا کو مزید متاثر کر سکتی ہے۔ تھائی لینڈ میں 300 سالہ بارش سے ہونے والے سیلاب نے 465,000 سے زائد افراد کو متاثر کیا ہے، جبکہ وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق 19 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

یہ آفت 19 نومبر 2025 سے شروع ہوئی، جب ایک طاقتور مون سون گھاٹی اور کم دباؤ کا سیلاب جنوبی علاقوں پر حملہ آور ہوا۔ ہٹ یائی، جو سنگکھلا صوبے کا تجارتی مرکز ہے، سب سے زیادہ متاثر ہوا جہاں پانی کی سطح 2.5 میٹر تک پہنچ گئی۔ تھائی لینڈ میں 300 سالہ بارش کی وجہ سے ہسپتالوں تک رسائی منقطع ہو گئی، جہاں ایک میٹرنٹی وارڈ میں 30 نوزائیدہ بچوں سمیت خواتین پھنس گئیں۔

ہٹ یائی شہر کی تباہی: تھائی لینڈ میں 300 سالہ بارش کا مرکز

ہٹ یائی، جنوبی تھائی لینڈ کا اہم تجارتی مرکز، تھائی لینڈ میں 300 سالہ بارش کا سب سے بڑا شکار بنا۔ 19 سے 21 نومبر تک تین دنوں میں 630 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی، جو 2010 کے سیلاب کے ریکارڈ (428 ملی میٹر) سے بھی زیادہ ہے۔ شہر کے مرکزی علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہو گیا، دکانیں اور موٹر سائیکلز زیر آب آ گئے۔ ڈرون فوٹیج سے پتہ چلتا ہے کہ سڑکیں مکمل طور پر پانی تلے ہیں، اور لوگ کشتیوں پر سوار ہو کر امداد کی منتظر ہیں۔

سنگکھلا گورنر رتھاسارٹ چڈچو نے 24 نومبر 2025 کو ہٹ یائی اور آس پاس کے اضلاع کو ریڈ زون قرار دے دیا اور فوری انخلا کا حکم دیا۔ بوڑھے، بچے اور مریضوں کو ترجیح دی گئی۔ تھائی لینڈ میں 300 سالہ بارش کی وجہ سے شہر کی میٹرنٹی وارڈ تک رسائی بند ہو گئی، جہاں ایمرجنسی ٹیمیں بوٹوں پر امداد پہنچا رہی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پانی کو نکالنے کے لیے درجنوں واٹر پمپس اور پروپیلیں لگائی گئی ہیں، جو پانی کو سنگکھلا جھیل اور خلیجِ تھائی لینڈ کی طرف موڑ رہی ہیں۔

سیلاب سے متاثر صوبے: 9 سے 10 علاقوں کی صورتحال

تھائی لینڈ میں 300 سالہ بارش نے 10 صوبوں کو متاثر کیا ہے، جن میں چمفون، سورٹ تھانی، ناخون سی تھامارات، ساتون، سنگکھلا، پھاتھالونگ، ٹرینگ، ناراتھیوات، پٹانی اور یا لا شامل ہیں۔ ان میں سے 9 صوبے مکمل طور پر زیر آب ہیں، جہاں 127,000 سے زائد گھرانے متاثر ہوئے۔ 24 گھنٹوں میں 300 سے 500 ملی میٹر بارش ہوئی، جو دریاؤں کے ندی نالوں کو توڑنے کا باعث بنی۔

ناخون سی تھامارات میں لینڈ سلائیڈنگ بھی ہوئی، جبکہ پٹانی میں بجلی کے تاروں سے کرنٹ لگنے کے واقعات بڑھ گئے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ مزید بارش کی توقع ہے، جو نچلے علاقوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ تھائی لینڈ میں 300 سالہ بارش کی شدت سے ربڑ کی فصل کو بھی نقصان پہنچا ہے، جو دنیا کی سب سے بڑی پیداوار ہے۔ حکومت کے مطابق، پیداوار میں 10,300 ٹن کی کمی آ سکتی ہے۔

انسانی جانوں کا نقصان: 19 ہلاکتیں اور ہزاروں بے گھر

تھائی لینڈ کی وزارتِ صحت کے مطابق، تھائی لینڈ میں 300 سالہ بارش اور سیلاب سے 19 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ زیادہ تر اموات کرنٹ لگنے، ڈوبنے اور دیگر حادثات سے ہوئیں۔ ہٹ یائی میں ایک خاتون اور بچہ سیلاب میں بہہ گئے، جبکہ ناراتھیوات میں بجلی کے تاروں سے 5 افراد جھلس گئے۔

465,000 سے زائد افراد متاثر ہوئے، جن میں سے ہزاروں کو عارضی کیمپوں میں منتقل کیا گیا۔ ناؤ تھاوی علاقے میں امداد کی شدید کمی ہے، جہاں فلیٹ بوٹس، پانی اور کھانے کی ضرورت ہے۔ ریسکیو ٹیمیں بوٹوں پر کام کر رہی ہیں، اور فوج نے بحریہ کی تعیناتی کی ہے۔ تھائی لینڈ میں 300 سالہ بارش نے خواتین اور بچوں کو سب سے زیادہ متاثر کیا، جہاں صحت کے مسائل بڑھ رہے ہیں۔

موسلا دھار بارش کی وجوہات: موسمیاتی تبدیلی کا کردار

تھائی لینڈ میں 300 سالہ بارش کی بنیادی وجہ ایک طاقتور مون سون گھاٹی اور کم دباؤ کا سیلاب ہے، جو 19 نومبر سے جنوب مشرقی ایشیا پر چھایا ہوا ہے۔ رائل ایریگیشن ڈپارٹمنٹ کے اسمارٹ واٹر آپریشن سنٹر (ایس ڈبلیو او سی) کے مطابق، یہ بارش 300 سال میں سب سے شدید ہے۔ موسمیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ گلوبل وارمنگ نے مون سون کی شدت بڑھا دی ہے، جو سیلابوں کو مزید تباہ کن بنا رہی ہے۔

2010 کے ہٹ یائی سیلاب سے موازنہ کریں تو اس بار بارش 47 فیصد زیادہ ہے۔ تھائی لینڈ میں 300 سالہ بارش کو خلیجِ بنگال سے آنے والے نمی والے ہواؤں سے جوڑا جا رہا ہے، جو کم دباؤ کے ساتھ مل کر طوفان بن گئے۔ ورلڈ میٹیورولوجیکل آرگنائزیشن کے مطابق، ایشیا میں ایسے واقعات 20 سال میں دوگنا ہو گئے ہیں۔

حکومتی اقدامات: امداد اور بحالی کی کوششیں

تھائی لینڈ کی حکومت نے فوری طور پر ردعمل دیا ہے۔ نائب وزیر اعظم انوٹن چارنویراکول نے 23 نومبر کو سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کیا اور ڈیزاسٹر کمانڈ سنٹر قائم کیا۔ 24 صوبائی ہال میں میٹنگ بلائی گئی، جہاں انخلا اور امداد کا منصوبہ بنایا گیا۔

بحریہ کی ٹیمیں ریسکیو آپریشنز چلا رہی ہیں، جبکہ 90 لینڈ اور واٹر اثاثے استعمال ہو رہے ہیں۔ کھانا، پانی اور بنیادی سہولیات کی تقسیم جاری ہے۔ تھائی لینڈ میں 300 سالہ بارش کے بعد، حکومت نے کھلونگ پھومینات ڈیم کی صلاحیت بڑھانے کا اعلان کیا ہے، جو اس بار ڈیزائن سے تجاوز کر گئی۔ بارش کم ہونے پر پانی نکالنے کا کام تیز کر دیا جائے گا۔

علاقائی اثرات: ملائیشیا اور ویتنام بھی متاثر

تھائی لینڈ میں 300 سالہ بارش کا اثر پڑوسی ممالک پر بھی پڑا ہے۔ ملائیشیا میں 15,000 افراد کیمپوں میں ہیں، جہاں سیلاب 7 ریاستوں تک پھیل گیا، لیکن کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔ ویتنام میں لینڈ سلائیڈز سے 41 ہلاکتیں ہوئیں، جہاں پھان رنگ میں لوگ پانی میں گھرے ہوئے ہیں۔

جنوبی مشرقی ایشیا میں مون سون کی یہ لہر موسمیاتی بحران کی نشاندہی کرتی ہے، جہاں ہزاروں گھر اور فصلیں تباہ ہوئیں۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، مزید بارش کی توقع ہے، جو علاقائی بحران کو بڑھا سکتی ہے۔

تھائی لینڈ میں 300 سالہ بارش سے سبق

تھائی لینڈ میں 300 سالہ بارش نے شہری منصوبہ بندی اور سیلاب دفاعی نظام کی کمزوریوں کو اجاگر کیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیمز اور ندی نالوں کی صفائی ضروری ہے۔ حکومت کو موسمیاتی تبدیلیوں کے لیے لانگ ٹرم پلان بنانا ہوگا، جیسے ابتدائی انتباہی نظام اور انخلا ڈرلز۔

یہ آفت نہ صرف انسانی المیہ ہے بلکہ معاشی نقصان بھی، جہاں ربڑ کی صنعت کو اربوں کا خسارہ ہوگا۔ تھائی لینڈ میں 300 سالہ بارش سے سبق سیکھتے ہوئے، علاقائی تعاون بڑھانا ہوگا تاکہ آنے والی آفتوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔ متاثرین کے لیے عالمی امداد کی اپیل بھی کی جا رہی ہے۔

بلوچستان میں بارشوں کی پیشگوئی مغربی ہواؤں کا طاقتور سلسلہ داخل

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]