سونے کی قیمت آج: عالمی و مقامی مارکیٹ میں نیا ریکارڈ قائم

آج پاکستان میں سونے کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

عالمی اور مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

سونے کی قیمتیں ایک بار پھر عالمی اور مقامی سطح پر تمام سابقہ ریکارڈ توڑتے ہوئے تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں، جس کے باعث سرمایہ کاروں، تاجروں اور عام خریداروں میں گہری دلچسپی اور تشویش پائی جا رہی ہے۔ عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال، جغرافیائی کشیدگی، مہنگائی کے بڑھتے دباؤ اور کرنسی مارکیٹس میں اتار چڑھاؤ کے باعث قیمتی دھاتوں خصوصاً سونے کی طلب میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں منگل کے روز سونے کی قیمت میں 43 امریکی ڈالر فی اونس کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد عالمی مارکیٹ میں سونے کی نئی قیمت 4 ہزار 713 ڈالر فی اونس کی تاریخی سطح تک جا پہنچی۔ ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے سیاسی تنازعات، مشرق وسطیٰ اور یورپ میں کشیدگی، امریکی معیشت میں سودی شرحوں سے متعلق غیر یقینی اور ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ نے سرمایہ کاروں کو محفوظ سرمایہ کاری کی جانب راغب کیا ہے، جس کا سب سے بڑا فائدہ سونے کو ہو رہا ہے۔

عالمی منڈی کے اثرات مقامی سطح پر بھی پوری شدت سے محسوس کیے جا رہے ہیں۔ پاکستان کے مقامی صرافہ بازاروں میں 24 قیراط خالص سونے کی فی تولہ قیمت میں ایک ہی دن میں 4 ہزار 300 روپے کا بڑا اضافہ ہوا، جس کے بعد نئی قیمت 4 لاکھ 93 ہزار 662 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ اسی طرح فی 10 گرام سونے کی قیمت میں 3 ہزار 686 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد نئی قیمت 4 لاکھ 23 ہزار 235 روپے ہو گئی۔

ملکی صرافہ ایسوسی ایشنز کے مطابق روپے کی قدر میں مسلسل کمی، درآمدی اخراجات میں اضافہ، عالمی مارکیٹ کے اثرات اور مقامی طلب میں اضافے نے سونے کی قیمتوں کو نئی بلندیوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ خاص طور پر شادیوں کے سیزن اور سرمایہ کاری کے رجحان نے مقامی مارکیٹ میں سونے کی مانگ کو مزید تقویت دی ہے۔

دوسری جانب چاندی کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ ملک میں فی تولہ چاندی کی قیمت 87 روپے اضافے کے ساتھ 9 ہزار 869 روپے کی نئی بلند سطح پر پہنچ گئی، جب کہ فی 10 گرام چاندی کے نرخ 76 روپے بڑھ کر 8 ہزار 461 روپے ہو گئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صنعتی استعمال اور سرمایہ کاری دونوں حوالوں سے چاندی کی مانگ میں اضافے نے اس کی قیمتوں کو بھی اوپر کی جانب دھکیلا ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق اگر عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال برقرار رہی، ڈالر کمزور ہوا اور مہنگائی پر قابو نہ پایا جا سکا تو آنے والے دنوں میں سونے کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔ تاہم بعض ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ قیمتوں میں اس قدر تیز اضافے کے بعد کسی حد تک اصلاح (correction) کا امکان بھی موجود ہے۔

عوامی حلقوں میں سونے کی بڑھتی قیمتوں پر ملا جلا ردعمل پایا جا رہا ہے۔ ایک طرف سرمایہ کار اور سونا ذخیرہ کرنے والے افراد اس اضافے کو فائدہ مند قرار دے رہے ہیں، تو دوسری جانب متوسط طبقہ، خاص طور پر شادی بیاہ کے لیے زیورات خریدنے والے افراد شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ سناروں کے مطابق قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے باعث زیورات کی فروخت میں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے، جب کہ لوگ وزن کم کروا کر یا پرانے زیورات کے تبادلے پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو سونے اور چاندی کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ ملکی معیشت کے لیے ایک اہم اشارہ ہے، جو عالمی اور مقامی اقتصادی حالات کی عکاسی کرتا ہے۔ آنے والے دنوں میں مارکیٹ کا رخ عالمی سیاسی و معاشی فیصلوں، مرکزی بینکوں کی پالیسیوں اور مقامی کرنسی کی صورتحال سے مشروط رہے گا۔

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]