اسحاق ڈار اردن پہنچ گئے: یروشلم وزارتی اجلاس میں فلسطین کی صورتحال پر اہم مشاورت

اسحاق ڈار اردن پہنچ گئے، یروشلم وزارتی اجلاس میں شرکت
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

اسحاق ڈار یروشلم وزارتی اجلاس میں شرکت کیلئے اردن پہنچ گئے، فلسطین کی صورتحال پر اہم ملاقاتیں بھی کریں گے

اسحاق ڈار اردن پہنچ گئے جہاں وہ یروشلم سے متعلق ایک اہم وزارتی اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اردن کے دارالحکومت عمان پہنچے ہیں، جہاں مقبوضہ بیت المقدس اور فلسطینی علاقوں کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کریں گے۔

یہ اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہو رہا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بدستور برقرار ہے اور عالمی برادری خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر رہی ہے۔ اجلاس کا بنیادی مقصد یروشلم اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں پیدا ہونے والی صورتحال پر مشترکہ مؤقف اختیار کرنا اور آئندہ کے لائحہ عمل پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہے۔

دفتر خارجہ کے مطابق اس اجلاس میں مختلف اسلامی اور علاقائی ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہوں گے، جہاں فلسطینی عوام کو درپیش انسانی، سیاسی اور سلامتی کے مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

پاکستان مسلسل فلسطینی عوام کے حق خودارادیت اور دو ریاستی حل کی حمایت کرتا آیا ہے۔ اسحاق ڈار کی اس اہم کانفرنس میں شرکت پاکستان کے اسی دیرینہ مؤقف کا تسلسل سمجھی جا رہی ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اجلاس میں مقبوضہ بیت المقدس کی موجودہ صورتحال، انسانی امداد، جنگ بندی، شہریوں کے تحفظ اور خطے میں پائیدار امن کے امکانات پر بھی غور کیا جائے گا۔

وزارت خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار اجلاس کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں فلسطین کی صورتحال کے علاوہ پاکستان کے باہمی تعلقات، علاقائی سلامتی، اقتصادی تعاون اور سفارتی روابط کے فروغ پر بھی گفتگو متوقع ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے بین الاقوامی اجلاس پاکستان کو اپنے اصولی مؤقف کو عالمی سطح پر مؤثر انداز میں پیش کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ پاکستان ماضی کی طرح اس بار بھی فلسطینی عوام کے قانونی اور انسانی حقوق کی حمایت کا اعادہ کرے گا اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق مسئلے کے پرامن حل پر زور دے گا۔

علاقائی حالات کے تناظر میں اردن کا کردار بھی انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ اردن نہ صرف بیت المقدس کے مذہبی مقامات سے متعلق خصوصی ذمہ داریاں رکھتا ہے بلکہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے سفارتی کوششوں میں بھی سرگرم کردار ادا کرتا رہا ہے۔

اسحاق ڈار کی اردن آمد کو سفارتی سطح پر ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس موقع پر متعدد ممالک کے ساتھ رابطوں کو مزید مضبوط بنانے اور مشترکہ حکمت عملی تیار کرنے کے امکانات بھی موجود ہیں۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور خطے میں امن و استحکام کے اصولوں پر مبنی رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی حمایت اور مقبوضہ علاقوں میں امن کے قیام کے لیے ہر عالمی فورم پر اپنی آواز بلند کرتا رہا ہے۔

وزارتی اجلاس سے حاصل ہونے والے فیصلے آئندہ سفارتی اقدامات کے لیے اہم ثابت ہو سکتے ہیں، جبکہ مختلف ممالک کے درمیان مشاورت خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مشترکہ سفارتی حکمت عملی اختیار کرنے میں بھی معاون ثابت ہو سکتی ہے۔

READ MORE FAQS
  1. اسحاق ڈار کس مقصد کے لیے اردن گئے ہیں؟

وہ یروشلم سے متعلق وزارتی اجلاس میں شرکت اور فلسطینی علاقوں کی صورتحال پر مشاورت کے لیے اردن پہنچے ہیں۔

  1. اجلاس کہاں منعقد ہو رہا ہے؟

یہ اجلاس اردن کے دارالحکومت عمان میں منعقد ہو رہا ہے۔

  1. اجلاس کا بنیادی مقصد کیا ہے؟

مقبوضہ بیت المقدس اور فلسطینی علاقوں کی صورتحال پر مشترکہ مؤقف اور سفارتی حکمت عملی اختیار کرنا۔

  1. کیا اسحاق ڈار دیگر رہنماؤں سے بھی ملاقات کریں گے؟

جی ہاں، وہ مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔

متعلقہ خبریں