
خیبر پختونخوا میں بارشوں سے مختلف حادثات! اموات 400 سے زائد، درجنوں علاقے متاثر
خیبر پختونخوا میں حالیہ بارشوں اور فلش فلڈنگ سے مختلف حادثات میں جاں بحق افراد کی تعداد 406 تک پہنچ گئی، ہزاروں گھر تباہ، سینکڑوں زخمی اور بنیادی ڈھانچہ متاثر۔

خیبر پختونخوا میں حالیہ بارشوں اور فلش فلڈنگ سے مختلف حادثات میں جاں بحق افراد کی تعداد 406 تک پہنچ گئی، ہزاروں گھر تباہ، سینکڑوں زخمی اور بنیادی ڈھانچہ متاثر۔

خیبرپختونخوا کے سیلاب زدہ اضلاع میں وبائی امراض تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ محکمہ صحت کی رپورٹ کے مطابق ایک لاکھ 64 ہزار مریضوں کو طبی امداد فراہم کی جاچکی ہے جبکہ ہیضہ، ڈینگی، ملیریا، سانس اور جلدی امراض کے کیسز میں تشویشناک اضافہ ہو رہا ہے۔

پی ڈی ایم اے پنجاب نے صوبے میں مون سون کے آٹھویں اسپیل کے آغاز کی پیشگوئی کرتے ہوئے وارننگ جاری کردی۔ 23 سے 27 اگست تک طوفانی بارشوں اور دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے

خیبرپختونخوا حکومت کا نیا ہیلی کاپٹر خریدنے کا اعلان، ہیلی کاپٹر حادثے کے شہداء کے ورثاء کو خصوصی پیکج خیبرپختونخوا حکومت کا اہم فیصلہ خیبرپختونخوا حکومت نے چند روز قبل حادثے کا شکار ہونے والے ہیلی کاپٹر کی جگہ نیا ہیلی کاپٹر خریدنے کا اعلان وباضابطہ فیصلہ کر لیا ہے۔

محکمہ موسمیات کی پیشگوئی: 23 سے 27 اگست تک ملک بھر میں بارشوں کا نیا سلسلہ محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کی ہے کہ 23 سے 27 اگست کے دوران ملک بھر میں بارشوں کا نیا سلسلہ داخل ہوگا جس کے باعث مختلف علاقوں میں بارشوں کا امکان ہے۔ اس دوران

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ کراچی کا نکاسی آب کا نظام 100 ملی میٹر سے زائد بارش برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، اگر اس سطح کا نظام بنانا ہے تو پورا شہر دوبارہ کھودنا پڑے گا۔

خیبر پختونخوا میں حالیہ بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مختلف حادثات میں اب تک 393 افراد جاں بحق اور 190 سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق ہزاروں گھروں کو جزوی اور مکمل نقصان پہنچا جبکہ سب سے زیادہ تباہی بونیر اور صوابی میں دیکھی گئی۔ متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔

کراچی میں حالیہ بارشوں کے بعد متعدد علاقے تاحال بجلی سے محروم ہیں۔ شہریوں کو اندھیروں، پانی کی قلت اور کاروباری نقصان کا سامنا ہے جبکہ کے الیکٹرک کے دعوؤں پر عوام نے عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

کراچی میں دو روز کی طوفانی بارشوں نے نظامِ زندگی مفلوج کردیا۔ 245 ملی میٹر بارش کے بعد سڑکیں زیرِ آب، بجلی اور انٹرنیٹ سروس معطل، ٹریفک جام سے شہری پریشان جبکہ مختلف حادثات میں 15 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ سیاسی جماعتوں اور شہریوں نے کراچی کو “آفت زدہ علاقہ” قرار دینے کا مطالبہ کر دیا۔

کراچی میں گزشتہ روز ہونے والی موسلا دھار بارش نے شہر کا نظام زندگی درہم برہم کر دیا۔ بجلی کی طویل بندش، اہم شاہراہوں پر جمع پانی اور ٹریفک جام نے شہریوں کو شدید مشکلات میں ڈال دیا ہے، جب کہ کئی علاقے اب بھی پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔