راولپنڈی اسلام آباد میٹرو بس سروس معطل، ملازمین کا شدید احتجاج

راولپنڈی اسلام آباد میٹرو بس سروس کے ملازمین احتجاج کرتے ہوئے
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

میٹرو ملازمین کا دھرنا، راولپنڈی اسلام آباد میٹرو بس سروس بند ہوگئی

راولپنڈی اسلام آباد میٹرو بس سروس ملازمین کے شدید احتجاج کے باعث معطل ہوگئی، جس کے نتیجے میں ہزاروں شہریوں کو سفری مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ احتجاجی ملازمین نے برطرفیوں، تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور نئی کمپنی کو ٹھیکہ دیے جانے کے خلاف میٹرو ٹریک پر دھرنا دے کر بس سروس مکمل طور پر روک دی۔

تفصیلات کے مطابق راولپنڈی اور اسلام آباد کے درمیان چلنے والی میٹرو بس سروس معمول کے مطابق جاری تھی تاہم اچانک ملازمین کی بڑی تعداد نے احتجاج شروع کر دیا۔ مظاہرین نے مختلف اسٹیشنز اور ٹریک پر جمع ہو کر شدید نعرے بازی کی اور انتظامیہ کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرایا۔

احتجاج میں خواتین ملازمین نے بھی بھرپور شرکت کی۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ متعدد ملازمین کو اچانک ملازمتوں سے فارغ کر دیا گیا، حالانکہ ان کے کنٹریکٹس 2027 تک موجود تھے۔ ملازمین کے مطابق انہیں کسی پیشگی اطلاع یا قانونی کارروائی کے بغیر برطرف کیا گیا، جو سراسر ناانصافی ہے۔

احتجاجی ملازمین نے دعویٰ کیا کہ میٹرو بس سروس کا ٹھیکہ ایک نئی کمپنی کو دے دیا گیا ہے، جس کے بعد پرانے ملازمین کو مرحلہ وار فارغ کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئی کمپنی اپنے عملے کو لانا چاہتی ہے جبکہ موجودہ ملازمین کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

مظاہرین نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ دو ماہ سے ان کی تنخواہیں ادا نہیں کی گئیں، جس کے باعث ان کے گھریلو حالات شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ ملازمین کے مطابق مہنگائی کے موجودہ دور میں تنخواہوں کی عدم ادائیگی نے ان کے لیے مالی مشکلات پیدا کر دی ہیں۔

احتجاج کے دوران میٹرو ٹریک پر دھرنے کی وجہ سے بسوں کی آمد و رفت مکمل طور پر رک گئی۔ دفاتر، تعلیمی اداروں اور دیگر مقامات پر جانے والے ہزاروں شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ کئی مسافروں کو متبادل ٹرانسپورٹ استعمال کرنا پڑی جبکہ بعض افراد طویل انتظار کے بعد واپس گھروں کو لوٹ گئے۔

شہریوں کا کہنا تھا کہ میٹرو بس سروس روزانہ ہزاروں افراد کے لیے سستی اور تیز سفری سہولت فراہم کرتی ہے، لیکن اچانک سروس معطل ہونے سے معمولات زندگی متاثر ہوئے۔ متعدد شہریوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر مسئلے کا حل نکالے تاکہ عوام کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

احتجاجی ملازمین نے پنجاب کی وزیراعلیٰ Maryam Nawaz سے مطالبہ کیا کہ وہ معاملے کا فوری نوٹس لیں اور برطرف ملازمین کو انصاف فراہم کریں۔ مظاہرین نے کہا کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔

ٹرانسپورٹ ماہرین کے مطابق میٹرو بس سروس راولپنڈی اور اسلام آباد کے درمیان پبلک ٹرانسپورٹ کا ایک اہم ذریعہ ہے، جس سے روزانہ لاکھوں شہری مستفید ہوتے ہیں۔ اس سروس کی بندش نہ صرف عوامی مشکلات میں اضافہ کرتی ہے بلکہ شہر میں ٹریفک کا دباؤ بھی بڑھا دیتی ہے۔

دوسری جانب انتظامیہ کی جانب سے تاحال احتجاج اور برطرفیوں کے معاملے پر کوئی تفصیلی مؤقف سامنے نہیں آیا، تاہم ذرائع کے مطابق صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے مذاکرات کی کوششیں جاری ہیں۔

مقامی ذرائع کے مطابق پولیس اور انتظامیہ کے حکام بھی موقع پر پہنچے اور مظاہرین سے مذاکرات کیے تاکہ میٹرو ٹریک کو خالی کرایا جا سکے اور بس سروس دوبارہ بحال کی جا سکے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ اداروں میں ملازمین کے مسائل کو بروقت حل کرنا ضروری ہوتا ہے کیونکہ ایسے احتجاج براہ راست عوامی زندگی کو متاثر کرتے ہیں۔ اگر ملازمین کے تحفظات کو سنجیدگی سے نہ لیا جائے تو مستقبل میں مزید بحران پیدا ہو سکتے ہیں۔

راولپنڈی اسلام آباد میٹرو بس سروس کی بندش کے بعد شہریوں نے سوشل میڈیا پر بھی شدید ردعمل دیا۔ کئی صارفین نے ملازمین کے مطالبات کو جائز قرار دیتے ہوئے حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا، جبکہ بعض افراد نے عوامی مشکلات پر تشویش کا اظہار کیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق پبلک ٹرانسپورٹ منصوبے شہری زندگی کا اہم حصہ ہوتے ہیں، اس لیے ان میں انتظامی شفافیت، ملازمین کے حقوق اور بروقت ادائیگیوں کو یقینی بنانا انتہائی ضروری ہے۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک احتجاج جاری رکھیں گے جب تک ان کی ملازمتیں بحال نہیں کی جاتیں اور بقایا تنخواہیں ادا نہیں کی جاتیں۔ دوسری جانب شہریوں کو امید ہے کہ حکومت جلد از جلد مسئلے کا حل نکال کر میٹرو بس سروس دوبارہ بحال کرے گی تاکہ روزمرہ زندگی معمول پر آ سکے۔

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]