پاکستان امریکا تجارتی فریم ورک جلد حتمی، وزیر خزانہ اور امریکی تجارتی نمائندے کی اہم ملاقات

پاکستان امریکا تجارتی فریم ورک پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور امریکی تجارتی نمائندے کی ورچوئل ملاقات
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور امریکی تجارتی نمائندے کی ورچوئل ملاقات، دوطرفہ تجارتی فریم ورک جلد مکمل کرنے پر اتفاق

پاکستان امریکا تجارتی فریم ورک کو جلد حتمی شکل دینے کے لیے پاکستان اور امریکا کے درمیان اعلیٰ سطح پر مذاکرات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر سے ورچوئل ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی شراکت داری کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا۔

وزارت خزانہ کے مطابق ملاقات خوشگوار ماحول میں منعقد ہوئی، جس میں واشنگٹن میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے بعد ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ دونوں فریقوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دوطرفہ تجارتی فریم ورک کو جلد از جلد حتمی شکل دی جائے گی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی روابط مزید مضبوط ہوں۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان مضبوط تجارتی شراکت داری نہ صرف دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات کو فروغ دے گی بلکہ پاکستان کی برآمدات میں اضافے اور نئی سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔

ملاقات میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ باہمی تجارت کے فروغ کے لیے نجی شعبے کے درمیان روابط مضبوط بنائے جائیں، تجارتی رکاوٹوں کو کم کیا جائے اور سرمایہ کاروں کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جائے۔ اس موقع پر امریکی ایگزم بینک کے ساتھ تعاون بڑھانے کے امکانات پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزارت خزانہ کے مطابق دونوں ممالک نے اس امر پر اتفاق کیا کہ باقی ماندہ تکنیکی معاملات کو جلد از جلد مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے گا تاکہ تجارتی معاہدے کی تکمیل میں مزید تاخیر نہ ہو۔ اس مقصد کے لیے متعلقہ حکام کے درمیان قریبی رابطہ برقرار رکھنے اور تکنیکی سطح پر مذاکرات کو تیز کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر نے پاکستان کی جانب سے لیبر قوانین، ریگولیٹری اصلاحات اور جبری مشقت کے خاتمے کے لیے کیے گئے اقدامات کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ان اصلاحات سے پاکستان کا تجارتی ماحول مزید بہتر ہوا ہے، جس سے سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

ماہرین کے مطابق اگر پاکستان اور امریکا کے درمیان مجوزہ تجارتی فریم ورک جلد مکمل ہو جاتا ہے تو اس کے نتیجے میں دوطرفہ تجارت کے حجم میں اضافہ، نئی سرمایہ کاری، برآمدات میں وسعت اور مختلف صنعتی شعبوں میں تعاون کے امکانات مزید روشن ہوں گے۔

پاکستان گزشتہ چند برسوں سے اپنی برآمدات بڑھانے، غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور عالمی منڈیوں تک بہتر رسائی حاصل کرنے کے لیے متعدد اقتصادی اصلاحات پر عمل پیرا ہے۔ امریکا پاکستان کی بڑی برآمدی منڈیوں میں شامل ہے، اس لیے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعاون میں اضافہ ملکی معیشت کے لیے مثبت پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ چند ہفتوں میں تکنیکی مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا، جس کے بعد تجارتی فریم ورک کو حتمی شکل دینے کے لیے مزید پیش رفت متوقع ہے۔ دونوں ممالک نے اس موقع پر طویل المدتی اقتصادی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔

READ MORE FAQS
  1. پاکستان اور امریکا کے درمیان کس معاملے پر اتفاق ہوا؟

دونوں ممالک نے دوطرفہ تجارتی فریم ورک کو جلد حتمی شکل دینے پر اتفاق کیا۔

  1. ملاقات کن شخصیات کے درمیان ہوئی؟

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر کے درمیان ورچوئل ملاقات ہوئی۔

  1. ملاقات میں کن موضوعات پر بات ہوئی؟

تجارت، سرمایہ کاری، برآمدات، اقتصادی تعاون، امریکی ایگزم بینک کے ساتھ تعاون اور تکنیکی مذاکرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

  1. امریکی نمائندے نے پاکستان کے کن اقدامات کو سراہا؟

انہوں نے لیبر اصلاحات، ریگولیٹری اصلاحات اور جبری مشقت کے خاتمے کے لیے پاکستان کے اقدامات کی تعریف کی۔

متعلقہ خبریں