
شدید بارشوں کے بعد پنجاب میں سیلاب کا الرٹ، انتظامیہ ہائی الرٹ پر
شدید بارشوں کے بعد پنجاب میں سیلاب کا الرٹ جاری، اگلے تین دن مزید بارشوں کی پیشگوئی اور شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت

شدید بارشوں کے بعد پنجاب میں سیلاب کا الرٹ جاری، اگلے تین دن مزید بارشوں کی پیشگوئی اور شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت

پنجاب سمیت ملک بھر میں مون سون کا نواں اسپیل شروع ہو گیا ہے جو 2 ستمبر تک جاری رہے گا۔ پی ڈی ایم اے اور این ڈی ایم اے نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے اور ضلعی انتظامیہ کو ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کی ہے۔

محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ پنجاب میں موسلادھار بارش آئندہ چند گھنٹوں میں متعدد اضلاع میں ہو سکتی ہے، جس کے باعث شہری سیلاب اور زرعی نقصانات کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔

پنجاب بھر میں دریاؤں میں اونچے درجے کا سیلاب تباہی مچا رہا ہے۔ لاہور، قصور، شیخوپورہ، ملتان اور دیگر اضلاع زیرِ آب آچکے ہیں۔ کھڑی فصلیں برباد، لاکھوں افراد متاثر اور 20 شہری جاں بحق ہوگئے۔

وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پنجاب کے سیلاب متاثرہ علاقوں کا فضائی دورہ کیا اور جاری ریسکیو و ریلیف آپریشن کا جائزہ لیا۔ چیئرمین NDMA نے سیلابی صورتحال، طغیانی اور متاثرہ اضلاع میں امدادی سرگرمیوں پر بریفنگ دی۔ وزیراعظم نے موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے خطرات کا حوالہ دیتے ہوئے پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھانے پر زور دیا اور چھوٹے و بڑے ڈیموں کی اہمیت اجاگر کی۔ انہوں نے ریسکیو 1122، فوج، محکمہ صحت اور دیگر اداروں کی کارکردگی سراہتے ہوئے ٹیم ورک کی تعریف کی۔ کرتارپور میں پھنسے یاتریوں کے محفوظ انخلا اور مستقبل کے لیے جامع پالیسی کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

پنجاب میں طوفانی بارشیں 29 اگست سے 2 ستمبر تک جاری رہنے کا امکان ہے، پی ڈی ایم اے نے شہریوں اور انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا۔ دریاؤں میں سیلاب اور اربن فلڈنگ کے خدشات کے باعث احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے

پاکستان سیلاب 2025 کے باعث دریائے راوی، چناب اور ستلج میں اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔ لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور دیگر علاقوں میں پانی کا بہاؤ غیر معمولی ہے جس کے نتیجے میں 7 افراد جاں بحق اور کئی لاپتہ ہو گئے ہیں

29 اگست تا 2 ستمبر بارش کی پیشگوئی کے مطابق ملک بھر میں موسلادھار بارشیں، لینڈ سلائیڈنگ، اور نشیبی علاقوں میں پانی بھرنے کے خدشات ظاہر کیے گئے ہیں، جبکہ زراعت اور پانی کے ذخائر کے لیے یہ بارشیں خوش آئند ثابت ہو سکتی ہیں۔

پاکستان میں دریائے چناب، راوی اور ستلج میں شدید سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر (NEOC) نے فوری ہنگامی الرٹ جاری کیا ہے اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت دی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب اور وفاقی حکومت کی ہدایت پر NDMA اور دیگر ریسکیو ادارے الرٹ پر ہیں اور متاثرہ علاقوں میں فوری کارروائیاں جاری ہیں۔ محکمہ موسمیات نے 29 اگست سے 2 ستمبر تک شدید بارشوں کی پیشگوئی کی ہے، جس کے باعث پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور نشیبی علاقوں میں زیرِ آب آنے کا خدشہ ہے۔ شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز، محفوظ رہائش اور ہنگامی تیاری کی ہدایت دی گئی ہے۔ یہ صورتحال ملک کے لیے ایک بڑا قدرتی چیلنج ہے اور بروقت احتیاطی اقدامات انسانی جانوں اور مال و متاع کی حفاظت کے لیے ضروری ہیں۔

خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان کے مختلف اضلاع میں آج صبح 5.3 شدت کا زلزلہ آیا جس کا مرکز افغانستان کے ہندوکش ریجن میں تھا۔ پشاور، صوابی، سوات، ملاکنڈ، باجوڑ، چترال اور مانسہرہ سمیت کئی شہروں میں زمین لرزنے سے شہری خوفزدہ ہو کر گھروں اور دفاتر سے باہر نکل آئے۔ زلزلے کی گہرائی 110 کلومیٹر تھی اور ماہرین کے مطابق یہ درمیانے درجے کا زلزلہ ہے، تاہم پہاڑی علاقوں میں زیادہ شدت سے محسوس کیا گیا۔ مقامی انتظامیہ اور ریسکیو ٹیموں کو الرٹ کردیا گیا ہے جبکہ شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔