ایران امریکا معاہدہ جمعے کو متوقع، تہران نے جنگی نقصانات اور منجمد اثاثوں پر اہم مؤقف دے دیا
ایران امریکا معاہدہ ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے کیونکہ تہران نے واضح کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ایران جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات، حملوں اور مبینہ جنگی جرائم کو بھلا دے گا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایک اہم پریس کانفرنس میں معاہدے کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی اور ایران کے مؤقف کو تفصیل سے بیان کیا۔
ایران امریکا معاہدہ کے حوالے سے اسماعیل بقائی نے کہا کہ مجوزہ مفاہمتی یادداشت پر جنیوا میں جمعے کے روز دستخط متوقع ہیں۔ اس سے قبل ایرانی سفارتی وفود خطے کے مختلف ممالک اور ہمسایہ ریاستوں کا دورہ کریں گے تاکہ علاقائی سطح پر اعتماد سازی اور مشاورت کے عمل کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ 110 روزہ جنگ کے دوران ایرانی عوام نے غیر معمولی استقامت اور یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔ ایرانی قوم نے حکومت، مسلح افواج اور ریاستی اداروں کا بھرپور ساتھ دیا جس کی بدولت ملک نے مشکل حالات کا مقابلہ کیا۔ انہوں نے عوام، فوجی کمانڈرز اور قومی قیادت کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایران ان خدمات اور قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گا۔
ایران امریکا معاہدہ کے اہم نکات میں ایران کے بیرون ملک منجمد اثاثوں کی واپسی بھی شامل ہے۔ ترجمان کے مطابق ایران کا مطالبہ ہے کہ بیرونی ممالک میں موجود ایرانی مالی وسائل اور اثاثے مکمل طور پر بحال کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایران کا قانونی اور جائز حق ہے اور مذاکرات کے دوران اس معاملے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔
اسماعیل بقائی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جنگی نقصانات کے ازالے کا معاملہ مذاکراتی عمل کا اہم حصہ ہے۔ ان کے مطابق ایران کو انسانی، اقتصادی اور بنیادی ڈھانچے کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا جس کے لیے مناسب معاوضہ اور ازالہ ضروری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ معاہدے کے بعد بھی ایران اپنے قانونی حقوق سے دستبردار نہیں ہوگا۔
پریس کانفرنس میں اسرائیل کے حوالے سے بھی سخت مؤقف اختیار کیا گیا۔ ایرانی ترجمان نے الزام عائد کیا کہ اسرائیل لبنان اور فلسطین میں اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ عالمی ادارے ان اقدامات کو روکنے میں ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے باوجود لبنان میں حملوں کی اطلاعات تشویش ناک ہیں اور ایران اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
ایران امریکا معاہدہ میں لبنان سے متعلق شقیں بھی شامل ہیں۔ اسماعیل بقائی کے مطابق لبنان کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی استحکام کا احترام یقینی بنایا جائے گا۔ ایران اس بات پر زور دیتا ہے کہ خطے میں امن کے لیے تمام ممالک کی خودمختاری کا احترام ناگزیر ہے۔
انہوں نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی اہم بیان دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عمان کی معاونت سے اس اہم بحری گزرگاہ میں جہاز رانی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ ایران نے ایک بار پھر واضح کیا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر کسی قسم کا اضافی ٹول یا فیس عائد نہیں کی جائے گی۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ معاہدے پر دستخط کے طریقہ کار کو حتمی شکل دی جا رہی ہے اور جلد اس کا باضابطہ اعلان متوقع ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ معاہدہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی تعلقات کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔
تاہم انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امریکا کو ایرانی عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے مزید اقدامات کرنا ہوں گے۔ ان کے مطابق ماضی کے تجربات کے باعث اعتماد سازی ایک طویل عمل ہوگا، لیکن ایران معاہدے کی پاسداری اور سفارتی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
ایران امریکا معاہدہ کے حوالے سے عالمی مبصرین کا خیال ہے کہ اگر یہ مفاہمتی یادداشت کامیابی سے نافذ ہو جاتی ہے تو اس کے خطے کی سیاست، عالمی توانائی منڈیوں اور بین الاقوامی سفارت کاری پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
READ MORE FAQS
Q1: ایران امریکا معاہدہ کب متوقع ہے؟
A: ایرانی حکام کے مطابق مفاہمتی یادداشت پر جمعے کے روز جنیوا میں دستخط متوقع ہیں۔
Q2: معاہدے میں ایران کا اہم مطالبہ کیا ہے؟
A: ایران منجمد اثاثوں کی واپسی اور جنگی نقصانات کے ازالے کا مطالبہ کر رہا ہے۔
Q3: کیا ایران جنگی جرائم کو معاف کرنے پر آمادہ ہے؟
A: نہیں، ایران نے واضح کیا ہے کہ معاہدہ جنگی جرائم یا نقصانات کو فراموش کرنے کے مترادف نہیں۔
Q4: لبنان سے متعلق معاہدے میں کیا شامل ہے؟
A: لبنان کی خودمختاری، سلامتی اور استحکام سے متعلق نکات شامل کیے گئے ہیں۔








