پاکستان سونے کی قیمت آج: فی تولہ سونا 1,600 روپے مہنگا، عالمی ریٹ میں بھی اضافہ

پاکستان میں سونے کی فی تولہ قیمت میں 1600 روپے اضافہ
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

سونا مزید مہنگا — فی تولہ قیمت میں 1600 روپے اضافہ

مہنگا سونا مزید مہنگا — عالمی اور مقامی مارکیٹ میں قیمتوں میں نئی بلندیاں

عالمی معیشت میں غیر یقینی تبدیلیوں، مالیاتی منڈیوں کی مسلسل ہچکولوں اور جغرافیائی کشیدگی کے بڑھتے اثرات نے قیمتی دھاتوں خصوصاً سونے کی قیمتوں کو ایک بار پھر نئی بلندیوں تک پہنچا دیا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی جانب سے محفوظ سرمایہ کاری کی طلب بڑھنے کے نتیجے میں سونا مسلسل مہنگا ہوتا جا رہا ہے، اور اس کے اثرات براہِ راست مقامی مارکیٹ میں بھی دیکھنے میں آ رہے ہیں جہاں سونے کی قیمتیں پہلے ہی ریکارڈ سطحوں کو چھو رہی تھیں۔ تازہ کاروباری ہفتے کے آغاز نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔

عالمی مارکیٹ — سونے کی قیمت مزید بلند سطح پر

بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں مزید اضافہ دیکھا گیا، جس کے تحت فی اونس سونا 16 ڈالر مہنگا ہو کر 4,214 ڈالر کی سطح پر پہنچ گیا ہے۔ یہ اضافہ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی معاشی بے چینی، مالیاتی پالیسیوں کے غیر یقینی مستقبل اور بڑے سرمایہ کار اداروں کی جانب سے محفوظ اثاثوں میں سرمایہ منتقل کرنے کے رجحان کا نتیجہ ہے۔
دنیا بھر میں مرکزی بینک، خاص طور پر ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک، سونے کے ذخائر میں توسیع کر کے اپنی کرنسیوں اور معاشی استحکام کو سہارا دینے کی حکمتِ عملی اپنائے ہوئے ہیں۔ اس عالمی طلب نے سونے کی بین الاقوامی قیمتوں کو نئی سطحوں تک دھکیلا ہے۔

مزید برآں، عالمی منڈیوں میں ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ، توانائی کی قیمتوں کا غیر مستحکم ہونا اور عالمی سطح پر سیاسی کشیدگی نے سرمایہ کاروں کو ایک بار پھر سونے کی طرف راغب کیا ہے۔ سونے کو ہمیشہ سے ’محفوظ پناہ گاہ‘ کے طور پر دیکھا جاتا ہے، اور اسی حیثیت نے موجودہ ماحول میں اس کی قیمت میں ایک اور نمایاں اضافہ کیا ہے۔

مقامی مارکیٹ — سونے کی قیمتوں میں ایک بار پھر بھاری اضافہ

عالمی مارکیٹ کے اثرات براہِ راست پاکستان کی مقامی مارکیٹ پر بھی مرتب ہوئے ہیں، جہاں سونے کی قیمت پہلے ہی تاریخ کی بلند ترین سطحوں کو چھو رہی تھی۔ گزشتہ کاروباری سیشن میں بھی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، اور اس سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے موجودہ سیشن میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 1,600 روپے کا مزید اضافہ سامنے آیا۔
اس اضافے کے بعد فی تولہ سونے کی قیمت 4 لاکھ 43 ہزار 762 روپے تک جا پہنچی ہے—جو کہ ملک میں سونے کی اب تک کی سب سے زیادہ سطحوں میں سے ایک ہے۔

روایتی طور پر، جب بھی عالمی مارکیٹ میں تیزی آتی ہے، مقامی مارکیٹ اس کے اثرات فوری طور پر محسوس کرتی ہے۔ لیکن یہاں ایک اور پہلو بھی شامل ہے: پاکستان میں روپے کی قدر میں مسلسل کمی، درآمدی اخراجات میں اضافہ، اور معاشی غیر یقینی صورتحال نے بھی سونے کی قیمتوں میں اضافے کے رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔

فی دس گرام سونے کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ

صرف فی تولہ ہی نہیں، بلکہ فی دس گرام سونے کی قیمت میں بھی خاصا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مقامی مارکیٹ میں فی دس گرام سونا 1,372 روپے مہنگا ہو کر 3 لاکھ 80 ہزار 454 روپے کی سطح پر پہنچ گیا ہے۔ پاکستان میں زیورات کی صنعت، خاص طور پر فی تولہ کے مقابلے میں فی دس گرام کی قیمت کو اشیائے زیورات کی تیاری کے حوالے سے زیادہ قریب سے دیکھتی ہے۔ اس قیمت میں اضافہ شادیوں کے سیزن، سرمایہ کاری کی بڑھتی ہوئی طلب اور مارکیٹ کی بے چینی کے پس منظر میں صارفین کے لیے مزید تشویش کا باعث ہے۔

چاندی بھی پیچھے نہ رہی — قیمت میں 30 روپے کا اضافہ

صرف سونا ہی مہنگا نہیں ہوا، بلکہ چاندی کی قیمت میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ فی تولہ چاندی کی قیمت میں 30 روپے اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 6,102 روپے فی تولہ تک پہنچ گئی ہے۔
چاندی کی قیمتوں میں اضافہ عالمی مارکیٹ میں صنعتی طلب کے بڑھنے اور مقامی مارکیٹوں میں سرمایہ کاروں کی جانب سے نسبتاً کم لاگت والے قیمتی دھاتوں میں سرمایہ کاری کے رجحان کے باعث ہوا ہے۔

پاکستان میں چاندی کی طلب زیور سازی کے علاوہ صنعتی استعمال میں بھی خاصی اہمیت رکھتی ہے، جس کے باعث اس کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ بھی معاشی سرگرمیوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔

مہنگائی، بے یقینی، اور قیمتی دھاتوں کا مستقبل

سونے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے عام صارفین، زیورات تیار کرنے والوں اور سرمایہ کاروں کے درمیان بے چینی بڑھا دی ہے۔ پاکستان میں سونا ایسی شے ہے جو نہ صرف زیور کے طور پر، بلکہ سرمایہ کاری اور بچت کے طور پر بھی رکھی جاتی ہے۔
مہنگائی کے موجودہ دور میں بہت سے افراد بینکوں کے مقابلے میں سونے کو زیادہ محفوظ سرمایہ کاری سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مقامی مارکیٹ میں طلب میں اضافہ برقرار ہے، جس سے قیمتوں میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر عالمی حالات اسی طرح غیر یقینی رہے، اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کمزور رہی تو سونے کی قیمتیں مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ کئی ماہرین اس بات پر بھی متفق ہیں کہ مستقبل قریب میں سونا 4300 ڈالر فی اونس کے قریب جا سکتا ہے، جو مقامی مارکیٹ کو نئی بلندیاں دکھا سکتا ہے۔

عوام اور جیولرز — مشکلات اور خدشات

پاکستان میں زیورات کی صنعت سونے کی بلند قیمتوں سے شدید متاثر ہو رہی ہے۔ جیولرز کے مطابق گزشتہ چند ماہ سے گاہکوں میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔
سونے کی قیمتوں میں اضافے کے باعث لوگ:

  • سادہ زیورات کی طرف مائل ہو رہے ہیں،
  • گھریلو تقریبات میں سونے کی مقدار کم کی جا رہی ہے،
  • اور ماضی کے مقابلے میں کم خریداری کی جا رہی ہے۔

دوسری جانب، شادیوں کا موسم قریب ہے جس کے باعث طلب میں کچھ اضافہ ضرور متوقع ہے، لیکن قیمتوں کی یہ بلند پروازی عام شہری کے لیے بہت بڑا بوجھ بن چکی ہے۔

مہنگائی کا ایک اور دباؤ

عالمی اور مقامی مارکیٹ میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ پاکستانی معیشت پر ایک اور دباؤ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ایک طرف عالمی سطح پر غیر یقینی حالات، دوسری طرف مقامی کرنسی کی گرتی ہوئی قدر—ان دونوں عوامل نے سونے کو مسلسل مہنگا کر دیا ہے۔
یہ صورتحال عام صارف سے لے کر کاروباری طبقے تک سب کو متاثر کر رہی ہے۔ اگر مستقبل میں بھی یہی رجحان برقرار رہا تو ممکن ہے کہ سونا اپنی نئی تاریخ ساز بلندیاں چھو لے۔

سونے کی نئی قیمت میں اضافے کی تازہ تفصیل
مارکیٹ میں سونے کی نئی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر
سونے کا ہیرے جڑا انڈا چوری کا واقعہ نیوزی لینڈ
نیوزی لینڈ میں چور کا سونے کا ہیرے جڑا انڈا نگل کر فرار ہونے کی کوشش۔
[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]