سندھ حکومت گندم فراہمی منسوخی اور فلور ملز احتجاج کی اصل وجہ سامنے آگئی

سندھ حکومت گندم فراہمی منسوخی کا فیصلہ – فلور ملز کراچی
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

سندھ حکومت نے فلور ملز کے ممکنہ احتجاج کے بعد ٹریڈرز کو گندم فراہمی کا نوٹیفکیشن منسوخ کردیا

فلور ملز کے ممکنہ احتجاج اور سخت الٹی میٹم کے بعد سندھ حکومت نے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے ٹریڈرز کو گندم فراہم کرنے کے تمام سابقہ آرڈرز منسوخ کر دیے ہیں۔ اس اقدام کے بعد صوبے بالخصوص کراچی میں آٹے کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ وقتی طور پر ختم ہو گیا ہے، جس سے عوام کو ریلیف ملنے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔

فلور ملز ایسوسی ایشن کے مطابق محکمہ خوراک سندھ کی جانب سے ایک ہنگامی مراسلہ جاری کیا گیا ہے، جس میں ٹریڈرز کو گندم کی ترسیل کے لیے جاری کیے گئے تمام چالان فوری طور پر روکنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ مراسلے میں واضح کیا گیا ہے کہ آئندہ حکم تک ٹریڈرز کو سرکاری گندم فراہم نہیں کی جائے گی۔ اس نوٹیفکیشن کی منسوخی کو فلور ملز مالکان نے اپنی جدوجہد کی کامیابی قرار دیا ہے۔

فلور ملز مالکان نے اس سے قبل شدید احتجاج اور ہڑتال کا اعلان کر رکھا تھا۔ ان کا مؤقف تھا کہ اگر سرکاری گندم فلور ملز کے بجائے ٹریڈرز کو فراہم کی گئی تو آٹے کی مصنوعی قلت پیدا ہو جائے گی، جس کا براہ راست نقصان عام صارفین کو پہنچے گا۔ فلور ملز ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ ٹریڈرز کو گندم دینے سے ذخیرہ اندوزی بڑھے گی اور آٹا مہنگے داموں فروخت کیا جائے گا۔

فلور ملز مالکان کی جانب سے سندھ حکومت کو دی گئی دوسری مہلت ختم ہونے سے قبل ہی حکومت نے نوٹیفکیشن واپس لے لیا، جس سے کشیدہ صورتحال میں وقتی طور پر بہتری آ گئی ہے۔ ایسوسی ایشن کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت بروقت فیصلہ نہ کرتی تو صوبے بھر میں فلور ملز بند کر دی جاتیں اور آٹے کا سنگین بحران جنم لے سکتا تھا۔

فلور ملز مالکان نے اس سے قبل خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اگر ٹریڈرز کو گندم دی گئی تو 15 جنوری کے بعد کراچی سمیت سندھ کے مختلف شہروں میں آٹا دستیاب نہیں رہے گا۔ ان کے مطابق فلور ملز کو نظر انداز کر کے گندم کی تقسیم کا نظام غیر متوازن کیا جا رہا تھا، جس کے نتیجے میں نہ صرف آٹے کی قلت بلکہ قیمتوں میں ہوشربا اضافہ بھی متوقع تھا۔

اس تمام صورتحال کے تناظر میں سندھ حکومت پہلے ہی محکمہ خوراک کے سیکرٹری کو عہدے سے ہٹا چکی ہے، جسے فلور ملز بحران سے جوڑا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ اقدام حکومتی پالیسی میں تبدیلی اور دباؤ کو کم کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔ تاہم، فلور ملز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ صرف افسر کی تبدیلی کافی نہیں، بلکہ گندم کی شفاف اور منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانا ہوگا۔

فلور ملز ایسوسی ایشن نے حکومت کے حالیہ فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر آئندہ دوبارہ ایسے فیصلے کیے گئے جن سے آٹے کی سپلائی متاثر ہوئی تو احتجاج کا راستہ دوبارہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔ ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری گندم صرف فلور ملز کو فراہم کی جائے تاکہ آٹے کی بلا تعطل فراہمی اور قیمتوں میں استحکام برقرار رکھا جا سکے۔

حالیہ حکومتی فیصلے کے بعد شہریوں میں اطمینان پایا جاتا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ آٹے کے بحران سے مستقل طور پر بچنے کے لیے حکومت کو طویل المدتی پالیسی مرتب کرنا ہوگی تاکہ مستقبل میں ایسے تنازعات اور عوامی مشکلات سے بچا جا سکے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]