ایمان مزاری متنازع ٹویٹس کیس، فیصلے سے متنازع پیراگراف حذف کرنے کا حکم

ایمان مزاری متنازع ٹویٹس کیس میں عدالتی حکم، فیصلے سے پیراگراف حذف
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

متنازع ٹویٹس کیس میں اہم پیش رفت، عدالت کا فیصلے سے ایران و دیگر ممالک سے متعلق پیراگراف حذف کرنے کا حکم

ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف متنازع ٹویٹس کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں انسدادِ الیکٹرانک کرائم ایکٹ (PECA) کی عدالت نے اپنے فیصلے میں موجود ایک متنازع پیراگراف حذف کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ یہ حکم عدالت نے استغاثہ کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر جاری کیا، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ فیصلے میں شامل بعض جملے غلطی پر مبنی ہیں اور ان کا مقدمے کے حقائق یا فریقین کے حقوق سے کوئی تعلق نہیں بنتا۔

انسدادِ الیکٹرانک کرائم ایکٹ کی عدالت کے جج افضل مجوکہ نے درخواست کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد تحریری حکم نامہ جاری کیا۔ فیصلے کے مطابق استغاثہ نے نشاندہی کی تھی کہ فیصلے کے پیرا نمبر 36 میں چار ممالک، جن میں ایران سمیت دیگر ممالک کے نام شامل تھے، غلطی سے تحریر ہو گئے تھے۔ استغاثہ کے مطابق یہ پیراگراف نہ تو مقدمے کے قانونی نکات سے متعلق تھا اور نہ ہی اس کا کیس کے میرٹس سے کوئی براہ راست تعلق بنتا تھا، جس کے باعث اس کی موجودگی عدالتی فیصلے میں ابہام پیدا کر سکتی تھی۔

عدالت کے سامنے سٹینوگرافر کا تحریری جواب بھی پیش کیا گیا، جس میں انہوں نے وضاحت دی کہ فیصلے کی تیاری اور تصحیح کے دوران یہ جملہ دیگر چند جملوں کے ساتھ حذف کر دیا گیا تھا۔ تاہم حتمی پرنٹ کے وقت تکنیکی اور انسانی غلطی کے باعث وہی جملہ دوبارہ فیصلے میں شامل ہو گیا۔ سٹینوگرافر نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ اس غلطی میں کسی قسم کی بدنیتی یا دانستہ عمل شامل نہیں تھا بلکہ یہ محض ایک غیر ارادی تکنیکی غلطی تھی۔

عدالت نے سٹینوگرافر کے مؤقف اور استغاثہ کی درخواست کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہوئے قرار دیا کہ زیرِ بحث جملے کی موجودہ مقدمے میں کوئی قانونی حیثیت نہیں بنتی اور نہ ہی اس سے فریقین کے حقوق کے تعین پر کوئی اثر پڑتا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ عدالتی ریکارڈ میں موجود ایسی واضح غلطیوں کی درستگی عدالت کے دائرہ اختیار میں آتی ہے، اور اس ضمن میں فوجداری ضابطۂ کارروائی کی دفعہ 561-A کے تحت عدالت اپنے اختیارات استعمال کر سکتی ہے۔

تحریری فیصلے میں مزید کہا گیا کہ عدالت کا مقصد انصاف کی فراہمی کے ساتھ ساتھ عدالتی ریکارڈ کو درست اور شفاف رکھنا ہے تاکہ کسی بھی فریق کے ساتھ ناانصافی نہ ہو اور فیصلے کے مندرجات میں کوئی غیر متعلقہ یا گمراہ کن مواد شامل نہ رہے۔ اسی اصول کے تحت عدالت نے متنازع جملے کو فیصلے سے حذف کرنے کا حکم دیا۔

عدالت نے یہ بھی ہدایت جاری کی کہ استغاثہ کی جانب سے دائر کی گئی درخواست کو مرکزی مقدمے کے ساتھ منسلک کیا جائے تاکہ آئندہ عدالتی ریکارڈ کا حصہ رہے اور مستقبل میں کسی بھی قانونی پیچیدگی سے بچا جا سکے۔ عدالت کے مطابق اس اقدام کا مقصد فیصلے کی قانونی حیثیت کو برقرار رکھنا اور عدالتی عمل میں شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔

واضح رہے کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف یہ مقدمہ متنازع ٹویٹس کے حوالے سے درج کیا گیا تھا، جس میں سوشل میڈیا کے استعمال اور الیکٹرانک جرائم سے متعلق قوانین کے اطلاق پر بھی بحث سامنے آئی۔ اس کیس کو عوامی اور قانونی حلقوں میں خاصی توجہ حاصل رہی، تاہم عدالت نے اپنے فیصلے میں اس بات پر زور دیا کہ ہر مقدمے کا فیصلہ شواہد، قانون اور متعلقہ حقائق کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، نہ کہ غیر متعلقہ حوالہ جات یا غلطیوں پر۔

آخر میں عدالت نے اس امر کا اعادہ کیا کہ عدالتی فیصلوں میں کسی بھی قسم کی تکنیکی یا تحریری غلطی کی بروقت نشاندہی اور اصلاح انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔ عدالت کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا گیا ہے، جس کے بعد متنازع پیراگراف باضابطہ طور پر عدالتی فیصلے کا حصہ نہیں رہا۔

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]