آبنائے ہرمز پر تعاون نہ کیا تو نیٹو کا مستقبل ختم ہو جائے گا: ٹرمپ

نیٹو کا مستقبل
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

ٹرمپ کی اتحادیوں کو آخری وارننگ؛ آبنائے ہرمز کی حفاظت میں مدد نہ ملی تو نیٹو کا مستقبل داؤ پر لگ جائے گا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنے اتحادیوں کو کڑے الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اگر انہوں نے عالمی اہمیت کی حامل سمندری گزرگاہ، آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے میں امریکہ کا ساتھ نہ دیا تو نیٹو کا مستقبل تاریک ہو سکتا ہے۔ برطانوی اخبار کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ عالمی تیل کی ترسیل کو یقینی بنانا صرف امریکہ کی ذمہ داری نہیں ہے، اور اگر اتحادی ممالک نے اپنا حصہ نہ ڈالا تو امریکہ اس فوجی اتحاد کی اہمیت پر نظر ثانی کر سکتا ہے۔

ایران کے ساتھ مذاکرات کی ناکامی کا خدشہ

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگرچہ امریکہ اس وقت ایران کے ساتھ سفارتی رابطے میں ہے، لیکن انہیں فی الحال تہران کی جانب سے کسی بڑے معاہدے یا لچک کی امید نظر نہیں آتی۔ ان کے بقول، ایرانی حکام فی الحال کسی بامعنی مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ٹرمپ نے زور دیا کہ جب تک خطے میں طاقت کا توازن برقرار نہیں ہوتا اور نیٹو کا مستقبل محفوظ بنانے والے ممالک عملی اقدامات نہیں کرتے، تب تک ایران کے رویے میں تبدیلی مشکل ہے۔

سات ممالک سے رابطے اور اسرائیل کا تعاون

وائٹ ہاؤس کے مطابق، امریکہ اس وقت آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی کے حوالے سے تقریباً سات اہم ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ ان ممالک سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس تزویراتی آبی گزرگاہ کی حفاظت کے لیے اپنے جنگی بحری جہاز روانہ کریں۔ ٹرمپ نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ اس مشن میں اسرائیل مکمل طور پر امریکہ کے ساتھ کھڑا ہے اور ہر ممکن تعاون کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو ممالک اس راستے سے فائدہ اٹھاتے ہیں، انہیں اپنی ذمہ داری بھی پوری کرنی ہوگی، ورنہ نیٹو کا مستقبل خطرے میں رہے گا۔

شی جنگ پنگ سے ملاقات میں تاخیر کا امکان

صدر ٹرمپ نے ایک اہم اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ رواں ماہ کے آخر میں چینی صدر شی جنگ پنگ کے ساتھ طے شدہ ملاقات میں تاخیر ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چینی صدر سے ملاقات اسی صورت میں سود مند ہوگی جب چین اور دیگر بڑے ممالک آبنائے ہرمز کی حفاظت کو یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہوں۔ انہوں نے باور کرایا کہ عالمی تجارت کا تحفظ اجتماعی ذمہ داری ہے، اور اس سے پہلو تہی کرنے کی صورت میں نیٹو کا مستقبل بری طرح متاثر ہو سکتا ہے۔

اتحادی ممالک کا مایوس کن ردعمل

یاد رہے کہ اس سے قبل امریکہ نے جنوبی کوریا، جاپان، فرانس، چین اور برطانیہ سمیت کئی ممالک سے اپیل کی تھی کہ وہ اپنے جنگی جہاز ہرمز کے علاقے میں بھیجیں۔ تاہم، صدر ٹرمپ کی اس اپیل پر اب تک عالمی برادری کی جانب سے خاموشی یا انکار ہی سامنے آیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق فرانس، برطانیہ، جاپان اور آسٹریلیا نے باضابطہ طور پر اپنے جہاز بھیجنے سے معذرت کر لی ہے، جس سے ٹرمپ کے غصے میں اضافہ ہوا ہے اور انہوں نے براہِ راست نیٹو کا مستقبل ختم ہونے کی دھمکی دے دی ہے۔

عالمی تیل کی ترسیل اور بحری سیکیورٹی

صدر ٹرمپ نے انٹرویو میں بارہا اس بات پر زور دیا کہ امریکہ کب تک دوسرے ممالک کے مفادات کا تحفظ اکیلے کرتا رہے گا؟ ان کا کہنا تھا کہ اگر جاپان اور چین جیسے ممالک کا تیل یہاں سے گزرتا ہے تو وہ خود اپنے جہاز کیوں نہیں بھیجتے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ امریکہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے اور اگر اتحادیوں نے اب بھی اپنا کردار ادا نہ کیا تو نیٹو کا مستقبل وہ نہیں رہے گا جو آج ہے۔

آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے امریکا چین سے مدد مانگنے پر مجبور ہو گیا: عباس عراقچی

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے اس بیان نے مغربی دفاعی اتحاد کے اندر ایک نیا بحران پیدا کر دیا ہے۔ اگر واشنگٹن واقعی پیچھے ہٹتا ہے تو نیٹو کا مستقبل مکمل طور پر ختم ہو سکتا ہے، جس کے عالمی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یورپی ممالک اور دیگر اتحادی ٹرمپ کی اس سنگین وارننگ کا کیا جواب دیتے ہیں اور کیا وہ آبنائے ہرمز میں اپنے بیڑے بھیجنے پر تیار ہوتے ہیں یا نہیں۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]