پاکستان سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال

پاکستان سٹاک مارکیٹ میں تیزی
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

پاکستان سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، ایک لاکھ 83 ہزار پوائنٹس کی حد بحال

پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں ایک بار پھر زبردست تیزی دیکھنے میں آئی ہے اور ہنڈرڈ انڈیکس نے ایک لاکھ 83 ہزار پوائنٹس کی اہم نفسیاتی حد دوبارہ عبور کر لی ہے، جو سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے اور ملکی معیشت میں بہتری کی امیدوں کا واضح مظہر ہے۔ کاروباری ہفتے کے چوتھے روز جیسے ہی کاروبار کا آغاز ہوا، مارکیٹ میں خریداری کا دباؤ نمایاں طور پر دیکھا گیا اور ابتدائی لمحات میں ہی 1000 سے زائد پوائنٹس کا شاندار اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

کاروبار کے آغاز پر پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس تیزی کے ساتھ اوپر کی جانب بڑھتا رہا اور ایک موقع پر ایک لاکھ 83 ہزار 717 پوائنٹس کی سطح تک پہنچ گیا۔ مارکیٹ میں اس غیر معمولی تیزی نے نہ صرف مقامی بلکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کی توجہ بھی حاصل کر لی، جس سے ٹریڈنگ والیم میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

ماہرین کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں حالیہ تیزی کی بنیادی وجوہات میں معاشی اشاریوں میں بہتری، حکومتی پالیسیوں پر بڑھتا ہوا اعتماد، آئی ایم ایف پروگرام کے حوالے سے مثبت پیش رفت، اور شرح سود میں ممکنہ کمی کی توقعات شامل ہیں۔ ان عوامل نے مجموعی طور پر سرمایہ کاروں کے جذبات کو مضبوط کیا اور انہیں مارکیٹ میں بھرپور سرمایہ کاری کی جانب راغب کیا۔

بینکاری، توانائی، سیمنٹ، آئل اینڈ گیس اور ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبے تیزی میں سب سے آگے رہے۔ خاص طور پر بڑے بینکوں اور تیل و گیس کی کمپنیوں کے شیئرز میں نمایاں خریداری دیکھنے میں آئی، جس سے انڈیکس کو اوپر لے جانے میں اہم کردار ادا کیا۔ سرمایہ کاروں کا ماننا ہے کہ ان شعبوں کی مالی کارکردگی آئندہ سہ ماہیوں میں مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔

کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے معاشی استحکام کے لیے کیے گئے اقدامات اب نتائج دینا شروع ہو گئے ہیں۔ روپے کی قدر میں استحکام، کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری جیسے عوامل نے سرمایہ کاروں کے خدشات کو کم کیا ہے۔ اسی وجہ سے اسٹاک مارکیٹ ایک بار پھر سرمایہ کاری کے لیے پرکشش بنتی جا رہی ہے۔

اس کے علاوہ عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں استحکام اور خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں کمی نے بھی مارکیٹ پر مثبت اثرات مرتب کیے ہیں۔ غیر ملکی سرمایہ کار، جو ماضی میں غیر یقینی صورتحال کے باعث محتاط تھے، اب دوبارہ پاکستانی مارکیٹ میں دلچسپی لیتے دکھائی دے رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایک لاکھ 83 ہزار پوائنٹس کی سطح عبور کرنا محض ایک عددی کامیابی نہیں بلکہ یہ مارکیٹ کے مجموعی رجحان میں مثبت تبدیلی کی علامت ہے۔ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو آئندہ دنوں میں اسٹاک مارکیٹ مزید نئی بلندیاں بھی چھو سکتی ہے۔ تاہم ماہرین سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے کا مشورہ بھی دے رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ قلیل مدتی منافع کے بجائے طویل مدتی سرمایہ کاری پر توجہ دی جائے۔

کاروباری دن کے دوران ٹریڈنگ کا رجحان خاصا سرگرم رہا اور شیئرز کی خرید و فروخت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ چھوٹے سرمایہ کاروں کے ساتھ ساتھ بڑے ادارہ جاتی سرمایہ کار بھی مارکیٹ میں متحرک نظر آئے، جس سے مارکیٹ کی مجموعی لیکویڈیٹی میں بہتری آئی۔

معاشی ماہرین کے مطابق اگر حکومت مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھتی ہے، اصلاحات کا عمل جاری رہتا ہے اور سیاسی استحکام قائم رہتا ہے تو اسٹاک مارکیٹ میں یہ تیزی طویل عرصے تک برقرار رہ سکتی ہے۔ اس کے برعکس کسی بھی غیر متوقع سیاسی یا معاشی بحران کی صورت میں مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا خدشہ موجود رہے گا۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں حالیہ تیزی معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے، جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ سرمایہ کار مستقبل کے حوالے سے پُرامید ہیں۔ ایک لاکھ 83 ہزار پوائنٹس کی سطح کی بحالی نہ صرف مارکیٹ کے اعتماد کو ظاہر کرتی ہے بلکہ یہ ملکی معیشت کے استحکام کی جانب ایک اہم قدم بھی سمجھی جا رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا یہ رفتار برقرار رہتی ہے یا مارکیٹ کسی نئے رجحان کی طرف بڑھتی ہے، تاہم موجودہ صورتحال سرمایہ کاروں کے لیے حوصلہ افزا ضرور ہے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]