مولانا فضل الرحمٰن کا 27ویں آئینی ترمیم کو مکمل طور پر مسترد کرنے کا اعلان

مولانا فضل الرحمٰن کا 27ویں آئینی ترمیم مسترد
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

مولانا فضل الرحمٰن کا 27ویں آئینی ترمیم کو مکمل طور پر مسترد کرنے کا اعلان ، جے یو آئی کے ارکان کو جبری طور پر توڑ کر اکثریت حاصل کی گئی

اسلام آباد (رئیس الاخبار) :— جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے 27ویں آئینی ترمیم کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ترمیم جمہوری تقاضوں کے منافی اور اپوزیشن جماعتوں کو نظرانداز کرکے منظور کی گئی ہے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے ترمیم کے پس منظر، حکومتی طرزعمل اور جے یو آئی (ف) کے تحفظات پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔

مولانا فضل الرحمٰن نے بتایا کہ جمعیت علمائے اسلام پاکستان کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کا دو روزہ اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں 27ویں آئینی ترمیم اور حالیہ قانون سازی کا جامع جائزہ لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ شوریٰ نے پارلیمنٹ میں جے یو آئی (ف) کے ارکان کی جانب سے کی جانے والی مخالفت کی توثیق کرتے ہوئے متفقہ طور پر اس ترمیم کو مسترد کردیا ہے۔

“ہمیں نظرانداز کیا گیا، جمہوری روایت مجروح ہوئی”

جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے کہا کہ ایک سال قبل 26ویں آئینی ترمیم حکومت، اپوزیشن اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی مشاورت سے منظور ہوئی تھی، تاہم 27ویں ترمیم میں نہ صرف جے یو آئی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا بلکہ پوری اپوزیشن کو نظرانداز کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ ترمیم کے دوران حکومت نے جے یو آئی کے ساتھ طویل مذاکرات کیے تھے، پی ٹی آئی کی تجاویز بھی شامل کی گئیں، اور ایک متفقہ ترمیم سامنے آئی تھی، مگر موجودہ حکومت نے 27ویں ترمیم میں کوئی مشاورت نہیں کی۔

“پارٹی کو توڑ کر جعلی اکثریت بنائی گئی”

مولانا فضل الرحمٰن نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے جے یو آئی کے ارکان کو جبری طور پر توڑ کر اکثریت حاصل کی اور انہیں پارلیمانی عمل سے باہر رکھنے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سارا عمل پارلیمانی اقدار اور جمہوری طریقہ کار کے خلاف ہے۔

پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس حکومت کو نوٹس
آئینی عدالت میں پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس کے خلاف اپیل کی سماعت کے دوران حکومت کو نوٹس جاری۔

مولانا فضل الرحمٰن کا 27ویں آئینی ترمیم کے اقدامات سے نہ حکومت کی ساکھ میں اضافہ ہوا ہے نہ اُن قوتوں کی عزت بڑھی ہے جو اس ترمیم کو منظور کرانے میں سرگرم تھیں۔

مرکزی شوریٰ کا فیصلہ

انہوں نے بتایا کہ مرکزی شوریٰ نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ 27ویں ترمیم ’’غیرمشاورتی‘‘، ’’غیرجمہوری‘‘ اور ’’سیاسی تقاضوں کے خلاف‘‘ ہے، اس لیے جے یو آئی (ف) اسے کسی صورت قبول نہیں کرے گی۔

واضح رہے کہ 27ویں آئینی ترمیم پارلیمنٹ میں حالیہ دنوں میں پیش کی گئی جس کا مقصد ریاستی اداروں کے بعض اختیارات اور قوانین میں تبدیلیاں کرنا تھا۔ اپوزیشن جماعتوں نے اس عمل کو شفاف مشاورت کے بغیر آگے بڑھانے پر شدید اعتراض کیا ہے۔

 
[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]