اسلام آباد پی آئی اے نجکاری معاہدے پر دستخط کی تقریب، اس موقع پر وزیراعظم اور آرمی چیف کی بھی شرکت

پی آئی اے نجکاری معاہدے پر دستخط کی تقریب اسلام آباد
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

اسلام آباد پی آئی اے نجکاری معاہدے پر دستخط کی تقریب، اس موقع پر وزیراعظم اور آرمی چیف کی بھی شرکت

اسلام آباد : پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کے عمل میں ایک اہم سنگِ میل عبور کر لیا گیا ہے۔ اسلام آباد میں منعقدہ ایک باوقار تقریب کے دوران پی آئی اے کے 75 فیصد حصص کے حصول سے متعلق لین دین کے پی آئی اے نجکاری معاہدے پر باضابطہ دستخط کر دیے گئے۔ تقریب میں وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز و آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی موجود تھے۔

حکام کے مطابق عارف حبیب کارپوریشن لمیٹڈ نے دسمبر میں پی آئی اے کے 75 فیصد حصص 135 ارب روپے میں خریدنے کی کامیاب بولی دی تھی، جس کے بعد اب نجکاری کے عمل کو عملی شکل دے دی گئی ہے۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا بہاولپور گیریژن کا دورہ میں فیلڈ مشق اسٹیڈفاسٹ ریزولو کا مشاہدہ کرتے ہوئے
چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا بہاولپور گیریژن کا دورہ

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری کا عمل شفاف، منظم اور قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے مکمل کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امید ہے اس فیصلے کے بعد قومی ایئرلائن کی عظمت بحال ہوگی اور مسافروں کو بہتر سہولتیں فراہم کی جائیں گی، جس سے ادارے کے وقار میں اضافہ ہوگا۔ وزیراعظم نے نجکاری کے عمل میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور حکومتی ٹیم کے کردار کو بھی سراہا۔

وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے اس موقع پر وزیراعظم اور آرمی چیف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی رہنمائی اور مکمل تعاون کے بغیر پی آئی اے کی نجکاری کا یہ مرحلہ طے کرنا ممکن نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ آج کی تقریب موجودہ حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے میں ایک نہایت اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔

محمد علی کے مطابق اس پی آئی اے نجکاری معاہدے کے تحت کنسورشیم مجموعی طور پر 180 ارب روپے کی سرمایہ کاری کرے گا، جو تقریباً 650 ملین امریکی ڈالر کے برابر ہے۔ اس سرمایہ کاری میں سے 125 ارب روپے، یعنی تقریباً 450 ملین ڈالر، براہِ راست پی آئی اے میں لگائے جائیں گے، جبکہ 55 ارب روپے، جو تقریباً 200 ملین ڈالر بنتے ہیں، حکومت کو ادا کیے جائیں گے۔

حکام کا کہنا ہے کہ نجکاری کے بعد پی آئی اے کے مالی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، آپریشنل کارکردگی بہتر کرنے اور بین الاقوامی معیار کی سروس فراہم کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے گی، تاکہ قومی ایئرلائن کو دوبارہ منافع بخش ادارہ بنایا جا سکے۔

 
[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]