ٹک ٹاکر ثناء یوسف قتل کیس کا فیصلہ، مرکزی ملزم عمر حیات کو سزائے موت

ٹک ٹاکر ثناء یوسف قتل کیس کی عدالتی کارروائی
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

ٹک ٹاکر ثناء یوسف قتل کیس کا فیصلہ، مرکزی ملزم عمر حیات کو سزائے موت

اسلام آباد (فائزہ یونس ) : وفاقی دارالحکومت کے انتہائی حساس اور سوشل میڈیا پر طویل عرصے تک زیرِ بحث رہنے والے ٹک ٹاکر ثناء یوسف قتل کیس کا بالآخر فیصلہ سنا دیا گیا۔ اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے مرکزی ملزم عمر حیات کو جرم ثابت ہونے پر سزائے موت اور 20 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔

ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکہ نے 19 مئی 2026 کو محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ ملزم کے خلاف ناقابلِ تردید سائنسی اور ڈیجیٹل شواہد موجود ہیں۔ عدالتی فیصلے کے مطابق موبائل فون ریکارڈ، کال ڈیٹا، چیٹ اسکرین شاٹس اور دیگر فرانزک شواہد نے جرم ثابت کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

عدالت نے ٹک ٹاکر ثناء یوسف قتل کیس میں اپنے ریمارکس میں کہا کہ اس نوعیت کے جرائم معاشرے میں خوف و ہراس پیدا کرتے ہیں اور ان کی روک تھام کے لیے سخت سزائیں ضروری ہیں۔

ادویات اور فارماسیوٹیکل کیپسولز کے ساتھ عالمی منشیات کنٹرول کا تصور
بھارتی دوا ساز صنعت سے متعلق رپورٹ کے بعد عالمی سطح پر بحث شدت اختیار کر گئی

پراسیکیوشن نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم نے منصوبہ بندی کے تحت واردات کی اور بعد ازاں فرار ہونے کی کوشش بھی کرتا رہا۔ استغاثہ کے مطابق جدید فرانزک ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل شواہد نے کیس کو مضبوط بنایا۔

دوسری جانب ملزم عمر حیات نے صحت جرم سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقتولہ ثناء یوسف سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ملزم کے مطابق اس کا اعترافی بیان دباؤ کے تحت لیا گیا جبکہ اسے 3 جون 2025 کو جڑانوالہ سے شک کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا۔

17 سالہ ٹک ٹاکر ثناء یوسف کو 2 جون 2025 کو اسلام آباد کے سیکٹر جی-13 میں واقع گھر میں گولی مار کر قتل کیا گیا تھا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزم گھر میں داخل ہوا اور قریب سے فائرنگ کر کے فرار ہوگیا تھا۔

واقعے کے بعد ملک بھر میں شدید غم و غصہ پایا گیا جبکہ سوشل میڈیا پر “Justice for Sana Yousaf” مہم بھی چلائی گئی۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور سول سوسائٹی نے اس واقعے کو خواتین کے خلاف بڑھتے جرائم کی علامت قرار دیا تھا۔

پولیس نے تحقیقات کے دوران سی سی ٹی وی فوٹیجز، موبائل فون ریکارڈ، کال ڈیٹا اور سوشل میڈیا سرگرمیوں کا جائزہ لیا جبکہ تحقیقاتی ٹیم نے دعویٰ کیا کہ تکنیکی شواہد نے ملزم کی موجودگی ثابت کی۔

قانونی ماہرین کے مطابق ملزم کو اعلیٰ عدالتوں میں اپیل کا حق حاصل ہوگا، تاہم موجودہ فیصلہ اس مقدمے میں ایک اہم پیشرفت تصور کیا جا رہا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ ٹک ٹاکر ثناء یوسف قتل کیس نہ صرف ایک قتل مقدمہ بلکہ خواتین کے تحفظ، سوشل میڈیا شخصیات کی سکیورٹی اور ڈیجیٹل فرانزک شواہد کی اہمیت کے حوالے سے بھی ایک بڑی مثال بن چکا ہے۔

 
[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]