دریائے چناب کے بہاؤ میں اچانک تبدیلی پر پاکستان کا شدید ردعمل، بھارت کو باضابطہ خط ارسال: ترجمان دفتر خارجہ کی پریس کانگرنس، بھارتی ریاست کے وزیراعلیٰ کا حجاب زبردستی اتارنے کے واقعے پر بھی شدید تشویش کا اظہار
اسلام آباد (رئیس الاخبار) : پاکستان نے دریائے چناب کے بہاؤ میں اچانک اور غیر معمولی تبدیلی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بھارت سے باضابطہ وضاحت طلب کر لی ہے۔ دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ بغیر پیشگی اطلاع پانی چھوڑنا سندھ طاس معاہدے کی روح اور اس میں طے شدہ طریقۂ کار کی خلاف ورزی کے مترادف ہو سکتا ہے، جس سے پاکستان کی زرعی، معاشی اور آبی سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ گزشتہ ایک ہفتے سے دریائے چناب کے بہاؤ میں اچانک تبدیلی سے متعلق اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، جن میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ بھارت نے بغیر اطلاع کے دریا میں پانی چھوڑا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اس معاملے کو غیر معمولی سنجیدگی اور تشویش کے ساتھ دیکھ رہا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کی پریس کانگرنس بتایا کہ پاکستان کے انڈس واٹر کمشنر نے سندھ طاس معاہدے کے تحت مقررہ طریقۂ کار کے مطابق اپنے بھارتی ہم منصب کو باضابطہ خط ارسال کر دیا ہے، جس میں دریائے چناب کے بہاؤ میں اچانک تبدیلی کی وجوہات اور تفصیلات سے آگاہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ بھارت کی جانب سے دریا کے قدرتی بہاؤ میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ چھیڑ چھاڑ، خاص طور پر زرعی سائیکل کے ایک نازک مرحلے پر، پاکستان کے شہریوں کی زندگی، روزگار، غذائی تحفظ اور مجموعی معاشی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ بن سکتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایسے اقدامات نہ صرف دوطرفہ معاہدوں بلکہ بین الاقوامی قوانین کی بھی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ کی پریس کانگرنس کہا کہ پاکستان بھارت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ پاکستانی انڈس واٹر کمشنر کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کا بروقت اور شفاف جواب دے، دریا کے بہاؤ میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ مداخلت سے گریز کرے اور سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو لفظی اور عملی دونوں صورتوں میں پورا کرے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ سندھ طاس معاہدہ 1960 میں طے پایا تھا اور یہ ایک پابند بین الاقوامی معاہدہ ہے، جو دہائیوں سے خطے میں امن، استحکام اور آبی تعاون کی ایک اہم بنیاد رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کی خلاف ورزی نہ صرف بین الاقوامی معاہدات کے تقدس کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ ریاستوں کے درمیان اعتماد، حسنِ ہمسائیگی اور علاقائی امن کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کی پریس کانگرنس کہا کہ بین الاقوامی برادری کو بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی مبینہ اور مسلسل خلاف ورزیوں کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے اور نئی دہلی کو ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے، بین الاقوامی قانون اور تسلیم شدہ اصولوں کے مطابق عمل کرنے کا مشورہ دینا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ تمام تنازعات اور مسائل کے پُرامن حل کا خواہاں ہے، تاہم پاکستان اپنے عوام کے بنیادی اور وجودی آبی حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
واضح رہے کہ رواں برس اپریل میں بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں سیاحوں پر حملے کے بعد سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل رکھنے کا اعلان کیا تھا، جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ بھارت نے بغیر کسی قابلِ قبول ثبوت کے اس واقعے کا الزام پاکستان پر عائد کیا تھا، جسے اسلام آباد نے دوٹوک انداز میں مسترد کر دیا تھا۔
پاکستان نے اس وقت واضح کیا تھا کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت اس کے حصے کے پانی کی کسی بھی قسم کی معطلی یا رکاوٹ کو ’اعلانِ جنگ‘ تصور کیا جائے گا، کیونکہ معاہدے میں یکطرفہ معطلی کی کوئی شق موجود نہیں۔
بعد ازاں پاکستان نے 1969 کے ویانا کنونشن برائے قانونِ معاہدات کی خلاف ورزی کا حوالہ دیتے ہوئے بین الاقوامی عدالتی کارروائی پر غور کرنے کا عندیہ بھی دیا تھا۔ جون میں مستقل ثالثی عدالت (پی سی اے) نے ایک ضمنی فیصلے میں واضح کیا تھا کہ بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل نہیں کر سکتا، جو پاکستان کے مؤقف کی توثیق ہے۔
یہ فیصلہ 2023 میں پاکستان کی جانب سے دائر اس مقدمے کے تناظر میں سامنے آیا تھا، جس میں پاکستان نے سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنے حصے کے دریاؤں پر بھارت کے پن بجلی منصوبوں کے ڈیزائن کو چیلنج کیا تھا۔
بھارتی خاتون کا حجاب زبردستی اتارنے کا واقعہ
ترجمان دفتر خارجہ کی پریس کانگرنس کے دوران بھارتی ریاست بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار کی جانب سے ایک خاتون ڈاکٹر کا حجاب زبردستی اتارنے کے واقعے پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا۔
طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ ایک سینئر بھارتی سیاسی رہنما کی جانب سے مسلم خاتون کا زبردستی حجاب اتارنا نہایت قابلِ مذمت اور تشویشناک عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے کے بعد اتر پردیش کے ایک وزیر کی جانب سے اس اقدام کا سرِ عام مذاق اڑانا مزید افسوسناک ہے، جو بھارت میں مذہبی اقلیتوں بالخصوص مسلمان خواتین کے خلاف بڑھتی ہوئی عدم برداشت کی عکاسی کرتا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کی پریس کانگرنس کہا کہ ایسے واقعات بھارت میں مسلمان خواتین کی تذلیل کو معمول بنانے کا خطرہ رکھتے ہیں اور یہ ہندوتوا سے متاثر سیاست کے تحت مذہبی عدم برداشت اور اسلاموفوبیا میں خطرناک اضافے کی علامت ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ بھارتی حکومت اور تمام ذمہ دار فریقین اس واقعے کی سنگینی کو تسلیم کریں، اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ، مذہبی آزادی کے احترام اور انسانی وقار کے تحفظ کے لیے اپنے عزم کا عملی مظاہرہ کریں۔
Weekly Press Briefing by the Spokesperson @TahirAndrabi
On the Forcible Removal of the Hijab of a Muslim Lady by a Chief Minister in India pic.twitter.com/seRcd56yGf
— Ministry of Foreign Affairs - Pakistan (@ForeignOfficePk) December 18, 2025
One Response