‫پاکستان اسٹاک ایکسچینج 176000 پوائنٹس – PSX کا تاریخی سنگ میل اور سرمایہ کاروں کیلئے نئی امیدیں‬

پاکستان اسٹاک ایکسچینج 176000 پوائنٹس کا سنگ میل — ٹریڈنگ ہال منظر
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

اسٹاک مارکیٹ پہلی بار ایک لاکھ 76 ہزار پوائنٹس عبور — سرمایہ کاروں میں جوش کی لہر

پاکستان کی مالیاتی تاریخ میں ایک اور سنہرا باب اس وقت رقم ہوا جب اسٹاک مارکیٹ نے پہلی بار ایک لاکھ 76 ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی حد عبور کرلی۔ یہ سنگِ میل نہ صرف سرمایہ کاروں کے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے بلکہ ملکی معیشت میں بہتری، پالیسیوں کے استحکام اور کاروباری سرگرمیوں میں تیزی کا واضح ثبوت بھی ہے۔ کاروباری ہفتے کے دوران مارکیٹ میں زبردست جوش و خروش دیکھنے میں آیا اور ایک ہی دن میں 1950 پوائنٹس کی شاندار تیزی ریکارڈ کی گئی، جس نے سرمایہ کاروں کے حوصلے مزید بلند کر دیے۔

ٹریڈنگ کے دوران پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے بیک وقت ایک لاکھ 75 ہزار اور ایک لاکھ 76 ہزار پوائنٹس کے دو بڑے سنگ میل عبور کیے، جو کہ ماضی میں ایک خواب تصور کیے جاتے تھے۔ مارکیٹ میں یہ غیر معمولی تیزی مختلف شعبوں میں بھرپور خریداری کے باعث ممکن ہوئی، جہاں آئل اینڈ گیس، سیمنٹ، بینکنگ، فارماسیوٹیکل اور آٹو موبائل سیکٹر سرفہرست رہے۔ ان شعبوں میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی اس بات کا ثبوت ہے کہ مستقبل میں انڈسٹریل سرگرمیوں اور منافع بخش مواقع کے حوالے سے مثبت توقعات پائی جا رہی ہیں۔

خصوصاً بینکنگ سیکٹر میں نمایاں تیزی دیکھنے میں آئی، جس کی ایک بڑی وجہ شرح سود، مالیاتی پالیسیوں میں ممکنہ نرمی اور بینکوں کے منافع میں اضافے کی توقعات ہیں۔ اسی طرح آئل اینڈ گیس سیکٹر میں خریداری عالمی تیل کی قیمتوں میں استحکام اور مقامی سطح پر توانائی منصوبوں میں پیش رفت کے باعث دیکھنے میں آئی۔ سیمنٹ اور آٹو سیکٹر میں تیزی انفراسٹرکچر منصوبوں، تعمیراتی سرگرمیوں اور صارفین کے اعتماد میں بہتری کی علامت سمجھی جا رہی ہے، جبکہ فارما سیکٹر میں سرمایہ کاری صحت کے شعبے میں بڑھتی ضروریات اور برآمدی امکانات کے باعث بڑھی۔

دوسری جانب کرنسی مارکیٹس میں بھی نسبتاً استحکام کا رجحان دیکھنے میں آیا۔ سال 2025 کے آخری روز امریکی ڈالر کی قدر میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں 3 پیسے کی کمی ہوئی اور ڈالر 280 روپے 12 پیسے پر بند ہوا۔ یہ کمی اگرچہ معمولی ہے، تاہم یہ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ زرمبادلہ کی منڈی میں دباؤ کسی حد تک کم ہو رہا ہے۔

کرنسی ڈیلرز کے مطابق گزشتہ 70 دنوں سے ڈالر کی قیمت میں مسلسل ایک یا دو پیسے کی کمی دیکھنے میں آ رہی ہے، جو کہ ایک مثبت رجحان سمجھا جا رہا ہے۔ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی فروخت 281 روپے 15 پیسے پر جاری ہے، جو انٹر بینک ریٹ سے معمولی زیادہ ہے۔ ماہرین کے مطابق ترسیلات زر میں بہتری، درآمدات میں کنٹرول، اور زرمبادلہ کے ذخائر میں استحکام اس رجحان کے پیچھے اہم عوامل ہو سکتے ہیں۔

کرنسی مارکیٹ میں یہ استحکام کاروباری طبقے کے لیے خوش آئند ہے، کیونکہ ڈالر کی قیمت میں شدید اتار چڑھاؤ درآمدی لاگت، مہنگائی اور صنعتی منصوبہ بندی پر منفی اثر ڈالتا ہے۔ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو نہ صرف سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید بڑھے گا بلکہ معیشت کے دیگر شعبوں کو بھی فائدہ پہنچے گا۔

تاہم جہاں اسٹاک اور کرنسی مارکیٹس میں مثبت یا مستحکم رجحانات دیکھنے میں آئے، وہیں عالمی و مقامی گولڈ مارکیٹس میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی کا رجحان غالب رہا۔ سونا جو روایتی طور پر محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے، حالیہ دنوں میں دباؤ کا شکار نظر آیا۔ 24 کیرٹ فی تولہ سونا 2500 روپے کی کمی کے بعد 456,962 روپے پر آ گیا، جبکہ 10 گرام سونے کی قیمت 2143 روپے کم ہو کر 391,771 روپے ہو گئی۔

ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر ڈالر کی مضبوطی، شرح سود میں تبدیلیوں کی توقعات اور سرمایہ کاروں کا اسٹاک مارکیٹس کی جانب بڑھتا ہوا رجحان سونے کی قیمتوں میں کمی کی بڑی وجوہات ہیں۔ جب اسٹاک مارکیٹ میں منافع کے امکانات بڑھتے ہیں تو سرمایہ کار اکثر سونے سے نکل کر ایکویٹیز میں سرمایہ کاری کو ترجیح دیتے ہیں، جس سے سونے کی طلب میں کمی آتی ہے۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو پاکستان کی مالیاتی منڈیاں اس وقت ایک اہم موڑ پر کھڑی ہیں۔ اسٹاک مارکیٹ کی تاریخی بلندی اس بات کی عکاس ہے کہ سرمایہ کار مستقبل کے حوالے سے پرامید ہیں، جبکہ کرنسی مارکیٹ میں استحکام اور ڈالر کی قدر میں معمولی کمی معاشی نظم و ضبط کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ دوسری جانب سونے کی قیمتوں میں کمی سرمایہ کاری کے رجحانات میں تبدیلی کو ظاہر کرتی ہے۔

اگر حکومت معاشی اصلاحات، مالیاتی نظم و نسق اور سرمایہ دوست پالیسیوں کا تسلسل برقرار رکھتی ہے تو یہ رجحانات مزید مضبوط ہو سکتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا اسٹاک مارکیٹ اپنی اس رفتار کو برقرار رکھ پاتی ہے، کرنسی مارکیٹ میں استحکام قائم رہتا ہے، اور گولڈ مارکیٹ کس سمت میں جاتی ہے۔ فی الحال، مجموعی منظرنامہ محتاط خوش امیدی کی تصویر پیش کر رہا ہے، جو ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔

One Response

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]