پاکستان بمقابلہ آسٹریلیا پہلا ٹی ٹوئنٹی: پاکستان کا 169 رنز کا ہدف

پاکستان بمقابلہ آسٹریلیا پہلے ٹی ٹوئنٹی میں پاکستانی بیٹنگ
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

لاہور میں کھیلے گئے پہلے ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان کی جانب سے 168 رنز، آسٹریلیا کو جیت کے لیے 169 رنز درکار

لاہور: پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان تین میچز پر مشتمل ٹی ٹوئنٹی سیریز کے پہلے میچ میں پاکستان نے مقررہ 20 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 168 رنز اسکور کر کے آسٹریلیا کو جیت کے لیے 169 رنز کا ہدف دے دیا۔ قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے جا رہے اس میچ میں شائقین کی بڑی تعداد اسٹیڈیم میں موجود رہی اور دونوں ٹیموں کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے کو ملا۔

پاکستان کے کپتان سلمان علی آغا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا، تاہم ان کا یہ فیصلہ آغاز میں درست ثابت نہ ہو سکا۔ پاکستانی اننگز کا آغاز انتہائی مایوس کن رہا اور میچ کی پہلی ہی گیند پر اوپنر صاحبزادہ فرحان بغیر کوئی رن بنائے پویلین لوٹ گئے۔ اس ابتدائی نقصان نے ایک لمحے کے لیے پاکستانی ڈریسنگ روم اور شائقین کو تشویش میں مبتلا کر دیا۔

ابتدائی وکٹ گرنے کے بعد صائم ایوب اور کپتان سلمان علی آغا نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کیا اور اننگز کو سنبھالنے کی کوشش کی۔ دونوں بلے بازوں نے محتاط انداز اپناتے ہوئے اسکور کو آگے بڑھایا اور باؤنڈریز کے ذریعے رن ریٹ کو بہتر رکھا۔ صائم ایوب نے خاص طور پر دلکش اسٹروکس کھیلے اور آسٹریلوی بولرز پر دباؤ برقرار رکھا۔

دونوں کے درمیان اہم شراکت قائم ہوئی، تاہم 74 کے مجموعی اسکور پر صائم ایوب 40 رنز کی شاندار اننگز کھیل کر آؤٹ ہو گئے۔ ان کی اننگز میں خوبصورت چوکے اور ایک چھکا شامل تھا، جس نے پاکستانی اننگز کو استحکام فراہم کیا۔ صائم ایوب کے آؤٹ ہونے کے بعد پاکستانی بیٹنگ لائن ایک بار پھر دباؤ کا شکار ہو گئی۔

کپتان سلمان علی آغا نے ایک اینڈ سنبھالے رکھا، مگر وہ بھی 39 رنز بنا کر پویلین واپس لوٹ گئے۔ اس کے بعد پاکستان کے تجربہ کار بیٹر بابر اعظم کریز پر آئے، جن سے شائقین کو بڑی اننگز کی امید تھی، تاہم وہ 24 رنز ہی بنا سکے اور ایڈم زمپا کی گیند پر آؤٹ ہو گئے۔

بابر اعظم کے آؤٹ ہونے کے بعد پاکستان کی وکٹیں وقفے وقفے سے گرتی رہیں۔ فخر زمان صرف 10 رنز بنا سکے جبکہ عثمان خان نے 18 رنز کی مختصر مگر مزاحمتی اننگز کھیلی۔ آل راؤنڈر شاداب خان ایک رن بنا کر آؤٹ ہو گئے، جب کہ شاہین شاہ آفریدی بغیر کوئی رن بنائے پویلین واپس لوٹ گئے، جس سے پاکستانی بیٹنگ لائن کو شدید نقصان پہنچا۔

ان حالات میں محمد نواز نے آخری اوورز میں ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور 15 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے۔ ان کی محتاط بیٹنگ کی بدولت پاکستان مقررہ 20 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 168 رنز بنانے میں کامیاب رہا۔ اگرچہ پاکستان کی اننگز میں تسلسل کی کمی نظر آئی، تاہم مجموعی اسکور کو دفاع کے قابل قرار دیا جا رہا ہے۔

آسٹریلیا کی جانب سے بولنگ میں ایڈم زمپا نمایاں رہے، جنہوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 24 رنز کے عوض 4 قیمتی وکٹیں حاصل کیں۔ ان کی اسپن بولنگ نے پاکستانی بیٹرز کو کھل کر کھیلنے کا موقع نہیں دیا۔ اس کے علاوہ بارلیٹ اور بیئرڈمین نے بھی عمدہ بولنگ کرتے ہوئے دو، دو وکٹیں حاصل کیں اور پاکستانی رن ریٹ کو قابو میں رکھا۔

واضح رہے کہ آسٹریلوی ٹیم کی قیادت اس میچ میں ٹریوس ہیڈ کر رہے ہیں۔ آسٹریلیا کی جانب سے تین کھلاڑیوں نے اس میچ کے ذریعے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کرکٹ میں ڈیبیو کیا، جن میں ماہلی بیئرڈمین، جیک ایڈورڈز اور میتھیو رنشا شامل ہیں۔ نوجوان کھلاڑیوں کی شمولیت نے آسٹریلوی ٹیم کو ایک نیا اور متوازن روپ دیا ہے۔

پاکستان کی پلئینگ الیون میں صائم ایوب، صاحبزادہ فرحان، سلمان علی آغا (کپتان)، بابر اعظم، فخر زمان، عثمان خان، شاداب خان، محمد نواز، شاہین شاہ آفریدی، سلمان مرزا اور ابرار احمد شامل ہیں۔ پاکستانی ٹیم نوجوان اور تجربہ کار کھلاڑیوں کے امتزاج کے ساتھ میدان میں اتری ہے، جس کا مقصد سیریز میں فتح کے ساتھ اعتماد حاصل کرنا ہے۔

ماہرین کے مطابق قذافی اسٹیڈیم کی پچ بیٹنگ کے لیے مناسب ہے، تاہم دوسری اننگز میں اسپنرز کو مدد مل سکتی ہے۔ ایسے میں پاکستانی بولرز کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ ابتدائی اوورز میں وکٹیں حاصل کریں اور آسٹریلوی بیٹرز پر دباؤ ڈالیں۔

169 رنز کا ہدف اگرچہ بہت بڑا نہیں، لیکن ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں دفاع کے قابل ضرور ہے، بشرطیکہ پاکستانی بولرز نظم و ضبط کا مظاہرہ کریں۔ شائقین کرکٹ کو اب ایک سنسنی خیز مقابلے کی توقع ہے جہاں پاکستان اپنی بولنگ کے بل بوتے پر برتری حاصل کرنے کی کوشش کرے گا جبکہ آسٹریلیا ہدف کے تعاقب میں جارحانہ انداز اپنائے گا۔

یہ میچ نہ صرف سیریز کے آغاز کے لیے اہم ہے بلکہ آنے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی تیاریوں کے تناظر میں بھی دونوں ٹیموں کے لیے ایک اہم امتحان کی حیثیت رکھتا ہے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]