پی ایس ایکس میں تیزی کے بعد مندی، انڈیکس 1700 پوائنٹس گر گیا، ڈالر نیچے آ گیا
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج کاروباری ہفتے کے دوران ملا جلا رجحان دیکھنے میں آیا، جہاں سرمایہ کاروں کی جانب سے محتاط رویہ اختیار کیا گیا۔ کاروبار کے آغاز پر مارکیٹ میں مثبت فضا قائم نظر آئی اور بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 300 پوائنٹس تک کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد انڈیکس 1 لاکھ 88 ہزار 686 پوائنٹس کی سطح تک پہنچ گیا۔ ابتدائی سیشن میں خریداری کا رجحان نمایاں رہا، جس سے سرمایہ کاروں میں عارضی اعتماد نظر آیا۔
تاہم یہ تیزی زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی اور کاروبار کے دوران اچانک فروخت کا دباؤ بڑھ گیا، جس کے نتیجے میں 100 انڈیکس میں 1722 پوائنٹس کی نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔ مندی کے اس دباؤ کے باعث انڈیکس کم ہو کر ایک لاکھ 86 ہزار 658 پوائنٹس کی سطح پر ٹریڈ کرتا دیکھا گیا۔ مارکیٹ میں اس اچانک اتار چڑھاؤ نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا جبکہ مختصر مدت کے سرمایہ کار منافع سمیٹنے میں مصروف دکھائی دیے۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اس وقت غیر یقینی کیفیت پائی جا رہی ہے، جس کی بڑی وجوہات میں عالمی مالیاتی منڈیوں کا دباؤ، جغرافیائی کشیدگی، مقامی معاشی چیلنجز اور آنے والے مالیاتی فیصلوں سے متعلق بے یقینی شامل ہے۔ ابتدائی سیشن میں مثبت رجحان کی ایک وجہ منتخب شعبوں میں خریداری اور کچھ بڑی کمپنیوں کے حصص میں بہتری تھی، تاہم بعد ازاں سرمایہ کاروں نے محتاط حکمت عملی اپناتے ہوئے فروخت کو ترجیح دی۔
واضح رہے کہ گزشتہ کاروباری روز کے اختتام پر پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا 100 انڈیکس 188,380 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا تھا۔ آج مارکیٹ میں آنے والا اتار چڑھاؤ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ سرمایہ کار اس وقت طویل مدتی سرمایہ کاری کے بجائے قلیل مدتی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں اور کسی بھی غیر متوقع خبر یا اشارے پر فوری ردعمل دے رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں بینکنگ، توانائی، سیمنٹ اور آئل اینڈ گیس کے شعبے خاص طور پر دباؤ کا شکار رہے، جس کے باعث مجموعی انڈیکس پر منفی اثر پڑا۔ اس کے برعکس کچھ شعبوں میں محدود خریداری دیکھی گئی، تاہم وہ مجموعی مندی کا رخ تبدیل کرنے میں ناکام رہی۔
سرمایہ کار حلقوں کے مطابق حالیہ دنوں میں سونے کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافے، عالمی سطح پر محفوظ اثاثوں کی جانب بڑھتے رجحان اور روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ نے بھی اسٹاک مارکیٹ کے مزاج کو متاثر کیا ہے۔ بہت سے سرمایہ کار اس وقت اسٹاک مارکیٹ کے بجائے سونے اور دیگر محفوظ سرمایہ کاری کے مواقع کو ترجیح دے رہے ہیں، جس سے حصص کی خریداری میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔
دوسری جانب زرمبادلہ کی مارکیٹ سے نسبتاً مثبت خبر سامنے آئی ہے۔ ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے مطابق انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی قدر میں معمولی کمی واقع ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ڈالر ایک پیسے سستا ہو گیا، جس کے بعد انٹربینک میں ڈالر 279 روپے 80 پیسے کی سطح پر ٹریڈ کرتا دیکھا گیا۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ ڈالر میں یہ کمی معمولی ہے، تاہم اسے روپے کے لیے ایک نفسیاتی سہارا ضرور قرار دیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ برآمدات میں بہتری، ترسیلات زر میں استحکام اور زرمبادلہ کے ذخائر سے متعلق مثبت توقعات نے ڈالر پر دباؤ کو کسی حد تک کم کیا ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی سمت کا انحصار متعدد عوامل پر ہوگا، جن میں عالمی مارکیٹس کا رجحان، مہنگائی کے اعداد و شمار، شرح سود سے متعلق فیصلے اور حکومتی معاشی پالیسیوں کی وضاحت شامل ہے۔ اگر معاشی اشاریے مثبت رہے تو مارکیٹ میں دوبارہ تیزی کا امکان پیدا ہو سکتا ہے، تاہم غیر یقینی صورتحال برقرار رہنے کی صورت میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری رہنے کا خدشہ ہے۔
ڈالر کی قیمت کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ فوری طور پر کسی بڑے اتار چڑھاؤ کا امکان کم دکھائی دیتا ہے، تاہم عالمی سطح پر ڈالر کی مضبوطی، تیل کی قیمتوں اور درآمدی ادائیگیوں کے دباؤ کے باعث روپے کو محتاط سپورٹ کی ضرورت رہے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ پالیسی سطح پر استحکام اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی ہی روپے اور اسٹاک مارکیٹ دونوں کے لیے مثبت ثابت ہو سکتی ہے۔
مجموعی طور پر آج کا دن پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے لیے اتار چڑھاؤ سے بھرپور رہا، جہاں ابتدائی تیزی کے بعد مندی نے مارکیٹ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ سرمایہ کار اس وقت واضح سمت کے منتظر ہیں اور کسی بھی بڑے معاشی یا پالیسی فیصلے سے قبل محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ آنے والے دنوں میں مارکیٹ کی سمت کا تعین اہم معاشی اشاروں اور عالمی رجحانات کی روشنی میں ہوگا۔

