وزیر داخلہ محسن نقوی کا منی لانڈرنگ، جعلی ادویات اور انسانی اسمگلنگ مافیا کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن کا اعلان
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے منی لانڈرنگ، جعلی ادویات کے کاروبار اور انسانی اسمگلنگ میں ملوث مافیا کے خلاف بڑے پیمانے پر سخت کریک ڈاؤن کا حکم دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ان جرائم میں ملوث عناصر کسی بھی رعایت کے مستحق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست عوام کی جان و مال کے تحفظ کی ذمہ دار ہے اور جو عناصر ملکی معیشت، قانون اور انسانی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں، ان کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے گی۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے یہ ہدایات فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کراچی زون کے دورے کے موقع پر دیں، جہاں انہوں نے ایف آئی اے کراچی زون اور ساؤتھ زون کی مجموعی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر ایک اعلیٰ سطحی اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں مختلف شعبہ جات کے سینئر افسران نے شرکت کی اور اپنی اپنی کارکردگی پر بریفنگ دی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے منی لانڈرنگ میں ملوث مافیا کے خلاف بھرپور اور فیصلہ کن کارروائی کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ بڑے منی لانڈرز پر مضبوط ہاتھ ڈالا جائے اور منی لانڈرنگ میں ملوث تمام عناصر کی مکمل منی ٹریل بے نقاب کی جائے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ حوالہ ہنڈی کا غیرقانونی کاروبار کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا، کیونکہ یہ نہ صرف ملکی معیشت کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ دہشت گردی اور دیگر جرائم کی مالی معاونت کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ وزیر داخلہ نے زور دیا کہ کارروائی بلاامتیاز ہونی چاہیے اور اس کا اثر زمینی سطح پر واضح نظر آنا چاہیے۔
وفاقی وزیر داخلہ نے انسانی اسمگلنگ کے خلاف بھی زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ جو ایجنٹس معصوم اور مجبور افراد کو بہتر مستقبل کے خواب دکھا کر غیرقانونی طریقوں سے بیرون ملک بھجواتے ہیں، وہ درحقیقت انسانی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے ایجنٹس اور ان کے نیٹ ورکس کے خلاف بغیر کسی دباؤ اور سفارش کے کارروائی کی جائے اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ محسن نقوی نے واضح کیا کہ انسانی اسمگلنگ کے باعث قیمتی جانوں کے ضیاع اور عالمی سطح پر پاکستان کی بدنامی کسی صورت قابل قبول نہیں۔
اجلاس میں جعلی ادویات کے کاروبار پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ جعلی ادویات تیار کرنے اور فروخت کرنے والے عناصر نہایت مکروہ اور سنگین جرم کے مرتکب ہو رہے ہیں، کیونکہ اس کا براہ راست تعلق انسانی جانوں سے ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ جعلی ادویات کے کاروبار میں ملوث تمام افراد، خواہ وہ چھوٹے ہوں یا بڑے، کو قانون کی گرفت میں لایا جائے اور اس نیٹ ورک کو جڑ سے ختم کیا جائے۔
وفاقی وزیر داخلہ نے ایف آئی اے کراچی زون میں انسانی وسائل کی کمی کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ اس کمی کو ترجیحی بنیادوں پر دور کیا جائے گا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ایف آئی اے کو تمام ضروری وسائل، افرادی قوت اور سہولیات فراہم کی جائیں گی تاکہ ادارہ اپنی ذمہ داریاں بہتر انداز میں انجام دے سکے۔ محسن نقوی نے کہا کہ ایف آئی اے کی کارکردگی سے نہ صرف ادارے کی ساکھ بہتر ہوگی بلکہ عوام کا اعتماد بھی بحال ہوگا۔
اجلاس میں ڈائریکٹر ایف آئی اے کراچی زون نے وزیر داخلہ کو تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ چار ماہ کے دوران انسانی اسمگلنگ میں ملوث 20 ایجنٹس کو گرفتار کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس دوران 140 ملین روپے مالیت کی نان کسٹم مصنوعات اور منشیات بھی ضبط کی گئیں، جو ایک بڑی کامیابی ہے۔ مزید برآں، مسافروں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے کراچی ایئرپورٹ پر سہولت سینٹر بھی قائم کر دیا گیا ہے، جہاں مسافروں کی رہنمائی اور فوری مدد فراہم کی جا رہی ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ نے اجلاس کے دوران تمام انچارج افسران سے ان کے متعلقہ سرکلز کی تفصیلی کارکردگی رپورٹس طلب کیں اور ہدایت کی کہ مزید محنت، پیشہ ورانہ مہارت اور دیانتداری کے ساتھ فرائض انجام دیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی ہی ریاست کی طاقت اور وقار کی عکاس ہوتی ہے۔
اجلاس میں ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے ساؤتھ مجاہد اکبر خان، ڈپٹی ڈائریکٹر اینٹی منی لانڈرنگ، ڈپٹی ڈائریکٹر اینٹی کرپشن، ڈپٹی ڈائریکٹر اینٹی اسمگلنگ، ڈپٹی ڈائریکٹر امیگریشن، ڈپٹی ڈائریکٹر کرائمز، ڈپٹی ڈائریکٹر کمرشل بینکنگ سمیت تمام ڈپٹی ڈائریکٹرز اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ تمام افسران نے وزیر داخلہ کو یقین دلایا کہ دی گئی ہدایات پر مکمل عملدرآمد کیا جائے گا۔
مجموعی طور پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا یہ دورہ اور سخت احکامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ حکومت منی لانڈرنگ، انسانی اسمگلنگ اور جعلی ادویات جیسے سنگین جرائم کے خلاف سنجیدہ اور پرعزم ہے۔ آنے والے دنوں میں ان کارروائیوں کے نتائج سامنے آنے کی توقع کی جا رہی ہے، جس سے نہ صرف جرائم پیشہ عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی ہوگی بلکہ عوام کو بھی ریاستی اداروں پر اعتماد حاصل ہوگا۔


One Response