اسلام آباد فائر سیفٹی عمارتیں، 50 فیصد سے زائد ہائی رائز بلڈنگز غیر محفوظ

اسلام آباد فائر سیفٹی عمارتیں
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہائی رائز عمارتوں کی فائر سیفٹی پر سنگین سوالات اٹھ گئے

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بلند و بالا عمارتوں کی فائر سیفٹی صورتحال کے حوالے سے ایک تشویشناک انکشاف سامنے آیا ہے، جہاں 50 فیصد سے زائد عمارتوں میں آگ سے بچاؤ کے بنیادی آلات مکمل یا مؤثر طور پر نصب نہیں ہیں۔ یہ انکشاف کیپیٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی جانب سے کیے گئے ابتدائی سروے میں ہوا ہے، جس نے شہری تحفظ اور انتظامی نگرانی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

ذرائع کے مطابق سی ڈی اے نے اسلام آباد میں واقع ہائی رائز عمارتوں کا ابتدائی سروے کیا، جس میں 15 میٹر سے زائد بلند عمارتوں کو ہائی رائز کیٹیگری میں شامل کیا گیا۔ اس سروے کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ وفاقی دارالحکومت میں 500 سے زائد ہائی رائز عمارتیں موجود ہیں، تاہم ان میں سے نصف سے زیادہ عمارتیں فائر سیفٹی کے مقررہ معیار پر پورا نہیں اترتیں۔

سروے رپورٹ کے مطابق اسلام آباد کی بڑی تعداد میں سرکاری اور نجی عمارتوں میں بلڈنگ سیفٹی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ ہائی رائز عمارتوں میں فائر الارم سسٹم، فائر ایکسٹنگوئشر، فائر ہوز ریل، ایمرجنسی ایگزٹ اور دیگر ضروری حفاظتی آلات یا تو موجود نہیں یا غیر فعال حالت میں پائے گئے۔ ماہرین کے مطابق کسی بھی ہنگامی صورتحال میں یہ غفلت بڑے جانی و مالی نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ تشویشناک پہلو یہ بھی ہے کہ ریڈ زون جیسے حساس اور اعلیٰ سکیورٹی والے علاقوں میں واقع متعدد ہائی رائز عمارتوں میں بھی فائر سیفٹی کے آلات مکمل نہیں ہیں۔ فیڈرل سیکرٹریٹ کے متعدد بلاکس میں فائر الارم سسٹم اور آگ بجھانے کے دیگر جدید آلات کی عدم موجودگی سامنے آئی ہے، جو سرکاری دفاتر میں حفاظتی انتظامات پر سوالیہ نشان ہے۔

سروے کے مطابق کراچی کمپنی کے علاقے میں واقع ہائی رائز عمارتوں میں فائر سیفٹی انتظامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اسی طرح ایف 11، ایف 10، جی 13، جی 14 اور گولڑہ موڑ کے علاقوں میں بھی بلند عمارتوں میں حفاظتی اقدامات غیر مؤثر قرار دیے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق صرف بلو ایریا کی چند ہائی رائز عمارتوں میں فائر سیفٹی انتظامات کسی حد تک تسلی بخش پائے گئے، تاہم وہاں بھی مکمل معیار پر پورا اترنے والی عمارتوں کی تعداد محدود ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہائی رائز عمارتوں میں فائر سیفٹی نظام کی عدم موجودگی شہریوں کی جانوں کو براہِ راست خطرے میں ڈالتی ہے۔ آگ لگنے کی صورت میں بروقت الارم، فائر فائٹنگ آلات اور واضح ایمرجنسی اخراجی راستوں کی عدم دستیابی حادثے کو بڑے سانحے میں تبدیل کر سکتی ہے۔ ماضی میں ملک کے مختلف شہروں میں پیش آنے والے واقعات اس خطرے کی سنگینی کو مزید واضح کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ اسلام آباد میں ہائی رائز عمارتوں میں فائر سیفٹی انتظامات کی جانچ پڑتال اور نگرانی کی ذمہ داری سی ڈی اے کے بلڈنگ کنٹرول سیکشن پر عائد ہوتی ہے۔ قوانین کے مطابق کسی بھی بلند عمارت کو نقشہ منظوری اور تکمیل کے مراحل میں فائر سیفٹی کے تمام تقاضے پورے کرنا لازمی ہیں، تاہم سروے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ عملی سطح پر ان قوانین پر مؤثر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔

شہری حلقوں اور ماہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ سی ڈی اے فوری طور پر ہائی رائز عمارتوں کا تفصیلی آڈٹ کرے، قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی عمارتوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے اور فائر سیفٹی نظام کو فعال بنانے کے لیے ڈیڈ لائنز مقرر کی جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو کسی بڑے حادثے کی صورت میں ناقابلِ تلافی نقصان کا خدشہ موجود ہے۔

یہ سروے وفاقی دارالحکومت میں شہری تحفظ، منصوبہ بندی اور انتظامی نگرانی کے نظام پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے اور اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ متعلقہ ادارے محض رپورٹس تک محدود رہنے کے بجائے عملی اور فوری اصلاحی اقدامات کو یقینی بنائیں۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]