کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف بڑا آپریشن شروع، بے رحم کارروائی ہوگی: آپ اسے آج ہی سے شروع سمجھ سکتے ہیں ، وزیر داخلہ سندھ، مشترکہ کارروائی کے دوران کچے کے ایک نو گو ایریا کو کامیابی سے خالی۔
سکھر: وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے اعلان کیا ہے کہ صوبے کے کچے کے علاقوں میں ڈاکوؤں کے خلاف بڑے پیمانے پر فیصلہ کن آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
سکھر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے بتایا کہ ایک اعلیٰ سطح اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اب مرحلہ وار نہیں بلکہ مربوط اور بھرپور آپریشن کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ پولیس کے پاس موجود تمام وسائل استعمال کیے جائیں گے، واضح اہداف مقرر ہوں گے اور سوشل میڈیا پر سرگرم بدنام ڈاکوؤں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔
کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف بڑا آپریشن کا آغاز
دریائی اور کچے کے علاقوں میں آپریشن کے آغاز سے متعلق سوال پر ضیا الحسن لنجار نے کہا کہ
“آپ اسے آج ہی سے شروع سمجھ سکتے ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ ڈاکوؤں کو یہ موقع دیا جائے گا کہ وہ عدالتوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیں، تاہم مفرور، مسلح اور خود کو طاقتور سمجھنے والے مجرموں کے خلاف سخت مقابلہ ہوگا اور انہیں قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔
پنجاب حکومت اور مشترکہ کارروائی
وزیر داخلہ سندھ نے پنجاب حکومت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ دنوں میں ایک مشترکہ کارروائی کے دوران کچے کے ایک نو گو ایریا کو کامیابی سے خالی کرایا گیا۔
سندھ اور پنجاب پولیس کے مشترکہ آپریشن سے متعلق انہوں نے بتایا کہ سندھ کے انسپکٹر جنرل کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ پنجاب پولیس اور بہاولپور کے ریجنل پولیس افسر سے رابطہ کریں، کیونکہ مچکا کا علاقہ پنجاب تک پھیلا ہوا ہے اور مشترکہ کوشش کے بغیر مکمل کامیابی ممکن نہیں۔

فوج کی مدد سے متعلق مؤقف
فوج کی مدد لینے کے سوال پر وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ
“سندھ پولیس مکمل اہل ہے اور رینجرز اس آپریشن میں ہمارے ساتھ ہیں، اس لیے فی الحال فوج کی ضرورت نہیں۔”
انہوں نے کہا کہ پولیس اہلکاروں کو جدید آلات اور سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ وہ مؤثر انداز میں کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف بڑا آپریشن کر سکیں۔
ڈرونز اور سہولت کار
جب ایک صحافی نے ڈاکوؤں کی جانب سے ڈرونز کے استعمال کا سوال کیا تو وزیر داخلہ نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ ڈرونز وہاں تک پہنچ چکے ہیں، تاہم ڈاکوؤں کے سہولت کاروں کے خلاف بھی بلا تاخیر کارروائی جاری ہے۔
قبائلی تنازعات
وزیر داخلہ سندھ نے بتایا کہ اجلاس میں قبائلی تنازعات پر بھی بات ہوئی ہے اور جتوئی اور مہر قبائل کے درمیان تصادم کے معاملے پر متعلقہ فریقین سے رابطے کر لیے گئے ہیں۔
پس منظر
واضح رہے کہ کچے کے علاقے وسطی اور جنوبی سندھ کے کئی اضلاع میں پھیلے ہوئے ہیں، تاہم کشمور، گھوٹکی، شکارپور اور جیکب آباد ڈاکا زنی، اغوا برائے تاوان اور قبائلی جھگڑوں کے باعث زیادہ متاثر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ
16 دسمبر 2025 کو سندھ-پنجاب سرحد کے قریب ڈاکوؤں نے ایک بس پر حملہ کر کے 20 مسافروں کو اغوا کر لیا تھا، جنہیں بعد ازاں پولیس نے بحفاظت بازیاب کرایا۔
5 ستمبر 2025 کو کچے کے ڈاکو پہلی بار براہِ راست سکھر-ملتان موٹروے (ایم فائیو) تک پہنچے، جس کے بعد رات کے وقت قافلوں کی صورت میں ٹریفک چلائی جانے لگی۔
اگست 2024 میں مچکا کے علاقے میں ڈاکوؤں کے حملے میں ایک درجن پولیس اہلکار شہید ہوئے تھے، جس کے بعد دونوں صوبوں نے فیصلہ کن کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف بڑا آپریشن کا اعلان کیا تھا۔
سندھ میں موٹروے اور انڈس ہائی وے پر کوئی کانوائے نہیں چل رہا، کچے میں پکا اور بڑا آپریشن شروع کردیا گیاہے ،وزیرداخلہ سندھ ضیا لنجار pic.twitter.com/gGdScFW9fL
— Ghazanfar Abbas (@ghazanfarabbass) January 7, 2026