اسرائیل کا مقبوضہ مغربی کنارے کے انضمام پر امریکا کی حمایت ختم ہو جائے گی،ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے مقبوضہ مغربی کنارے کے انضمام کی کوشش کی تو امریکا اپنی حمایت ختم کر دے گا۔ ٹائم میگزین کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ “میں نے عرب ممالک سے وعدہ کیا ہے، ایسا نہیں ہو سکتا۔” ان کے بیان نے اسرائیلی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے اور مشرق وسطیٰ میں نئی سفارتی تبدیلیوں کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بیان امریکا کی مشرق وسطیٰ پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی کا اشارہ ہو سکتا ہے۔
اسرائیل کے مغربی کنارے تک توسیعی عزائم پر پاکستان کی شدید مذمت: عالمی قانون اور فلسطینی حقوق کی کھلی خلاف ورزی

اسلام آباد — پاکستان نے اسرائیل کے مقبوضہ مغربی کنارے پر اپنی خودمختاری کے توسیعی عزائم کی شدید مذمت کی ہے۔ دفترِ خارجہ نے کہا ہے کہ یہ اقدام بین الاقوامی قانون، اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اسرائیلی پارلیمان کی جانب سے مغربی کنارے کے انضمام سے متعلق بل کی ابتدائی منظوری پر ردِعمل دیتے ہوئے پاکستان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کو اس غیر قانونی عمل سے روکے۔ دفترِ خارجہ کے مطابق اسرائیلی اقدامات نہ صرف عالمی امن کو خطرے میں ڈال رہے ہیں بلکہ فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں۔ پاکستان نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت، آزادی اور انصاف کی جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑا رہے گا۔
غزہ امن معاہدہ بچانے کیلئے امریکی وفد اسرائیل پہنچ گیا

امریکی قیادت نے ہنگامی طور پر مداخلت کی ہے تاکہ غزہ امن معاہدہ خطرے میں نہ پڑے۔
اسرائیل کے غزہ میں فضائی حملے، مسلسل بمباری، امداد کا داخلہ روک دیا، 38 فلسطینی شہید

اسرائیلی فوج کے تازہ فضائی حملوں نے غزہ میں امن کی کوششوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
38 فلسطینی شہید، 143 زخمی، رفح کراسنگ بند، اقوام متحدہ کی تشویش —
جنگ بندی کا مستقبل غیر یقینی۔
یمنی چیف آف اسٹاف عبدالکریم الغماری اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک، حوثیوں کی تصدیق

یمن کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل عبدالکریم الغماری اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ حوثی حکومت نے ان کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے اسے “جنگی جرم” قرار دیا ہے جبکہ اسرائیل نے حملے کو دفاعی کارروائی کہا ہے۔
یہ واقعہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کو نئی سطح پر لے آیا ہے جہاں ایران، ترکی، اور اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔
غزہ امن معاہدہ کے تحت حماس نے مزید 4 یرغمالیوں کی لاشیں اسرائیل کے حوالے کردیں

حماس نے غزہ امن معاہدے کے تحت مزید 4 یرغمالیوں کی لاشیں اسرائیل کے حوالے کر دیں، انسانی بنیادوں پر اعتماد سازی کا نیا مرحلہ۔
ٹرمپ کا غزہ امن سربراہی اجلاس سے خطاب، معاہدے پر شہباز شریف اور فیلڈ مارشل کا شکریہ،شہبازشریف کو خطاب کی دعوت

شرم الشیخ میں منعقدہ تاریخی غزہ امن معاہدے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، السیسی، اردوان، امیر قطر اور وزیراعظم شہباز شریف نے شرکت کی۔
اس معاہدے سے برسوں کی جنگ کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں امن، ترقی اور استحکام کے نئے دور کا آغاز ہوا۔ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ “ہم نے جنگ نہیں، امن جیتا ہے۔”
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ “صدر ٹرمپ نوبیل امن انعام کے حقیقی مستحق ہیں۔”
غزہ جنگ بندی 2025: اسرائیل کی بربریت کے بعد دوپہر 2 بجے سے امن معاہدہ نافذ

غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے بعد بالآخر جنگ بندی معاہدہ نافذ ہو گیا، جو پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر دو بجے سے عمل میں آیا۔ عالمی رہنماؤں اور مصری حکومت نے اس اقدام کو امن کی بحالی کی جانب اہم قدم قرار دیا ہے۔
قطر پر حملہ امریکا پر حملہ ایگزیکٹیو آرڈر جاری، قطر حملہ پر اسرائیل کی معذرت

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کے حالیہ فضائی حملے کے بعد قطر کی سلامتی کی باضابطہ ضمانت دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر دوبارہ حملہ کیا گیا تو امریکا فوجی کارروائی کرے گا۔ اس پیشرفت نے مشرقِ وسطیٰ میں نئی سفارتی لہر دوڑا دی ہے اور سہ فریقی نظام کی تجویز نے علاقائی تعاون کے امکانات کو بڑھا دیا ہے۔
پاکستان اب تاریخ کا تماشائی نہیں۔۔مرکزی کردار

یوں لگتا ہے کہ وقت نے ایک بار پھر تاریخ کے پرانے اوراق کو پلٹ کر ایک نیا باب لکھ دیا ہے۔ وہی پاکستان، جو کبھی سرد جنگ میں امریکا کا منظورِ نظر تھا، آج ایک نئے انداز میں عالمی بساط پر اُبھرتا دکھائی دیتا ہے۔ جنرل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان صرف عسکری ہی نہیں بلکہ سیاسی و سفارتی محاذ پر بھی مرکزی کردار بن رہا ہے۔ سعودی عرب، ترکیہ، ایران، چین اور روس کے ساتھ بڑھتے تعلقات اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے مقابل ایک نیا اتحاد دنیا کے توازن کو بدلنے کے قریب ہے۔ یہی وہ وقت ہے جب پاکستان تاریخ کا تماشائی نہیں بلکہ اس کا اصل کردار بن چکا ہے۔