کراچی میں ڈکیتی، گلستانِ سجاد میں گھر سے 20 تولہ سونا لوٹ لیا گیا

کراچی میں ڈکیتی
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

کراچی میں ایک اور بڑی ڈکیتی، مسلح ملزمان نے خواتین کو یرغمال بنا لیا

شہر قائد ایک بار پھر سنگین جرائم کی لپیٹ میں آ گیا ہے، جہاں ڈاکوؤں نے بے خوف ہو کر ایک اور بڑی واردات انجام دیتے ہوئے شہریوں کے جان و مال کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ تازہ واقعہ تھانہ بھٹائی نگر کی حدود میں واقع گلستانِ سجاد کے علاقے میں پیش آیا، جہاں مسلح ڈاکوؤں نے دن دہاڑے ایک رہائشی گھر کو نشانہ بنایا اور قیمتی زیورات و نقد رقم لوٹ کر فرار ہو گئے۔

پولیس ذرائع کے مطابق واردات محمد علی نامی شہری کے گھر میں پیش آئی، جہاں دو مسلح ملزمان نے اس وقت دھاوا بولا جب گھر میں خواتین موجود تھیں۔ ملزمان اسلحے کے زور پر گھر میں داخل ہوئے اور خواتین کو یرغمال بنا کر شدید خوف و ہراس میں مبتلا کر دیا۔ عینی شاہدین کے مطابق ملزمان انتہائی منظم اور پُراعتماد انداز میں واردات کرتے رہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ پیشہ ور جرائم پیشہ تھے۔

دورانِ واردات ڈاکوؤں نے گھر میں موجود تقریباً 20 تولہ سونا، جس میں زیورات اور دیگر قیمتی اشیاء شامل تھیں، کے علاوہ بھاری مقدار میں نقد رقم بھی لوٹ لی۔ واردات کے بعد ملزمان بڑی آسانی سے موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، جس پر علاقے کے مکینوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی، جائے واردات کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے گئے اور فارنزک ٹیم کی مدد سے شواہد محفوظ کر لیے گئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ علاقے میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل کی جا رہی ہے تاکہ ملزمان کی شناخت ممکن بنائی جا سکے۔

پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات کے بعد مختلف پہلوؤں سے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے، جبکہ ملزمان کی تلاش کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔ پولیس حکام کا دعویٰ ہے کہ جلد ہی ملزمان کو گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا، تاہم شہریوں کا کہنا ہے کہ اس قسم کے بیانات پہلے بھی دیے جاتے رہے ہیں لیکن جرائم میں کمی نہیں آ سکی۔

یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ کراچی میں حالیہ دنوں کے دوران ڈکیتی اور چوری کی وارداتوں میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ چند روز قبل شہر کے پوش علاقے محمد علی سوسائٹی میں رواں سال 2026 کی سب سے بڑی چوری کی واردات سامنے آئی تھی، جس نے سیکیورٹی انتظامات پر کئی سوالات کھڑے کر دیے تھے۔

محمد علی سوسائٹی میں پیش آنے والی اس واردات میں دو گھریلو ملازماؤں نے اعتماد کو ٹھیس پہنچاتے ہوئے گھر سے 100 تولے سے زائد سونا چرا کر فرار ہو گئیں۔ پولیس کے مطابق چرائے گئے سونے کی مالیت ساڑھے چار کروڑ روپے سے زائد بتائی گئی، جو اسے سال 2026 کی اب تک کی سب سے بڑی چوری کی واردات بناتی ہے۔

اس واقعے کا مقدمہ بہادر آباد تھانے میں درج کر لیا گیا تھا، جبکہ پولیس نے ملزمہ ملازماؤں کی تلاش کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے۔ تاہم، شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ گھریلو ملازمین کی مناسب جانچ پڑتال نہ ہونا بھی ان وارداتوں کی ایک بڑی وجہ بنتا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق شہر میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری، مہنگائی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی محدود استعداد نے جرائم پیشہ عناصر کو کھل کھیلنے کا موقع فراہم کر دیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں اور گھروں کے اندر بھی سکون سے رہنا مشکل ہو گیا ہے۔

علاقہ مکینوں نے پولیس گشت بڑھانے، مشتبہ افراد کی نگرانی اور سیکیورٹی نظام کو مؤثر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ شہریوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ صرف بیانات اور اعلانات سے جرائم کا خاتمہ ممکن نہیں، بلکہ عملی اقدامات اور فوری انصاف کی فراہمی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

سماجی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر بروقت اور سخت کارروائی نہ کی گئی تو یہ جرائم مزید سنگین صورت اختیار کر سکتے ہیں۔ عوام نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شہر میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کریں تاکہ شہریوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

فی الحال پولیس کی جانب سے تحقیقات جاری ہیں اور متاثرہ خاندان انصاف کا منتظر ہے، جبکہ شہر بھر کے شہری یہ سوال کر رہے ہیں کہ آخر کب کراچی میں امن بحال ہو گا اور کب جرائم پیشہ عناصر کو حقیقی معنوں میں قانون کے شکنجے میں لایا جائے گا۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]