ایران امریکا مذاکرات: اسلام آباد میں دوسرے دور کا امکان

ایران امریکا مذاکرات اسلام آباد
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

پاکستان میں اہم سفارتی سرگرمی، ایران امریکا مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی تیاریاں شروع

اسلام آباد: ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی عمل کے دوسرے مرحلے کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور آئندہ ہفتے کے اختتام پر اسلام آباد میں ہونے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں انتظامیہ اور سکیورٹی اداروں کو ابتدائی تیاریوں کی ہدایات بھی جاری کر دی گئی ہیں، جس سے اس اہم سفارتی سرگرمی کی سنجیدگی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق امریکی وفد کی نمائندگی نائب صدر جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کریں گے، جبکہ ایرانی وفد کی قیادت اسپیکر باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کے سپرد ہونے کا امکان ہے۔ تاہم ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ مذاکرات کے لیے تاحال کسی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شیڈول سے متعلق مشاورت ابھی جاری ہے۔

یاد رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور 11 اپریل کو اسلام آباد میں منعقد ہوا تھا، جو غیر معمولی طور پر طویل رہا اور تقریباً 21 گھنٹے تک جاری رہا۔ اس دوران دونوں فریقین نے مختلف امور پر تفصیلی بات چیت کی، تاہم کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے میں کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔ اس کے باوجود دونوں جانب سے اس عمل کو مثبت قرار دیا گیا اور آئندہ مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے اور امریکا نے اپنی تجاویز ایرانی وفد کے سامنے رکھ دی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اب فیصلہ ایران کے ہاتھ میں ہے کہ وہ ان تجاویز پر کس طرح ردعمل دیتا ہے۔ یہ بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکا اس سفارتی عمل کو آگے بڑھانے میں سنجیدہ ہے۔

دوسری جانب ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے بھی اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایران ایک منصفانہ اور باعزت معاہدے کے لیے تیار ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اگر مذاکرات باہمی احترام اور برابری کی بنیاد پر کیے جائیں تو مثبت نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ ایران کی جانب سے یہ مؤقف مذاکراتی عمل میں لچک اور آمادگی کا عندیہ دیتا ہے۔

علاوہ ازیں روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف نے بھی اس صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے زور دیا ہے کہ کسی نئی جنگ کو روکنا انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس بحران کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اور تمام فریقین کو سفارتی ذرائع کو ترجیح دینی چاہیے۔ روس نے اس تنازع کے پرامن حل کے لیے اپنی مدد کی پیشکش بھی کی ہے، جو اس معاملے میں عالمی دلچسپی کو ظاہر کرتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اسلام آباد میں ان مذاکرات کا انعقاد پاکستان کے لیے ایک بڑی سفارتی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف پاکستان کا عالمی سطح پر مثبت تشخص اجاگر ہو رہا ہے بلکہ اسے ایک ذمہ دار اور مؤثر ثالث کے طور پر بھی تسلیم کیا جا رہا ہے۔ اگر مذاکرات کا دوسرا دور کامیابی سے منعقد ہوتا ہے تو یہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات کا دوسرا دور عالمی اور علاقائی امن کے لیے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ اگر فریقین سنجیدگی اور لچک کا مظاہرہ کریں تو یہ عمل ایک دیرپا اور پائیدار معاہدے کی بنیاد رکھ سکتا ہے، جس سے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا میں استحکام کو فروغ ملے گا۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]