شمالی کوریا آئینی ترمیم: کم جونگ اُن پر حملے کی صورت میں خودکار ایٹمی جواب

شمالی کوریا آئینی ترمیم
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

شمالی کوریا کی خطرناک آئینی ترمیم، کم جونگ اُن کے قتل پر فوری ایٹمی حملے کا اعلان

شمالی کوریا آئینی ترمیم عالمی سطح پر ایک نئی تشویش بن کر سامنے آئی ہے، جس کے تحت ملک نے اپنے ایٹمی نظام کو مزید جارحانہ اور خودکار انداز میں فعال کرنے کا اعلان کیا ہے۔ نئی آئینی ترمیم کے مطابق اگر ملک کے سپریم لیڈر کم جونگ اُن کسی غیر ملکی حملے میں قتل ہو جاتے ہیں یا انہیں نشانہ بنایا جاتا ہے تو شمالی کوریا کی فوج فوری طور پر جوابی ایٹمی حملہ کرنے کی پابند ہوگی۔

‫برطانوی اخبار The Telegraph کی رپورٹ کے مطابق یہ حساس نوعیت کی آئینی ترمیم 22 مارچ کو پیانگ یانگ میں منعقد ہونے والے 15ویں سپریم پیپلز اسمبلی کے پہلے اجلاس میں منظور کی گئی۔ اس حوالے سے معلومات جنوبی کوریا کی نیشنل انٹیلی جنس سروس کی بریفنگ کے ذریعے سامنے آئیں۔‬

رپورٹ کے مطابق شمالی کوریا نے اس آئینی ترمیم کے ذریعے دنیا کو واضح پیغام دیا ہے کہ ملک کے سربراہ کو نشانہ بنانے کی کسی بھی کوشش کا جواب انتہائی سخت انداز میں دیا جائے گا۔ نئی ترمیم کے بعد شمالی کوریا کا ایٹمی نظام مبینہ طور پر “آٹو میٹک موڈ” پر منتقل کر دیا گیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ مخصوص حالات میں ایٹمی کارروائی فوری اور خودکار انداز میں ممکن ہوگی۔

ماہرین کے مطابق یہ اقدام عالمی سلامتی کیلئے انتہائی خطرناک تصور کیا جا رہا ہے کیونکہ اس سے کسی بھی ممکنہ تنازعے کے دوران ایٹمی جنگ کے خدشات بڑھ سکتے ہیں۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب دنیا پہلے ہی مختلف جغرافیائی سیاسی تنازعات کا سامنا کر رہی ہے، شمالی کوریا کا یہ فیصلہ عالمی طاقتوں کیلئے تشویش کا باعث بن گیا ہے۔

جنوبی کوریا اور مغربی ممالک کی انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق کم جونگ اُن اپنی ذاتی سکیورٹی کے حوالے سے انتہائی محتاط رہتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ وہ ہمیشہ بھاری سکیورٹی حصار میں رہتے ہیں، فضائی سفر سے حتی الامکان گریز کرتے ہیں اور زیادہ تر سفر بکتر بند خصوصی ٹرین کے ذریعے کرتے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کی یہ آئینی ترمیم دراصل قیادت کے تحفظ اور دشمن ممالک کو سخت پیغام دینے کی کوشش ہے۔ ماہرین کے مطابق پیانگ یانگ یہ تاثر دینا چاہتا ہے کہ اگر قیادت پر حملہ کیا گیا تو اس کا ردعمل فوری اور تباہ کن ہوگا۔

عالمی سطح پر اس خبر کے بعد مختلف ممالک میں تشویش کی لہر دیکھی جا رہی ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق کسی بھی ایٹمی نظام کو “خودکار ردعمل” کی پالیسی پر منتقل کرنا عالمی استحکام کیلئے خطرناک ہو سکتا ہے کیونکہ اس میں انسانی مداخلت کم ہونے کے باعث غلطی یا غیر متوقع صورتحال کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

شمالی کوریا گزشتہ کئی برسوں سے اپنے ایٹمی اور میزائل پروگرام کو مسلسل وسعت دے رہا ہے۔ ملک متعدد بار بین البراعظمی بیلسٹک میزائلوں کے تجربات بھی کر چکا ہے، جس پر عالمی پابندیاں عائد ہیں۔ اس کے باوجود پیانگ یانگ اپنی دفاعی پالیسی کو مزید سخت بنانے پر زور دیتا رہا ہے۔

جنوبی کوریا اور امریکا کی جانب سے ماضی میں بھی شمالی کوریا کے ایٹمی پروگرام پر شدید تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نئی آئینی ترمیم کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔

بین الاقوامی مبصرین کے مطابق شمالی کوریا کی یہ پالیسی دراصل “ڈیٹرنس” یعنی دشمن کو خوفزدہ رکھنے کی حکمت عملی کا حصہ ہے، تاکہ کوئی ملک شمالی کوریا کی قیادت یا عسکری تنصیبات پر حملے کا سوچ بھی نہ سکے۔

دوسری جانب انسانی حقوق کے عالمی ادارے اور امن تنظیمیں اس فیصلے کو خطرناک قرار دے رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں کا خودکار استعمال پوری دنیا کیلئے تباہ کن نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔

شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا نے اس ترمیم کو قومی سلامتی کیلئے ضروری اقدام قرار دیا ہے۔ حکومتی مؤقف کے مطابق بیرونی خطرات اور دشمن ممالک کی مبینہ سازشوں کے پیش نظر ایسے اقدامات ناگزیر ہیں۔

دفاعی ماہرین کے مطابق اس ترمیم کے بعد عالمی طاقتیں شمالی کوریا کی سرگرمیوں پر مزید کڑی نظر رکھیں گی۔ خاص طور پر خطے میں فوجی مشقوں، میزائل تجربات اور سفارتی سرگرمیوں میں اضافہ متوقع ہے۔

عالمی سیاست پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ شمالی کوریا اس اقدام کو دفاعی پالیسی قرار دے رہا ہے، لیکن اس کے اثرات عالمی امن اور سلامتی پر دور رس ہو سکتے ہیں۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ شمالی کوریا آئینی ترمیم نے دنیا بھر میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ کم جونگ اُن کی سکیورٹی اور ایٹمی ردعمل سے متعلق یہ فیصلہ مستقبل میں عالمی سیاست اور سلامتی کی صورتحال پر اہم اثرات مرتب کر سکتا ہے۔


متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]