ضمنی انتخاب بہت پرامن رہا کوئی غیر معمولی ضمنی انتخاب کی شکایات موصول نہیں ہوئی :چیف الیکشن کمشنر

کوئی غیر معمولی ضمنی انتخاب کی شکایات موصول نہیں ہوئی
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

سیکیورٹی اقدامات مؤثر رہے: ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاتفریق ایکشن لیا، چیف الیکشن کمشنر نے ضمنی انتخاب کی شکایات پر تفصیلات دیں

چیف الیکشن کمشنر (CEC) سکندر سلطان راجا نے ملک میں منعقد ہونے والے حالیہ ضمنی انتخابات کی مجموعی صورتحال پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے سیکیورٹی کے مؤثر اقدامات پر صوبائی حکومتوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابی عمل مجموعی طور پر پرامن رہا اور کوئی غیر معمولی ضمنی انتخاب کی شکایات موصول نہیں ہوئی ہیں۔

ضمنی انتخاب رہا پرامن اور مؤثر

الیکشن کمیشن میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ، چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا نے ضمنی انتخابات کے حوالے سے اپنے تاثرات پیش کیے۔

  • امن و امان: انہوں نے کہا کہ "آج کا ضمنی انتخاب بہت پرامن رہا۔” انہوں نے اس کامیابی کا سہرا پنجاب اور خیبرپختونخوا کی حکومتوں کے مؤثر سیکیورٹی اقدامات کو دیتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔
  • شکایات کی نوعیت: چیف الیکشن کمشنر نے زور دیا کہ "آج کے ضمنی انتخاب میں کوئی غیر معمولی ضمنی انتخاب کی شکایات موصول نہیں ہوئی ہے۔” اگرچہ کچھ رپورٹس موصول ہوئی ہیں، لیکن ان کی نوعیت غیر معمولی نہیں تھی۔

ٹرن آؤٹ کی کم شرح کی وجوہات

سکندر سلطان راجا نے ضمنی انتخابات میں عمومی طور پر کم ٹرن آؤٹ کے بارے میں بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ ضمنی انتخابات میں ہمیشہ ٹرن آؤٹ کم رہتا ہے، جس کی بہت سی وجوہات ہوتی ہیں۔ ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ:

  • نمبر گیم میں تبدیلی نہیں: اس انتخاب سے نمبر گیم میں کوئی تبدیلی نہیں ہونی تھی، جس کی وجہ سے عوام کی دلچسپی کم رہی۔ جب انتخابی نتائج مجموعی سیاسی منظر نامے کو متاثر نہیں کرتے تو ووٹرز کی بڑی تعداد گھروں سے باہر نہیں نکلتی۔ ضمنی انتخاب کی شکایات کا کم ٹرن آؤٹ سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے۔

ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر بلا تفریق ایکشن

چیف الیکشن کمشنر نے واضح کیا کہ الیکشن کمیشن انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر انتہائی سخت مؤقف رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ:

  • ایکشن کا معیار: "ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کمیشن نے بلاتفریق ایکشن لیا۔”
  • رپورٹس اور نوٹس: انہوں نے تصدیق کی کہ ڈی آر اوز (ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسرز) نے بھی کچھ رپورٹس بھیجی ہیں، اور کچھ شکایات کا کمیشن نے خود نوٹس لیا ہے۔ یہ تمام اقدامات اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہیں کہ ضمنی انتخاب کی شکایات کا فوری ازالہ ہو اور انتخابی عمل کی شفافیت برقرار رہے۔

تالال چوہدری کا کیس اور آئینی دائرہ کار

سکندر سلطان راجا نے بتایا کہ طلال چوہدری کو کل طلب کیا گیا ہے اور کل ہی ان کی سماعت ہوگی۔ جو انہوں نے ماضی کے فیصلوں کا حوالہ بھی دیا، جہاں لوکل گورنمنٹ انتخابات میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر ایک وزیر اور ایک امیدوار کو نااہل کیا گیا تھا۔ یہ ان کے عزم کی نشاندہی کرتا ہے کہ الیکشن کمیشن سیاسی دباؤ سے بالاتر ہو کر فیصلے کرتا ہے۔

قومی و پنجاب اسمبلی کی 13 نشستوں پر ضمنی انتخابات، سخت سیکیورٹی میں پولنگ جاری

ضمنی انتخاب کی شکایات کے حوالے سے عالمی تناظر دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہر چیز کی ایک لیگل اسکیم ہے اور دنیا بھر میں انتخابات میں خلاف ورزیاں ہوتی رہتی ہیں۔ انہوں نے مزید واضح کیا کہ:

  • تجاویز: کمیشن وقتاً فوقتاً اپنی تجاویز حکومت کو بھیجتا رہتا ہے تاکہ انتخابی نظام کو بہتر بنایا جا سکے۔
  • اختیارات کی حدود: انہوں نے اپنی آئینی حدود کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ کمیشن کے پاس ٹربیونل کو ہدایات دینے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]