اسلام آباد میں اہم ملاقات: پاکستان ریلوے اصلاحات اور عوامی سہولیات میں بہتری پر زور
پاکستان ریلوے اصلاحات کے عمل کو مزید تیز کرنے کے لیے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں محمد شہباز شریف سے محمد حنیف عباسی نے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں وزارت ریلوے کے جاری منصوبوں، اصلاحاتی اقدامات اور مستقبل کی حکمت عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران وفاقی وزیر برائے ریلوے نے وزیراعظم کو پاکستان ریلوے کی موجودہ کارکردگی، مالی صورتحال اور جاری ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے جامع بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے شروع کیے گئے مختلف اصلاحاتی اقدامات کے نتیجے میں ریلوے کے شعبے میں نمایاں بہتری آ رہی ہے، جس سے نہ صرف مسافروں کو سہولت مل رہی ہے بلکہ قومی معیشت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر پاکستان ریلوے اصلاحات کو حکومت کی ترجیحات میں شامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام کو معیاری، محفوظ اور آرام دہ سفری سہولیات فراہم کرنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ریلوے کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے تاکہ مسافروں کو عالمی معیار کی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
وزیراعظم نے خاص طور پر ٹرینوں کی وقت کی پابندی، صفائی کے نظام اور سکیورٹی انتظامات کو بہتر بنانے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسافروں کا اعتماد بحال کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، اور اس کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے ریلوے اسٹیشنز کی اپ گریڈیشن، جدید ٹکٹنگ سسٹم اور ڈیجیٹل سہولیات متعارف کرانے کی بھی ہدایت کی۔
پاکستان ریلوے اصلاحات کے حوالے سے ایک اور اہم پہلو فریٹ سروس کا فروغ ہے۔ وزیراعظم نے اس شعبے کو مزید فعال بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مال برداری کے نظام کو بہتر بنانے سے نہ صرف ریلوے کی آمدنی میں اضافہ ہوگا بلکہ سڑکوں پر ٹریفک کا دباؤ بھی کم ہوگا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ فریٹ ٹرینوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے اور صنعتوں کے ساتھ روابط کو مزید مضبوط بنایا جائے۔
وفاقی وزیر حنیف عباسی نے وزیراعظم کو بتایا کہ ریلوے میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دیا جا رہا ہے، جس میں آن لائن ٹکٹنگ، خودکار سسٹمز اور ڈیجیٹل مانیٹرنگ شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات سے نہ صرف شفافیت بڑھے گی بلکہ کرپشن کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔
ملاقات میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ ریلوے کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لیے نئے ٹریکس بچھائے جائیں اور پرانے نظام کی اپ گریڈیشن کی جائے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ان منصوبوں کو مقررہ وقت میں مکمل کیا جائے تاکہ عوام جلد از جلد ان سہولیات سے مستفید ہو سکیں۔
وزیراعظم نے پاکستان ریلوے اصلاحات کے تحت کیے گئے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ملک کے ٹرانسپورٹ نظام کو جدید بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریلوے ایک سستا اور محفوظ ذریعہ نقل و حمل ہے، جسے مزید بہتر بنانے سے عوام کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔
مزید برآں، ملاقات میں باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جن میں ملکی معیشت، ٹرانسپورٹ پالیسی اور عوامی سہولیات شامل ہیں۔ وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت عوامی مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔
ماہرین کے مطابق اگر پاکستان ریلوے اصلاحات کو مؤثر انداز میں نافذ کیا گیا تو نہ صرف ریلوے کا نظام بہتر ہوگا بلکہ ملکی معیشت کو بھی تقویت ملے گی۔ اس کے علاوہ، ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بہتری سے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں شروع کیے گئے پاکستان ریلوے اصلاحات کے اقدامات ملک کے ٹرانسپورٹ نظام میں ایک مثبت تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر ان منصوبوں پر مستقل مزاجی کے ساتھ عملدرآمد جاری رکھا گیا تو مستقبل میں پاکستان ریلوے ایک جدید اور مؤثر ادارہ بن کر ابھر سکتا ہے۔

