پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی، 100 انڈیکس میں 1644 پوائنٹس اضافہ

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں 100 انڈیکس میں تیزی کا منظر
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

اسٹاک مارکیٹ میں کاروباری تیزی، ڈالر بھی سستا ہو گیا

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے دوسرے روز سرمایہ کاروں کے اعتماد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کے باعث مارکیٹ میں زبردست تیزی ریکارڈ کی گئی۔ کاروبار کے دوران پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے بینچ مارک 100 انڈیکس میں 1644 پوائنٹس کا نمایاں اضافہ ہوا، جس کے بعد انڈیکس 1 لاکھ 63 ہزار 449 پوائنٹس کی سطح تک پہنچ گیا۔

مارکیٹ میں مثبت رجحان کے باعث سرمایہ کاروں کی بڑی تعداد متحرک رہی جبکہ مختلف شعبوں میں خریداری کا رجحان غالب رہا۔ معاشی ماہرین کے مطابق سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کی وجہ معاشی اشاریوں میں بہتری، مالیاتی استحکام کی توقعات اور بعض اہم شعبوں میں سرمایہ کاری کا بڑھتا رجحان ہے۔

کاروبار کے دوران اتار چڑھاؤ

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج کاروبار کے دوران 100 انڈیکس نے مختلف سطحوں کو چھوا۔ ابتدائی سیشن میں انڈیکس 1 لاکھ 63 ہزار 33 پوائنٹس کی نچلی سطح تک آیا، تاہم بعد ازاں خریداری کے دباؤ میں اضافے کے باعث مارکیٹ میں زبردست ریکوری دیکھنے میں آئی۔

کاروبار کے دوران انڈیکس 1 لاکھ 64 ہزار 309 پوائنٹس کی بلند ترین سطح تک بھی پہنچا، جو سرمایہ کاروں کے مثبت رجحان کی واضح عکاسی کرتا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ کاروباری روز 100 انڈیکس 1 لاکھ 61 ہزار 805 پوائنٹس پر بند ہوا تھا، جس کے مقابلے میں آج نمایاں بہتری دیکھی گئی۔

کن شعبوں میں تیزی رہی؟

مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق بینکنگ، آئل اینڈ گیس، سیمنٹ، توانائی اور ٹیکنالوجی سیکٹرز میں نمایاں خریداری دیکھنے میں آئی۔ ان شعبوں میں سرمایہ کاری کے بڑھتے رجحان نے مجموعی مارکیٹ کو اوپر لے جانے میں اہم کردار ادا کیا۔

بینکنگ سیکٹر میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی کی ایک وجہ شرح سود اور مالیاتی پالیسی سے متعلق مثبت توقعات بھی قرار دی جا رہی ہیں۔

معاشی استحکام کی توقعات

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں معیشت سے متعلق کچھ مثبت اشارے سامنے آئے ہیں، جن میں مہنگائی کی رفتار میں ممکنہ کمی، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ جاری مذاکرات شامل ہیں۔

ان عوامل نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بہتر بنایا ہے، جس کے باعث اسٹاک مارکیٹ میں تیزی دیکھنے کو مل رہی ہے۔

ڈالر کی قیمت میں کمی

دوسری جانب انٹر بینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی قیمت میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی۔ انٹر بینک میں ڈالر 3 پیسے سستا ہو کر 278 روپے 57 پیسے پر آ گیا۔

گزشتہ کاروباری روز انٹر بینک میں ڈالر 278 روپے 60 پیسے پر بند ہوا تھا، تاہم آج روپے کی قدر میں معمولی بہتری دیکھی گئی۔

کرنسی مارکیٹ کا رجحان

کرنسی مارکیٹ کے ماہرین کے مطابق درآمدی ادائیگیوں، زرمبادلہ کی آمد اور مرکزی بینک کی پالیسیوں کا براہ راست اثر ڈالر کی قیمت پر پڑتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر ترسیلات زر اور برآمدات میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو روپے کی قدر میں مزید استحکام آ سکتا ہے۔

سرمایہ کاروں کا اعتماد

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں حالیہ تیزی کو سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہی رجحان برقرار رہا تو مارکیٹ مزید نئی بلندیاں چھو سکتی ہے۔

مارکیٹ میں مقامی سرمایہ کاروں کے ساتھ ساتھ ادارہ جاتی سرمایہ کاری میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جو معیشت کے لیے مثبت اشارہ سمجھا جاتا ہے۔

ممکنہ خطرات

اگرچہ مارکیٹ میں تیزی دیکھی جا رہی ہے، تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور سیاسی حالات مارکیٹ پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

اس لیے سرمایہ کاروں کو محتاط انداز میں سرمایہ کاری کرنے اور مارکیٹ کے رجحانات پر مسلسل نظر رکھنے کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔

مستقبل کی صورتحال

مالیاتی ماہرین کے مطابق اگر حکومت معاشی اصلاحات، مالیاتی نظم و ضبط اور سرمایہ کاری دوست پالیسیوں کو جاری رکھتی ہے تو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مزید بہتری کا امکان موجود ہے۔

اسی طرح روپے کی قدر میں استحکام بھی معاشی اعتماد کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔

مجموعی طور پر پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے دوسرے روز مثبت رجحان دیکھا گیا، جہاں 100 انڈیکس میں 1644 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ انٹر بینک میں ڈالر کی قیمت میں معمولی کمی سامنے آئی۔

معاشی ماہرین کے مطابق اگر موجودہ رجحان برقرار رہا تو آنے والے دنوں میں اسٹاک مارکیٹ اور کرنسی مارکیٹ دونوں میں مزید استحکام دیکھنے کو مل سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]