حکومت نے وفاقی بجٹ 2026-27 کی تیاری تیز کر دی، بجٹ 5 جون کو پیش کیے جانے کا امکان
پاکستان میں آئندہ مالی سال کے معاشی اہداف اور حکومتی پالیسیوں سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ذرائع کے مطابق وفاقی بجٹ 2026-27 پانچ جون کو قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ حکومت نے بجٹ کی تیاریوں کو حتمی شکل دینا شروع کر دی ہے جبکہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے ساتھ مشاورتی اجلاس بھی جاری ہیں۔
ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت 4 جون کو قومی اقتصادی سروے پیش کرنے کی تیاری کر رہی ہے، جس میں رواں مالی سال کی معاشی کارکردگی، ترقیاتی اہداف، زرعی پیداوار، صنعتی ترقی، مہنگائی، برآمدات، ٹیکس وصولیوں اور دیگر اہم اقتصادی اشاریوں کا جائزہ پیش کیا جائے گا۔
قومی اقتصادی سروے کی اہمیت
قومی اقتصادی سروے پاکستان کی سالانہ معاشی کارکردگی کی جامع رپورٹ ہوتی ہے، جسے بجٹ سے ایک روز قبل جاری کیا جاتا ہے۔ اس رپورٹ میں حکومت مختلف شعبوں میں اپنی کارکردگی اور آئندہ اہداف کا خاکہ پیش کرتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس سال کا اقتصادی سروے خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ پاکستان اس وقت معاشی استحکام، مہنگائی، قرضوں اور ٹیکس اصلاحات جیسے بڑے چیلنجز سے گزر رہا ہے۔
قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس
ذرائع نے بتایا ہے کہ Shehbaz Sharif کی زیر صدارت قومی اقتصادی کونسل (NEC) کا اجلاس 22 مئی کے بجائے اب 3 جون کو متوقع ہے۔
اس اجلاس میں آئندہ مالی سال کے ترقیاتی منصوبوں، بجٹ اہداف، صوبائی وسائل کی تقسیم اور معیشت سے متعلق اہم پالیسی فیصلوں کی منظوری دی جائے گی۔
پلان کوآرڈینیشن کمیٹی اجلاس
ذرائع کے مطابق سالانہ پلان کوآرڈینیشن کمیٹی (APCC) کا اجلاس بھی مقررہ تاریخ سے مؤخر کر دیا گیا ہے اور اب یہ یکم جون کو ہونے کا امکان ہے۔
اس اجلاس میں وفاقی اور صوبائی ترقیاتی منصوبوں، سرکاری اخراجات، پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (PSDP) اور سالانہ ترقیاتی اہداف پر غور کیا جائے گا۔
آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات
حکومت پاکستان اور International Monetary Fund کے درمیان بجٹ سے متعلق مذاکرات بھی جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے صوبوں سے مزید 400 ارب روپے آمدن بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت اور عالمی مالیاتی ادارے کے درمیان کئی اہم نکات پر اتفاق بھی ہو چکا ہے، تاہم بعض معاملات پر بات چیت جاری ہے، جن میں ٹیکس اصلاحات، سبسڈی، توانائی شعبے کی اصلاحات اور ریونیو اہداف شامل ہیں۔
📈 ٹیکس وصولیوں کے اہداف
ماہرین کے مطابق آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس وصولیوں کا بڑا ہدف مقرر کیے جانے کا امکان ہے۔ حکومت ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے، غیر دستاویزی معیشت کو رسمی نظام میں لانے اور ڈیجیٹل ٹیکس نظام کو فروغ دینے پر غور کر رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق ایف بی آر کو نئے مالی سال میں ریونیو بڑھانے کیلئے متعدد اقدامات تجویز کیے گئے ہیں، جن میں بعض شعبوں پر ٹیکس چھوٹ ختم کرنا بھی شامل ہو سکتا ہے۔
مہنگائی اور عوامی توقعات
پاکستان میں مہنگائی کی بلند شرح کے باعث عوام کی نظریں آئندہ بجٹ پر مرکوز ہیں۔ شہری توقع کر رہے ہیں کہ حکومت بجلی، گیس، پٹرول اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں ریلیف فراہم کرے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو ایک طرف آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنا ہوں گی جبکہ دوسری طرف عوامی دباؤ اور مہنگائی جیسے مسائل کا بھی سامنا رہے گا۔
ترقیاتی منصوبے اور PSDP
ذرائع کے مطابق آئندہ بجٹ میں انفراسٹرکچر، توانائی، تعلیم، صحت اور آئی ٹی سیکٹر کیلئے ترقیاتی فنڈز مختص کیے جا سکتے ہیں۔
حکومت پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (PSDP) کے تحت مختلف جاری اور نئے منصوبوں کیلئے وسائل مختص کرنے پر غور کر رہی ہے تاکہ معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔
عالمی معاشی صورتحال کا اثر
ماہرین معاشیات کے مطابق عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں، شرح سود اور جغرافیائی کشیدگی جیسے عوامل کا اثر بھی پاکستان کے بجٹ اور معاشی منصوبہ بندی پر پڑ رہا ہے۔
بجٹ میں ممکنہ تجاویز
تجزیہ کاروں کے مطابق آئندہ بجٹ میں درج ذیل تجاویز سامنے آ سکتی ہیں:
- ٹیکس نیٹ میں توسیع
- ڈیجیٹل معیشت کو فروغ
- سبسڈی نظام میں اصلاحات
- برآمدات بڑھانے کیلئے مراعات
- توانائی شعبے کی اصلاحات
- سرکاری اخراجات میں کمی
کاروباری طبقے کی توقعات
کاروباری برادری حکومت سے ٹیکسوں میں استحکام، صنعتی مراعات اور درآمدی پالیسیوں میں بہتری کی توقع کر رہی ہے۔ صنعتکاروں کا کہنا ہے کہ معاشی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے کاروبار دوست پالیسی ضروری ہے۔
مجموعی طور پر وفاقی بجٹ 2026-27 پاکستان کی معاشی سمت کے تعین میں اہم کردار ادا کرے گا۔ حکومت ایک ایسے بجٹ کی تیاری میں مصروف ہے جس میں ایک طرف آئی ایم ایف کی شرائط کو مدنظر رکھا جائے گا جبکہ دوسری جانب عوامی ریلیف، ترقیاتی منصوبوں اور معاشی استحکام پر بھی توجہ دی جائے گی


One Response