پی سی بی کا بڑا فیصلہ، ٹیسٹ ٹیم میں تسلسل برقرار، سرفراز کو نئی ذمہ داری
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے قومی ٹیسٹ ٹیم کی قیادت اور کوچنگ ڈھانچے سے متعلق اہم فیصلے کرتے ہوئے شان مسعود کو بطور ٹیسٹ کپتان برقرار رکھنے اور سابق کپتان سرفراز احمد کو ہیڈ کوچ مقرر کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ان تقرریوں کا باضابطہ اعلان بنگلا دیش کے خلاف آئندہ ٹیسٹ سیریز کے شیڈول کے ساتھ کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق شان مسعود بدستور ٹیسٹ ٹیم کی قیادت سنبھالے رکھیں گے، جسے ٹیم میں تسلسل اور استحکام کی پالیسی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ پی سی بی کی جانب سے اس فیصلے کو مستقبل کی حکمت عملی سے جوڑا جا رہا ہے، تاکہ ٹیم کی کارکردگی میں بہتری لانے کے لیے قیادت میں بار بار تبدیلی سے گریز کیا جا سکے۔
دوسری جانب سرفراز احمد کو پہلی بار قومی ٹیم کا ہیڈ کوچ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جو اس سے قبل قومی ٹیم کے کپتان رہ چکے ہیں اور اس وقت قومی سلیکٹر کی ذمہ داریاں بھی انجام دے رہے ہیں۔ سرفراز احمد، سابق ہیڈ کوچ اظہر محمود کی جگہ یہ عہدہ سنبھالیں گے۔ ان کی تقرری کو ٹیم کے لیے ایک نئے دور کے آغاز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں ایک تجربہ کار کرکٹر اپنی قیادت اور میدان کے تجربے کو کوچنگ میں بروئے کار لائیں گے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان آئندہ عرصے میں بنگلا دیش، ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے خلاف تین اہم ٹیسٹ سیریز کھیلے گا، جو ٹیم کے لیے ایک بڑا امتحان ثابت ہوں گی۔ اس تناظر میں کپتان اور ہیڈ کوچ کا تسلسل ٹیم کی تیاری اور حکمت عملی کے لیے نہایت اہم سمجھا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان نے اپنی آخری ٹیسٹ سیریز اکتوبر میں جنوبی افریقا کے خلاف کھیلی تھی، جو ایک ایک سے برابر رہی تھی۔
اس وقت قومی ٹیم کے وائٹ بال فارمیٹس میں بھی علیحدہ قیادت اور کوچنگ ڈھانچہ موجود ہے۔ نیوزی لینڈ کے مائیک ہیسن وائٹ بال ٹیم کے ہیڈ کوچ ہیں، جبکہ ون ڈے ٹیم کی قیادت شاہین شاہ آفریدی اور ٹی ٹوئنٹی ٹیم کی قیادت سلمان علی آغا کے سپرد ہے۔ اس تقسیم کو ٹیم کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے ایک جدید حکمت عملی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ادھر سرفراز احمد کی نگرانی میں لاہور میں نیشنل کرکٹ اکیڈمی (این سی اے) میں ریڈ بال کیمپ جاری ہے، جہاں قومی اور ڈومیسٹک کھلاڑیوں کو تربیت دی جا رہی ہے۔ اس کیمپ میں کوچز اور سینئر کھلاڑی نوجوان ٹیلنٹ کو نکھارنے میں مصروف ہیں، تاکہ مستقبل کے لیے مضبوط ٹیم تیار کی جا سکے۔
اسی تناظر میں نوجوان اوپنر اذان اویس کی کارکردگی بھی خاصی متاثر کن رہی ہے۔ 21 سالہ بیٹر نے ڈومیسٹک ریڈ بال کرکٹ میں شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے 2024-25 سیزن میں سیالکوٹ ریجن کی جانب سے 844 رنز بنا کر بیٹنگ چارٹس میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ اپنے پہلے فرسٹ کلاس سیزن میں انہوں نے 4 سنچریاں اور 2 نصف سنچریاں اسکور کیں، جو ان کی صلاحیتوں کا واضح ثبوت ہے۔
اذان اویس کی عمدہ کارکردگی کی بدولت سیالکوٹ نے قائداعظم ٹرافی کا ٹائٹل اپنے نام کیا، جبکہ انہوں نے پریزیڈنٹ ٹرافی گریڈ ون میں بھی 578 رنز اسکور کیے۔ مزید برآں، قائداعظم ٹرافی 2025-26 میں انہوں نے 803 رنز بنا کر اپنی ٹیم کو فائنل تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ ایس این جی پی ایل کی نمائندگی کرتے ہوئے بھی انہوں نے 448 رنز اسکور کیے۔
اذان اویس کا کہنا ہے کہ این سی اے میں جاری ریڈ بال کیمپ ان کے لیے سیکھنے کا بہترین موقع ہے، جہاں وہ اپنے کھیل کو مزید بہتر بنا رہے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ مستقبل میں پاکستان کی نمائندگی تینوں فارمیٹس میں کرنا چاہتے ہیں، تاہم ان کی پہلی ترجیح ٹیسٹ کرکٹ میں ملک کی نمائندگی کرنا ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو پی سی بی کے یہ فیصلے قومی ٹیم میں استحکام، تسلسل اور نوجوان ٹیلنٹ کو آگے لانے کی پالیسی کی عکاسی کرتے ہیں، جو مستقبل میں پاکستان کرکٹ کے لیے مثبت نتائج کا باعث بن سکتے ہیں۔


One Response