بیروت پر حملہ نہیں ہونا چاہیے تھا، ہم امن معاہدے کے بہت قریب ہیں: ڈونلڈ ٹرمپ

ڈونلڈ ٹرمپ مشرق وسطیٰ میں امن مذاکرات اور بیروت پر حملہ پر بیان
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

بیروت پر حملہ نہیں ہونا چاہیے تھا، ہم امن معاہدے کے بہت قریب ہیں: ڈونلڈ ٹرمپ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امن معاہدے کے امکانات روشن ہیں اور تمام فریق اگر تحمل کا مظاہرہ کریں تو خطے میں دیرپا امن قائم ہو سکتا ہے، تاہم ان کے بقول آج ہونے والا اسرائیل کا بیروت پر حملہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔

اپنے بیان میں امریکی صدر نے کہا کہ جس واقعے کے جواب میں اسرائیلی کارروائی کی گئی، وہ نسبتاً معمولی نوعیت کا تھا اور اس میں کوئی شخص ہلاک، زخمی یا متاثر نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے محدود واقعات کو ایک بڑے امن عمل کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔

بیروت پر اسرائیلی میزائل حملہ کے بعد تباہ شدہ عمارت
اسرائیلی میزائل حملے کے بعد بیروت کے جنوبی علاقے میں تباہی کا منظر۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے تمام فریقوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ لبنان پر اسرائیل کے مزید حملے نہیں ہونے چاہئیں، اسی طرح حزب اللہ یا کسی اور گروہ کو بھی اسرائیل پر حملوں سے گریز کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ پیش رفت خطے میں امن کے آغاز کی شکل اختیار کر سکتی ہے اور اس موقع کو ضائع نہیں کرنا چاہیے۔

دوسری جانب ایرانی پارلیمان کے اسپیکر اور اسلام آباد مذاکرات میں ایرانی وفد کی قیادت کرنے والے باقر قالیباف نے مذاکراتی عمل کے مستقبل کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا ہے۔

باقر قالیباف نے کہا کہ اگر امریکا اپنی ذمہ داریوں پر عمل درآمد کی صلاحیت نہیں رکھتا تو مذاکرات کو آگے بڑھانا ممکن نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بیروت کے جنوبی علاقے الضاحیہ پر اسرائیلی حملے بند نہ ہوئے تو امن مذاکرات کا جاری رہنا مشکل ہو جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ الضاحیہ میں اسرائیلی کارروائی نے ایک مرتبہ پھر یہ سوال پیدا کر دیا ہے کہ آیا امریکا اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا پھر اس کے پاس ایسا کرنے کی سیاسی خواہش موجود نہیں۔

واضح رہے کہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط سے قبل اسرائیل کی جانب سے بیروت پر میزائل حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں تین لبنانی شہری جاں بحق جبکہ چھ افراد زخمی ہوگئے۔ بیروت پر حملہ نے خطے میں جاری سفارتی کوششوں اور ممکنہ امن معاہدے کے مستقبل کے حوالے سے نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔

 
READ MORE FAQS”

سوال: ڈونلڈ ٹرمپ نے بیروت حملے کے بارے میں کیا کہا؟

جواب: انہوں نے کہا کہ بیروت پر اسرائیلی حملہ نہیں ہونا چاہیے تھا کیونکہ یہ امن عمل میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔

سوال: ٹرمپ نے امن مذاکرات کے بارے میں کیا موقف اختیار کیا؟

جواب: ان کے مطابق تمام فریق امن معاہدے کے بہت قریب ہیں اور تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

سوال: باقر قالیباف نے کیا خدشات ظاہر کیے؟

جواب: انہوں نے کہا کہ اگر امریکا اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کر سکا اور اسرائیلی حملے جاری رہے تو مذاکرات آگے نہیں بڑھ سکیں گے۔

سوال: بیروت حملے میں کتنے افراد متاثر ہوئے؟

جواب: حملے میں 3 لبنانی شہری جاں بحق جبکہ 6 افراد زخمی ہوئے۔

سوال: کیا اس پیش رفت سے امن مذاکرات متاثر ہو سکتے ہیں؟

جواب: جی ہاں، ایران نے عندیہ دیا ہے کہ اسرائیلی کارروائیاں جاری رہیں تو مذاکراتی عمل تعطل کا شکار ہو سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

ابھی تک کوئی فرمان الہی شامل نہیں۔

🕌 نماز کے اوقات

فجر---
طلوع آفتاب---
ظہر---
عصر---
مغرب---
عشاء---