یواےای یمن مشن ختم – یمن کی صدارتی کونسل کا 24 گھنٹے میں فورسز نکالنے کا حکم

یواےای یمن مشن ختم – فوجی انخلاء کی تازہ صورتحال
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

متحدہ عرب امارات نے یمن میں انسدادِ دہشت گردی مشن کا اختتام کر دیا — فوجی یونٹس کے انخلاء کی تفصیلات سامنے آگئیں

متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے پیر کے روز اعلان کیا ہے کہ یمن میں تعینات اس کے انسدادِ دہشت گردی یونٹس نے اپنا مشن رضاکارانہ طور پر مکمل کرتے ہوئے ختم کر دیا ہے۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن میں علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر سیاسی و عسکری تناؤ میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے وام کے مطابق وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یمن کی موجودہ صورتحال اور حالیہ پیش رفت کے بعد ایک جامع جائزہ لیا گیا، جس کے نتیجے میں یہ فیصلہ کیا گیا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ متحدہ عرب امارات خطے میں امن، استحکام اور دہشت گردی کے خلاف کوششوں کے لیے پرعزم رہا ہے، تاہم زمینی حالات میں تبدیلی کے باعث مشن کے خاتمے کا فیصلہ ناگزیر ہو گیا تھا۔

وزارتِ دفاع نے واضح کیا کہ یو اے ای نے 2019 میں یمن سے اپنی باقاعدہ فوجی موجودگی ختم کر دی تھی، تاہم انسدادِ دہشت گردی کے مقاصد کے لیے کچھ خصوصی یونٹس یمن میں محدود پیمانے پر تعینات رکھے گئے تھے۔ اب ان یونٹس کا مشن بھی مکمل تصور کرتے ہوئے اختتام پذیر کر دیا گیا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یمن کی صدارتی کونسل (پی ایل سی) کے سربراہ رشاد العلیمی نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدہ منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق رشاد العلیمی نے کہا کہ یمن میں موجود یو اے ای کی تمام فورسز کو 24 گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔

رشاد العلیمی نے مزید اعلان کیا کہ یمن کی تمام بندرگاہوں اور زمینی و بحری گزرگاہوں پر 72 گھنٹوں کے لیے مکمل فضائی، زمینی اور بحری ناکہ بندی نافذ کی جا رہی ہے۔ ان اقدامات کو یمن کی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے ایک سخت اور غیر معمولی فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یمن کی صدارتی کونسل کے یہ احکامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے یمن میں محدود فضائی کارروائی کی، جس کے دوران مکلا بندرگاہ کو نشانہ بنایا گیا۔ سعودی اتحاد کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائی یو اے ای کی حمایت یافتہ جنوبی علیحدگی پسند تنظیم سدرن ٹرانزیشنل کونسل (STC) کو فراہم کی جانے والی غیر ملکی فوجی معاونت کے خلاف کی گئی۔

سعودی اتحاد کے مطابق مکلا بندرگاہ کو نشانہ بنانے کا مقصد مبینہ غیر قانونی عسکری سرگرمیوں اور اسلحہ کی ترسیل کو روکنا تھا۔ اس کارروائی کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی، جس کے اثرات سفارتی سطح پر بھی واضح طور پر نظر آنے لگے۔

بعد ازاں سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک سخت بیان میں کہا گیا کہ متحدہ عرب امارات یمنی حکومت کے مطالبے کے مطابق 24 گھنٹوں کے اندر اپنی تمام افواج یمن سے واپس بلائے اور کسی بھی فریق کو عسکری یا مالی معاونت فوری طور پر بند کرے۔ سعودی بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ یمن کے بحران کا حل صرف سیاسی عمل اور یمنی حکومت کی خودمختاری کے احترام میں ہی ممکن ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یو اے ای کے انسدادِ دہشت گردی یونٹس کے مشن کے خاتمے کا اعلان خطے میں تیزی سے بدلتی ہوئی سیاسی اور عسکری صف بندی کی عکاسی کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ نہ صرف یمن میں طاقت کے توازن کو متاثر کرے گا بلکہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور یمنی حکومت کے درمیان تعلقات کے نئے زاویے بھی متعین کرے گا۔

علاقائی امور کے ماہرین کے مطابق آنے والے دنوں میں یمن کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے، خاص طور پر جب مختلف علاقائی طاقتیں اپنے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے سفارتی اور عسکری سطح پر نئے فیصلے کر رہی ہیں۔ یو اے ای کی جانب سے مشن کے خاتمے کو بعض حلقے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جبکہ بعض ماہرین اسے خطے میں ایک نئی سیاسی حکمتِ عملی کا آغاز قرار دے رہے ہیں۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]