ایمان مزاری شکایت چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ، انکوائری کمیٹی متحرک

ایمان مزاری شکایت چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور ایڈووکیٹ ایمان مزاری کے درمیان تلخ کلامی کے بعد معاملہ سنگین رخ اختیار کر گیا ہے۔ معروف وکیل اور سماجی کارکن ایمان مزاری شکایت چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے عنوان سے ہراسمنٹ کمیٹی تک لے کر گئی ہیں، جس نے ملکی عدلیہ اور عوامی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

پس منظر

گزشتہ ہفتے ایک عدالتی کارروائی کے دوران چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور ایمان مزاری کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔ بعد ازاں یہ معاملہ میڈیا کی سرخیوں میں آیا اور سوشل میڈیا پر بھی موضوع بحث بنا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کا ایمان مزاری سے مکالمہ
ایمان مزاری اور چیف جسٹس کے درمیان مکالمہ — توہین عدالت کی کارروائی کا امکان

شکایت جمع کرانا

نیوز کے مطابق ایمان مزاری نے خواتین سے ہراسمنٹ کی انکوائری کمیٹی، جس کی سربراہی جسٹس ثمن رفعت امتیاز کر رہی ہیں، میں تحریری شکایت جمع کروا دی ہے۔ شکایت چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے رویے پر مبنی ہے اور اس میں قانونی کارروائی کی درخواست کی گئی ہے۔

شکایت میں الزامات

ایمان مزاری نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ چیف جسٹس نے ان کے خلاف صنفی اور دھمکی آمیز ریمارکس دیے جو خواتین کے ہراسمنٹ سے تحفظ کے ایکٹ کے زمرے میں آتے ہیں۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کو ان الزامات کا مرتکب قرار دیا جائے۔

سپریم جوڈیشل کونسل سے رجوع

ایمان مزاری نے مزید مطالبہ کیا ہے کہ معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجا جائے تاکہ اعلیٰ عدالتی سطح پر بھی اس شکایت کی شفاف جانچ ہو سکے۔ یہ مطالبہ اس کیس کو مزید سنگین اور اہم بنا دیتا ہے۔

عدلیہ میں نئی بحث

یہ شکایت عدلیہ کے اندر خواتین کے احترام اور عدالتی رویے کے بارے میں نئی بحث چھیڑ رہی ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کمیٹی شکایت کو درست مانتی ہے تو یہ کیس مستقبل میں عدلیہ کی تاریخ میں ایک اہم حوالہ بن سکتا ہے۔

قانونی و سماجی اہمیت

ایمان مزاری شکایت چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے معاملے کو نہ صرف قانونی ماہرین بلکہ انسانی حقوق کے کارکن بھی قریب سے دیکھ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کیس کا فیصلہ مستقبل میں خواتین وکلاء اور عدالتوں میں کام کرنے والی خواتین کے لیے سنگ میل ثابت ہوگا۔

عوامی ردعمل

سوشل میڈیا پر مختلف حلقوں نے ایمان مزاری کے اقدام کو سراہا ہے جبکہ کچھ نے اسے عدلیہ کے وقار پر سوال اٹھانے کے مترادف قرار دیا ہے۔ عوامی سطح پر یہ معاملہ دو دھڑوں میں تقسیم نظر آ رہا ہے۔

مستقبل کے امکانات

اب سب کی نظریں ہراسمنٹ کمیٹی کی تحقیقات اور ممکنہ سفارشات پر ہیں۔ اگر یہ کیس سپریم جوڈیشل کونسل تک پہنچتا ہے تو یہ پاکستان کی عدالتی تاریخ میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے اہم پیش رفت ہو سکتی ہے۔

 ہراسمنٹ کمیٹی کی تحقیقات

کیوں نہ توہین عدالت کی کارروائی کروں، ڈکٹیٹر کیوں کہا، چیف جسٹس کا ایمان مزاری سے مکالمہ

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]