طبی معائنے کے لیے عمران خان کو پمز اسپتال لایا گیا،آنکھوں کے اسپیشلسٹس کا معائنہ تقریباً 20 منٹ پر مشتمل تھا :عطا تارڑ

طبی معائنے کے لیے عمران خان کو پمز اسپتال منتقل کیا
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

طبی معائنے کے لیے عمران خان کو پمز اسپتال لایا گیا،آنکھوں کے اسپیشلسٹس کا معائنہ تقریباً 20 منٹ پر مشتمل تھا :عطا تارڑ عطا تارڑ کی تصدیق

اسلام آباد : وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کو طبی معائنے کے لیے اسلام آباد کے پمز اسپتال منتقل کیے جانے کی تصدیق کر دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ معائنہ معمول کے طبی عمل کا حصہ تھا اور عمران خان کی صحت مکمل طور پر تسلی بخش ہے۔

سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے عطا تارڑ نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے آنکھوں کے ماہر ڈاکٹروں نے اڈیالہ جیل میں عمران خان کا ابتدائی معائنہ کیا تھا۔ ماہرین کی سفارش پر مزید تفصیلی جانچ کے لیے ا عمران خان کو پمز اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں آنکھوں کے اسپیشلسٹس نے ان کا طبی معائنہ کیا۔ یہ پورا عمل تقریباً 20 منٹ پر مشتمل تھا۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری
سیشن کورٹ اسلام آباد کا وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے خلاف بڑا عدالتی حکم

وفاقی وزیر اطلاعات کے مطابق طبی معائنے کے بعد عمران خان کو پمز اسپتال میں ضروری ہدایات دی گئیں اور معمول کے مطابق دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ دورانِ معائنہ عمران خان کی حالت مستحکم رہی اور کسی قسم کی ہنگامی صورتحال درپیش نہیں آئی۔

عطا تارڑ نے کہا کہ عمران خان بالکل صحت مند ہیں اور ان کی صحت کے حوالے سے سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی افواہوں میں کوئی صداقت نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت جیل قوانین کے مطابق تمام قیدیوں کو طبی سہولیات فراہم کرنے کی پابند ہے اور عمران خان کو بھی دیگر قیدیوں کی طرح ڈاکٹر تک مکمل رسائی حاصل ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ قیدیوں کے طبی معائنے کا عمل ایک معمول کی قانونی اور انتظامی کارروائی ہے، جسے سیاسی رنگ دینا مناسب نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ عمران خان کے طبی معائنے میں کسی قسم کی غیر معمولی بات نہیں تھی اور نہ ہی ان کی صحت ایسی تھی جس پر تشویش کی جائے۔

واضح رہے کہ گزشتہ چند دنوں سے سوشل میڈیا پر یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ عمران خان کو پمز اسپتال منتقل کیا گیا ہے، تاہم ان خبروں پر حکومت کی جانب سے باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی تھی۔ عطا تارڑ کے بیان کے بعد ان خبروں کی تصدیق ہو گئی ہے اور ساتھ ہی عمران خان کی صحت سے متعلق پھیلنے والی قیاس آرائیوں کا بھی خاتمہ ہو گیا ہے۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ بھی جیل قوانین اور طبی ضوابط کے تحت قیدیوں کو درکار طبی سہولیات فراہم کی جاتی رہیں گی، اور اس حوالے سے کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔

 
[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]