بجلی بل سبسڈی ختم: 2027 سے صرف بی آئی ایس پی مستحقین کو رعایت ملے گی

بجلی بل سبسڈی ختم ہونے سے متعلق پاکستان میں بجلی صارفین کی فائل فوٹو
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

حکومت کا 2027 سے بجلی بلوں پر کراس سبسڈی ختم کرنے کا فیصلہ

بجلی بل سبسڈی ختم کرنے کے حکومتی فیصلے نے ملک بھر کے بجلی صارفین میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ وفاقی حکومت نے یکم جنوری 2027 سے بجلی بلوں پر دی جانے والی ان ٹارگٹڈ کراس سبسڈی ختم کرنے کا اصولی فیصلہ کرلیا ہے، جس کے تحت اب صرف مستحق افراد کو ہی رعایتی بجلی فراہم کی جائے گی۔

‫ذرائع کے مطابق حکومت نے یہ اہم فیصلہ عالمی مالیاتی ادارے International Monetary Fund کے ساتھ ہونے والے مذاکرات اور مالیاتی اصلاحات کے تحت کیا ہے۔ نئی پالیسی کے مطابق اب بجلی کی سبسڈی صرف ان صارفین کو ملے گی جو Benazir Income Support Programme میں رجسٹرڈ ہوں گے اور مستحق قرار پائیں گے۔‬

حکومت نے واضح کیا ہے کہ موجودہ نظام کے تحت ماہانہ 300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو جو رعایت دی جاتی ہے، اسے یکم جنوری 2027 سے مکمل طور پر ختم کردیا جائے گا۔ اس کے بعد بجلی بل پر موجود کیو آر کوڈ کے ذریعے صارفین کو بی آئی ایس پی میں رجسٹریشن کروانا ہوگی تاکہ وہ سبسڈی حاصل کرسکیں۔

پاور ڈویژن ذرائع کے مطابق موجودہ سبسڈی نظام میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔ کئی گھروں میں دو یا تین بجلی میٹرز لگوا کر کم یونٹس کے ذریعے سستی بجلی حاصل کی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے پروٹیکٹڈ صارفین کی تعداد ایک کروڑ سے بڑھ کر تقریباً 2 کروڑ 20 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس صورتحال کے باعث قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑ رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق حکومت نے International Monetary Fund کو یقین دہانی کروائی ہے کہ آئندہ مالی سال سے 500 ارب روپے سے زائد کی پاور سبسڈی کو مرحلہ وار بی آئی ایس پی پروگرام میں منتقل کردیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد صرف حقیقی مستحقین تک مالی امداد پہنچانا اور غیر ضروری سبسڈی اخراجات کم کرنا ہے۔

پاور ڈویژن حکام کا کہنا ہے کہ اس نئے نظام کے تحت بجلی صارفین کا مکمل ڈیٹا بی آئی ایس پی ڈیٹا بیس سے منسلک کیا جائے گا تاکہ مستحق اور غیر مستحق صارفین کی واضح نشاندہی ہوسکے۔ اس مقصد کے لیے ایک جدید ڈیجیٹل سسٹم تیار کیا جا رہا ہے جس کی آزمائش رواں سال اگست تک مکمل کیے جانے کا امکان ہے۔

ماہرین معیشت کے مطابق حکومت کا یہ اقدام مالیاتی خسارہ کم کرنے اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات لانے کی کوشش ہے۔ پاکستان میں بجلی کے شعبے کو طویل عرصے سے گردشی قرضوں، لائن لاسز اور سبسڈی کے بوجھ جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ حکومت سمجھتی ہے کہ اگر سبسڈی صرف غریب اور مستحق طبقے تک محدود کردی جائے تو مالی دباؤ میں کمی لائی جا سکتی ہے۔

دوسری جانب عوامی حلقوں میں اس فیصلے پر ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ کئی صارفین کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے موجودہ دور میں بجلی سبسڈی ختم ہونے سے متوسط طبقہ شدید متاثر ہوگا۔ خصوصاً وہ خاندان جو 300 یونٹ تک بجلی استعمال کرتے ہیں، ان کے ماہانہ اخراجات میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔

توانائی ماہرین کے مطابق نئی پالیسی کے نفاذ کے بعد بجلی کے اصل نرخ صارفین پر منتقل کیے جائیں گے، جس سے بجلی بلوں میں خاطر خواہ اضافہ ہوسکتا ہے۔ تاہم حکومت کا مؤقف ہے کہ مستحق افراد کو بی آئی ایس پی کے ذریعے براہ راست مالی امداد فراہم کی جائے گی تاکہ کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف مل سکے۔

‫ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ حکومت نے International Monetary Fund سے ترقیاتی منصوبوں میں کلائمیٹ ترجیح کو 30 فیصد تک بڑھانے کا وعدہ بھی کیا ہے۔ اس پالیسی کا مقصد ماحول دوست توانائی منصوبوں کو فروغ دینا اور بجلی کے شعبے میں پائیدار اصلاحات لانا ہے۔‬

حکومت اگست 2026 تک نئے سبسڈی سسٹم کی آزمائش مکمل کرے گی جبکہ یکم جنوری 2027 سے اس کا باقاعدہ نفاذ شروع کردیا جائے گا۔ ماہرین کے مطابق آنے والے مہینوں میں بجلی صارفین کو اپنے ڈیٹا اور رجسٹریشن سے متعلق نئی ہدایات دی جائیں گی تاکہ وہ بروقت بی آئی ایس پی نظام کا حصہ بن سکیں۔

یہ فیصلہ پاکستان کے توانائی شعبے میں ایک بڑی پالیسی تبدیلی تصور کیا جا رہا ہے، جس کے اثرات آنے والے برسوں میں ملک کی معیشت، عوامی اخراجات اور بجلی کے نرخوں پر نمایاں طور پر مرتب ہو سکتے ہیں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]