اسلام آباد، راولپنڈی، خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر میں زلزلے کے جھٹکے محسوس
رات گئے پاکستان کے مختلف حصوں میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے، جس کے باعث شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے۔ زلزلے کے یہ جھٹکے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، راولپنڈی، خیبرپختونخوا کے متعدد اضلاع اور آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں محسوس کیے گئے، تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد اور راولپنڈی میں رات گئے اچانک زمین لرز اٹھی، جس سے شہری نیند سے جاگ اٹھے۔ زلزلے کے جھٹکے چند سیکنڈ تک محسوس کیے گئے، تاہم ان کی شدت اس قدر تھی کہ لوگوں میں خوف پھیل گیا۔ کئی علاقوں میں شہری فوری طور پر اپنے گھروں، فلیٹس اور اپارٹمنٹس سے باہر نکل آئے، جبکہ بعض مقامات پر لوگ سڑکوں اور کھلے میدانوں میں جمع ہو گئے۔ سوشل میڈیا پر بھی زلزلے سے متعلق پیغامات اور ویڈیوز گردش کرتی رہیں، جن میں شہریوں نے اپنے خوف اور پریشانی کا اظہار کیا۔
اسلام آباد اور راولپنڈی کے علاوہ خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ سوات، شانگلہ اور بونیر میں زمین لرزنے سے لوگ گھبرا گئے اور گھروں سے باہر نکل آئے۔ ان علاقوں میں پہاڑی سلسلے اور حساس جغرافیائی صورتحال کے باعث زلزلوں کے جھٹکے نسبتاً زیادہ شدت سے محسوس کیے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے مقامی آبادی میں خوف کی فضا پیدا ہو گئی۔ بعض علاقوں میں لوگ کافی دیر تک کھلے مقامات پر موجود رہے اور ایک دوسرے سے صورتحال کے بارے میں معلومات لیتے رہے۔
آزاد کشمیر میں بھی زلزلے کے جھٹکوں نے خوف و ہراس پھیلا دیا۔ وادی نیلم، مظفر آباد اور آزاد کشمیر کے دیگر کئی علاقوں میں زمین لرزنے سے شہریوں میں بے چینی پھیل گئی۔ ماضی میں آزاد کشمیر شدید زلزلوں کا سامنا کر چکا ہے، اسی وجہ سے یہاں کے مکین زلزلے کے معمولی جھٹکوں پر بھی فوری ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔ کئی خاندان رات کے وقت ہی گھروں سے باہر نکل آئے اور کھلے مقامات پر پناہ لی۔
زلزلہ پیما مرکز کے مطابق اس زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 5.8 ریکارڈ کی گئی، جبکہ زمین کے اندر اس کی گہرائی 159 کلومیٹر تھی۔ زلزلہ پیما ماہرین کے مطابق زلزلے کی زیادہ گہرائی کے باعث اس کے اثرات وسیع علاقے میں محسوس کیے گئے، تاہم یہی گہرائی بڑے پیمانے پر نقصان نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ بھی بنی۔ زلزلے کا مرکز تاجکستان اور چین کے سنکیانگ (Xinjiang) کے سرحدی علاقے میں واقع تھا، جس کے جھٹکے پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک میں بھی محسوس کیے گئے۔
ماہرین ارضیات کا کہنا ہے کہ پاکستان خطے میں ٹیکٹونک پلیٹس کی موجودگی کے باعث زلزلوں کے خطرے کی زد میں رہتا ہے۔ خصوصاً شمالی پاکستان، خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر وہ علاقے ہیں جہاں زلزلوں کے امکانات زیادہ رہتے ہیں۔ ایسے زلزلے جو زیادہ گہرائی میں آتے ہیں، عام طور پر کم تباہ کن ہوتے ہیں، تاہم ان کے جھٹکے طویل فاصلے تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
زلزلے کے فوراً بعد متعلقہ ادارے متحرک ہو گئے۔ ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122 اور دیگر ہنگامی اداروں نے صورتحال پر نظر رکھنا شروع کر دی۔ مختلف شہروں میں کنٹرول رومز فعال رہے اور عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں متعلقہ اداروں سے رابطہ کریں۔ ریسکیو اداروں کے مطابق ابتدائی طور پر کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، تاہم صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ماہرین نے شہریوں کو زلزلے کے دوران اور بعد میں احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ان کے مطابق زلزلے کے وقت عمارت کے اندر موجود افراد مضبوط میز یا دروازے کے فریم کے نیچے پناہ لیں، جبکہ کھلے علاقوں میں موجود لوگ بجلی کے کھمبوں، درختوں اور عمارتوں سے دور رہیں۔ زلزلے کے بعد عمارت میں دراڑیں یا نقصان کی صورت میں فوری طور پر عمارت خالی کر دی جائے اور متعلقہ حکام کو اطلاع دی جائے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ زلزلے کے جھٹکے اچانک محسوس ہوئے جس کی وجہ سے خوف پیدا ہوا، تاہم نقصان نہ ہونے پر انہوں نے شکر ادا کیا۔ کئی افراد نے اس موقع پر اجتماعی دعا کا اہتمام بھی کیا اور اپنے پیاروں کی خیریت دریافت کی۔ سوشل میڈیا پر شہریوں نے ایک دوسرے سے مختلف علاقوں میں جھٹکوں کی شدت کے بارے میں معلومات شیئر کیں۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے زلزلے اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ پاکستان کو قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہنے کی ضرورت ہے۔ عمارتوں کی مضبوط تعمیر، زلزلہ مزاحم ڈھانچے اور عوامی آگاہی مہمات ایسے اقدامات ہیں جو مستقبل میں ممکنہ نقصانات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
مجموعی طور پر رات گئے آنے والے اس زلزلے نے اگرچہ شہریوں میں خوف ضرور پیدا کیا، تاہم کسی بڑے نقصان کی اطلاع نہ ملنا ایک مثبت پہلو ہے۔ متعلقہ ادارے صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ پرسکون رہیں، احتیاطی تدابیر پر عمل کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر ریسکیو اداروں سے رابطہ کریں۔


One Response