کوئٹہ کسٹمز انفورسمنٹ کی بڑی کارروائی، منشیات کی بھاری کھیپ برآمد

کوئٹہ کسٹمز انفورسمنٹ منشیات کارروائی
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

کوئٹہ کسٹمز انفورسمنٹ کی بڑی کارروائی، 469 ملین روپے مالیت کی منشیات اور گاڑی ضبط

کسٹمز انفورسمنٹ کوئٹہ نے منشیات اسمگلنگ کے خلاف ایک اور بڑی اور کامیاب کارروائی کرتے ہوئے اسمگلرز کے منظم نیٹ ورک کو زبردست دھچکا پہنچایا ہے۔ اس کارروائی کے دوران منشیات کی بھاری کھیپ برآمد کر لی گئی، جس کی مالیت کروڑوں روپے بتائی جا رہی ہے۔ یہ اہم اور فیصلہ کن کارروائی کلیکٹر کسٹمز انفورسمنٹ کوئٹہ کرم الٰہی کی براہِ راست نگرانی اور قیادت میں انجام دی گئی، جس نے ادارے کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور مستعدی کو ایک بار پھر ثابت کر دیا۔

ذرائع کے مطابق 16 جنوری 2026 کو کسٹمز انفورسمنٹ کوئٹہ کو قابلِ اعتماد اور مصدقہ خفیہ اطلاع موصول ہوئی، جس میں بتایا گیا تھا کہ منشیات کی ایک بڑی کھیپ بلوچستان کے مختلف راستوں سے منتقل کی جا رہی ہے۔ اس اطلاع کی بنیاد پر فوری طور پر ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی، جس نے FEU مانیکوا کے مقام پر ناکہ بندی کر کے مشکوک گاڑیوں کی کڑی نگرانی شروع کر دی۔

اسی دوران ایک ٹویوٹا پک اپ کو روک کر تلاشی لی گئی۔ تلاشی کے دوران گاڑی کے خفیہ خانوں اور سامان کے نیچے سے 155 کلوگرام اعلیٰ کوالٹی حشیش/چرس برآمد ہوئی، جو جدید اور محفوظ F/O پیکنگ میٹریل میں انتہائی مہارت کے ساتھ پیک کی گئی تھی تاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظروں سے بچایا جا سکے۔ ابتدائی تخمینے کے مطابق برآمد شدہ منشیات کی مالیت 465 ملین روپے کے لگ بھگ ہے، جو اس کارروائی کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتی ہے۔

کارروائی کے دوران منشیات کی ترسیل میں استعمال ہونے والی ٹویوٹا پک اپ (رجسٹریشن نمبر C-5269) کو بھی تحویل میں لے لیا گیا، جس کی مالیت تقریباً 40 لاکھ روپے بتائی جاتی ہے۔ اس طرح برآمد شدہ منشیات اور ضبط شدہ گاڑی کی مجموعی مالیت 469 ملین روپے بنتی ہے، جو کسٹمز انفورسمنٹ کوئٹہ کی حالیہ بڑی ضبطگیوں میں سے ایک ہے۔

کسٹمز حکام کے مطابق اسمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف کسٹمز ایکٹ اور انسدادِ منشیات قوانین کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، جبکہ گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے۔ تفتیش کے دوران اسمگلنگ نیٹ ورک، سہولت کاروں اور ممکنہ سرحد پار روابط کا بھی سراغ لگایا جا رہا ہے تاکہ اس غیر قانونی کاروبار کو جڑ سے ختم کیا جا سکے۔

یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ چند روز قبل بھی کسٹمز انفورسمنٹ کوئٹہ نے ایک اور کامیاب کارروائی کے دوران 22 کلوگرام ہیروئن برآمد کی تھی، جسے بروقت کارروائی کے ذریعے مارکیٹ میں پہنچنے سے پہلے ہی ناکام بنا دیا گیا۔ ان مسلسل کامیاب کارروائیوں سے واضح ہوتا ہے کہ کوئٹہ کلیکٹریٹ اسمگلنگ، بالخصوص منشیات کی غیر قانونی ترسیل کے خلاف نہایت سنجیدہ، فعال اور مؤثر حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت پورے پاکستان میں اسمگلنگ کے واقعات میں نمایاں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے، جس کا تمام تر کریڈٹ چیف کلیکٹر کسٹمز انفورسمنٹ باسط مسعود عباسی کو جاتا ہے۔ ان کی مضبوط قیادت، جدید نگرانی کے نظام اور مؤثر انٹیلی جنس نیٹ ورک کی بدولت ملک بھر کی کسٹمز انفورسمنٹ کلیکٹریٹس مسلسل بڑی بڑی ضبطگیاں کر رہی ہیں اور منشیات سمیت دیگر ممنوعہ اشیاء کی اسمگلنگ میں ملوث گروہوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری ہیں۔

کسٹمز انفورسمنٹ حکام کا کہنا ہے کہ منشیات نہ صرف ملکی معیشت کو نقصان پہنچاتی ہیں بلکہ نوجوان نسل کے مستقبل کے لیے بھی سنگین خطرہ ہیں۔ اسی لیے ادارہ زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت منشیات، اسمگل شدہ اشیاء اور غیر قانونی تجارت کے خلاف اپنی کارروائیاں مزید تیز کرے گا۔ سرحدی علاقوں، اہم شاہراہوں اور حساس مقامات پر نگرانی بڑھا دی گئی ہے، جبکہ جدید ٹیکنالوجی اور تربیت یافتہ عملے کی مدد سے اسمگلنگ کے نئے طریقوں کا بھی مؤثر توڑ کیا جا رہا ہے۔

آخر میں کسٹمز انفورسمنٹ کوئٹہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اسمگلنگ یا کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ اداروں کو دیں، تاکہ معاشرے کو منشیات اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں سے پاک کیا جا سکے۔ ادارے نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ قومی مفاد، قانون کی بالادستی اور عوام کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھایا جاتا رہے گا۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]