آزادی صحافت عالمی دن: صدر اور وزیراعظم کا ذمہ دار صحافت پر زور، فیک نیوز بڑا خطرہ قرار
آزادی صحافت عالمی دن کے موقع پر پاکستان کی اعلیٰ قیادت نے میڈیا کے کردار اور ذمہ داریوں پر زور دیتے ہوئے فیک نیوز، پروپیگنڈے اور ڈس انفارمیشن کے بڑھتے ہوئے خطرات کے خلاف متفقہ مؤقف پیش کیا ہے۔ اس اہم دن کے موقع پر صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے الگ الگ پیغامات میں صحافیوں پر زور دیا کہ وہ تصدیق شدہ معلومات کی فراہمی کو یقینی بنائیں اور معاشرے میں سچائی کے فروغ کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں واضح کیا کہ موجودہ دور میں جہاں ڈیجیٹل میڈیا تیزی سے ترقی کر رہا ہے، وہاں فیک نیوز اور غیرمستند اطلاعات کا پھیلاؤ ایک سنگین چیلنج بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پروپیگنڈہ، غلط معلومات اور غیر تصدیق شدہ خبروں کی ترسیل کو روکنا ہر صحافی کا بنیادی فرض ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امن و امان کا قیام صرف سفارت کاری سے ممکن نہیں بلکہ مستند معلومات اور ذمہ دار صحافت بھی اس میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ہمیشہ اختلافات کے حل کیلئے مکالمے اور مذاکرات کو ترجیح دیتا ہے۔ سفارتی سطح پر پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کے قیام کیلئے مثبت اقدامات کر رہا ہے۔ وزیراعظم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ قومی میڈیا نے مشکل حالات میں ہمیشہ ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، خاص طور پر حساس قومی معاملات میں میڈیا نے عوام کو بروقت اور درست معلومات فراہم کیں۔
وزیراعظم کے مطابق ڈیجیٹل پلیٹ فارمز آج کے دور میں رائے عامہ کی تشکیل میں انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں، لیکن ان پلیٹ فارمز کا غیر ذمہ دارانہ استعمال قومی ہم آہنگی اور عالمی ساکھ کیلئے خطرہ بن سکتا ہے۔ انہوں نے صحافیوں سے اپیل کی کہ وہ پیشہ ورانہ دیانت، تصدیق اور معیار کو برقرار رکھیں اور تیز رفتار خبروں کی دوڑ میں سچائی کو نظر انداز نہ کریں۔
دوسری جانب صدر مملکت آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ سچائی کے بغیر امن ممکن نہیں اور صحافت اس حوالے سے بنیادی ستون کی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈس انفارمیشن جمہوری مکالمے کو مسخ کر رہی ہے اور دنیا بھر میں صحافیوں کو دباؤ اور ہراسانی کا سامنا ہے، جو ایک تشویشناک رجحان ہے۔
صدر مملکت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا غیر ذمہ دارانہ استعمال معاشرتی انتشار کو بڑھا سکتا ہے، اس لئے ضروری ہے کہ میڈیا اور عوام دونوں ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ انہوں نے آئین کے آرٹیکل 19 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں آزادی صحافت کو آئینی تحفظ حاصل ہے اور حکومت اس کے فروغ کیلئے پرعزم ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آزاد میڈیا کسی بھی قوم کی مضبوطی کی علامت ہوتا ہے اور احتساب و شفافیت کیلئے اس کا کردار ناگزیر ہے۔ صدر زرداری نے زور دیا کہ صحافت میں رفتار کے بجائے درستگی کو ترجیح دی جانی چاہیے تاکہ عوام تک صحیح معلومات پہنچ سکیں۔
صدر مملکت نے پاکستان کے خلاف چلنے والی منظم جھوٹی مہمات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ قومی اتحاد کے ذریعے ان سازشوں کو ناکام بنایا گیا۔ انہوں نے میڈیا کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ صحافیوں نے حقائق کے ذریعے جھوٹ کا مؤثر جواب دیا اور عوام کو حقیقت سے آگاہ رکھا۔
اس موقع پر انہوں نے شہید صحافیوں کو خراج عقیدت پیش کیا اور مطالبہ کیا کہ صحافیوں کیلئے محفوظ اور سازگار ماحول فراہم کیا جائے تاکہ وہ بلاخوف و خطر اپنے فرائض انجام دے سکیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ میڈیا کو اعلیٰ اخلاقی معیار کو برقرار رکھنا ہوگا اور عوام کو بھی چاہیے کہ وہ جھوٹ کو مسترد کر کے سچ کا ساتھ دیں۔
ماہرین کے مطابق آزادی صحافت عالمی دن محض ایک علامتی دن نہیں بلکہ یہ اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ آزاد اور ذمہ دار میڈیا کسی بھی جمہوری معاشرے کیلئے کتنا اہم ہے۔ اس دن کا مقصد صحافیوں کو درپیش چیلنجز کو اجاگر کرنا اور ان کے حقوق کے تحفظ کیلئے اقدامات کو فروغ دینا ہے۔
پاکستان میں بھی میڈیا تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے معلومات تک رسائی کو آسان بنا دیا ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ غلط معلومات کے پھیلاؤ کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومتی قیادت اور ماہرین دونوں اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ صحافت میں ذمہ داری اور احتیاط کو یقینی بنایا جائے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ آزادی صحافت عالمی دن ہمیں اس بات کا احساس دلاتا ہے کہ سچائی، شفافیت اور ذمہ دارانہ رپورٹنگ ہی ایک مضبوط اور مستحکم معاشرے کی بنیاد ہیں۔ اگر میڈیا اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی انجام دے تو نہ صرف جمہوریت مضبوط ہوگی بلکہ قومی یکجہتی اور عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص بھی اجاگر ہوگا۔

