روس کا یوکرین پر بڑا حملہ، کیف میں تیز رفتار میزائلوں اور ڈرونز سے تباہی، 15 افراد جان بحق
روس کا یوکرین پر میزائل حملہ ایک مرتبہ پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ تازہ حملے میں روس نے یوکرین کے دارالحکومت کیف سمیت مختلف علاقوں پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کیے، جن کے نتیجے میں کم از کم 15 افراد ہلاک جبکہ 27 زخمی ہوئے۔
حکام کے مطابق حملوں کے دوران کیف شہر میں 30 سے زائد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جس سے شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ متعدد رہائشی عمارتیں، گودام اور دیگر تنصیبات متاثر ہوئیں جبکہ کئی مقامات پر آگ بھڑک اٹھی۔
یوکرینی حکام نے بتایا کہ روس نے اس حملے میں جدید تیز رفتار بیلسٹک میزائلوں کے ساتھ بڑی تعداد میں ڈرونز بھی استعمال کیے۔ یوکرینی فضائیہ کے مطابق حملے کے دوران داغے گئے کسی بھی بیلسٹک میزائل کو فضائی دفاعی نظام روکنے میں کامیاب نہیں ہو سکا، جو حالیہ جنگ کے دوران ایک اہم پیش رفت تصور کی جا رہی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق روس نے ایک ہی رات میں 28 تیز رفتار میزائل اور 115 ڈرونز داغے۔ اس حملے نے یوکرین کے فضائی دفاعی نظام کی صلاحیتوں پر بھی نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
کیف کے میئر کے مطابق حملوں سے کئی عمارتیں تباہ ہوئیں جبکہ ایک بڑے ویئر ہاؤس میں آگ لگنے کے بعد امدادی کارروائیاں شروع کی گئیں۔ ریسکیو ٹیمیں ملبے تلے دبے ممکنہ متاثرین کی تلاش میں مصروف ہیں اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب روسی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا کہ حملوں میں انتہائی جدید اور ہدف کو درست نشانہ بنانے والے میزائل استعمال کیے گئے، جنہوں نے اپنے اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔
یہ حملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب روس اور یوکرین کے درمیان جنگ تقریباً ساڑھے چار سال سے جاری ہے۔ اس دوران دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف فضائی حملوں، ڈرون کارروائیوں اور میزائل حملوں میں مسلسل اضافہ کر چکے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جدید بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون ٹیکنالوجی کے استعمال نے جنگ کی نوعیت مزید پیچیدہ بنا دی ہے۔ اگر مستقبل میں بھی اسی شدت کے حملے جاری رہے تو نہ صرف انسانی جانوں کا نقصان بڑھے گا بلکہ خطے میں سکیورٹی صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔
عالمی برادری مسلسل دونوں ممالک پر کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے پر زور دے رہی ہے، تاہم زمینی صورتحال اب بھی انتہائی تشویشناک ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ کے تسلسل سے یورپ سمیت عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور علاقائی استحکام پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
حالیہ حملے نے ایک مرتبہ پھر یہ واضح کر دیا ہے کہ روس یوکرین جنگ میں جدید ہتھیاروں کا استعمال مسلسل بڑھ رہا ہے۔ شہری علاقوں پر حملوں کے باعث انسانی بحران مزید گہرا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے جبکہ متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں تیزی سے جاری ہیں۔
READ MORE FAQS
- روس نے یوکرین پر کہاں حملہ کیا؟
روس نے یوکرین کے دارالحکومت کیف سمیت مختلف علاقوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔
- حملے میں کتنے افراد ہلاک ہوئے؟
ابتدائی اطلاعات کے مطابق کم از کم 15 افراد ہلاک اور 27 زخمی ہوئے۔
- روس نے کون سے ہتھیار استعمال کیے؟
حملے میں تیز رفتار بیلسٹک میزائل اور ڈرونز استعمال کیے گئے۔
- کیا یوکرین کا فضائی دفاع میزائل روک سکا؟
یوکرینی فضائیہ کے مطابق اس حملے میں داغا گیا کوئی بھی بیلسٹک میزائل روکا نہیں جا سکا۔








