الیکشن ٹریبونل نے ڈاکٹر یاسمین راشد کی درخواست مسترد کردی، این اے 130 سے نواز شریف کی کامیابی کا نوٹیفکیشن برقرار
لاہور کے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 130 سے مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی انتخابی کامیابی کو چیلنج کرنے سے متعلق درخواست پر الیکشن ٹریبونل نے فیصلہ سنا دیا ہے۔ الیکشن ٹریبونل کے جج رانا زاہد محمود نے ڈاکٹر یاسمین راشد کی جانب سے دائر کی گئی درخواست کو تکنیکی بنیادوں پر خارج کرتے ہوئے نواز شریف کی کامیابی کے نوٹیفکیشن کو درست اور برقرار قرار دے دیا ہے۔
الیکشن ٹریبونل کے فیصلے کے مطابق درخواست گزار ڈاکٹر یاسمین راشد قانونی تقاضے پورے کرنے میں ناکام رہیں، جس کے باعث ان کی جانب سے دائر کردہ انتخابی عذر داری (الیکشن پٹیشن) قابلِ سماعت نہیں رہی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ درخواست میں موجود تکنیکی خامیوں کی بنیاد پر کیس کو آگے بڑھانا ممکن نہیں تھا، اس لیے درخواست خارج کی جاتی ہے۔
فیصلے کے بعد این اے 130 سے نواز شریف کی کامیابی کا الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن درست قرار دے دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں اس حلقے سے ان کی کامیابی قانونی طور پر مستحکم ہو گئی ہے۔ عدالتی فیصلے کو مسلم لیگ (ن) کے لیے ایک اہم قانونی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ برس فروری میں ہونے والے عام انتخابات میں لاہور کے اس اہم اور ہائی پروفائل حلقے این اے 130 پر سخت مقابلہ دیکھنے میں آیا تھا۔ مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے ایک لاکھ 71 ہزار 24 ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کی تھی، جبکہ پاکستان تحریک انصاف کی رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد آزاد امیدوار کے طور پر میدان میں اتری تھیں اور انہوں نے ایک لاکھ 15 ہزار 43 ووٹ حاصل کیے تھے۔
انتخابی نتائج کے اعلان کے بعد ڈاکٹر یاسمین راشد نے نواز شریف کی کامیابی کو الیکشن ٹریبونل میں چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ انتخابی عمل میں بے ضابطگیاں اور قواعد کی خلاف ورزیاں ہوئیں، جن کی بنیاد پر نتائج کو کالعدم قرار دیا جانا چاہیے۔ تاہم اب الیکشن ٹریبونل نے ان کی درخواست کو تکنیکی بنیادوں پر مسترد کر دیا ہے، جس کے بعد کیس کا قانونی باب بند ہو گیا ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق انتخابی عذر داریوں میں مقررہ قانونی تقاضوں، دستاویزی شواہد اور مقررہ وقت کی پابندی نہایت اہم ہوتی ہے، اور اگر درخواست ان شرائط پر پورا نہ اترے تو عدالت کے پاس اسے خارج کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں رہتا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے یہ اصول ایک بار پھر واضح ہوا ہے کہ انتخابی نتائج کو چیلنج کرنے کے لیے قانونی نکات کو مضبوط اور مکمل ہونا ضروری ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ این اے 130 لاہور کا ایک انتہائی اہم حلقہ سمجھا جاتا ہے، جہاں سے نواز شریف کی کامیابی کو علامتی اور سیاسی اعتبار سے خاص اہمیت حاصل ہے۔ اس حلقے سے کامیابی نے نہ صرف نواز شریف کی سیاسی واپسی کو تقویت دی بلکہ مسلم لیگ (ن) کی لاہور میں سیاسی پوزیشن کو بھی مستحکم کیا۔
فیصلے کے بعد مسلم لیگ (ن) کے حلقوں میں اطمینان کا اظہار کیا جا رہا ہے، جبکہ ڈاکٹر یاسمین راشد کی جانب سے تاحال اس فیصلے پر ردِعمل سامنے نہیں آیا۔ قانونی ماہرین کے مطابق درخواست خارج ہونے کے بعد اب اس معاملے میں مزید قانونی راستے محدود ہو گئے ہیں، تاہم حتمی فیصلہ مستقبل میں کسی اپیل کی صورت میں ہی ممکن ہو سکتا ہے۔
الیکشن ٹریبونل کے اس فیصلے کو ملک میں انتخابی نظام اور قانونی عمل کے تسلسل کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ انتخابی تنازعات کا حل آئینی اور قانونی دائرہ کار میں ہی تلاش کیا جا رہا ہے۔

