وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے اڈیالہ جیل پہنچنے پر پولیس سے ٹکراؤ، فیکٹری ناکہ پر دھرنا

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ ہونے پر فیکٹری ناکہ پر دھرنا

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق خدشات کے باعث اڈیالہ جیل پہنچے مگر پنجاب پولیس نے انہیں فیکٹری ناکے پر روک دیا جس کے بعد انہوں نے وہیں دھرنا دے دیا۔ وزیراعلیٰ کے ہمراہ ایم این اے شاہد خٹک، ایم پی اے مینا خان آفریدی اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔ جیل روڈ اور اطراف میں سخت سیکیورٹی تعینات ہے جبکہ متعدد ناکوں پر اضافی نفری گشت کر رہی ہے۔ میڈیا سے گفتگو میں سہیل آفریدی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی طبیعت ناسازی کی خبریں تشویش بڑھا رہی ہیں، ہم آج ملاقات چاہتے ہیں تاکہ حقیقت سامنے آئے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انتخابات میں عوام کا اعتماد متاثر ہوا ہے اور 95 فیصد ووٹر گھروں میں رہے، جو بانی پی ٹی آئی کے ساتھ یکجہتی کا اظہار ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ملاقات نہ ہونے پر خدشات بڑھ رہے ہیں اور وہ تمام قانونی راستوں پر غور کر رہے ہیں۔ موجودہ حکومت پر بھاری مالی بے ضابطگیوں کے الزامات بھی لگائے۔

پنجاب میں سیکیورٹی اقدامات سخت، شرپسندی پر سخت ایکشن کا اعلان

پنجاب میں سیکیورٹی اقدامات سخت۔آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کی زیر صدارت اجلاس میں سیکیورٹی پلان

پنجاب میں امن و امان کی صورتحال کے پیشِ نظر آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے صوبے بھر میں سیکیورٹی اقدامات مزید سخت کر دیے۔ لاہور سمیت تمام اضلاع میں فول پروف سیکیورٹی، جدید ٹیکنالوجی سے نگرانی، دفعہ 144 کا نفاذ، اور مشتبہ عناصر کے خلاف فوری کارروائی کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی فوری اطلاع دیں تاکہ صوبے میں امن برقرار رکھا جا سکے۔

جہلم مذہبی اسکالر انجینئر محمد علی مرزا گرفتار، بعد 30 دن کیلئے جیل منتقل

جہلم انجینئر محمد علی مرزا گرفتار

جہلم پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے مذہبی اسکالر انجینئر محمد علی مرزا کو ایک متنازع ویڈیو بیان کے بعد تھری ایم پی او آرڈیننس کے تحت گرفتار کر کے جیل منتقل کر دیا ہے۔ ان کی اکیڈمی کو بھی سیل کر دیا گیا ہے جبکہ داخلی راستوں پر پولیس تعینات کر دی گئی ہے تاکہ امن و امان برقرار رہے۔ انتظامیہ کے مطابق یہ اقدام شہر میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث کیا گیا۔ مرزا کے ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کے بیانات سے مذہبی اختلافات کو ہوا ملتی ہے، جبکہ ان کے حامی اس گرفتاری کو اظہارِ رائے کی آزادی پر قدغن قرار دے رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی مرزا کی گرفتاری کے بعد حامیوں اور مخالفین کے درمیان شدید بحث چھڑ گئی ہے اور عوامی رائے تقسیم ہو چکی ہے۔