سونے کی قیمتیں مستحکم، عالمی بلین مارکیٹ اور پاکستان میں نرخ بغیر تبدیلی برقرار

سونے کی قیمتیں مستحکم
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

جمعہ کے روز سونے اور چاندی کی قیمتیں مستحکم، خریدار اور سرمایہ کار انتظار میں

مقامی اور عالمی سطح پر آج جمعہ کے روز سونے اور چاندی کی قیمتوں میں استحکام دیکھا گیا، جس نے نہ صرف سرمایہ کاروں بلکہ عام خریداروں اور صرافہ بازار سے وابستہ افراد کے لیے بھی ایک محتاط مگر اہم پیغام دیا ہے۔ عالمی معاشی حالات، بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ، اور کرنسی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کے باوجود قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں کسی نمایاں تبدیلی کا نہ آنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ فی الحال مارکیٹ ایک توازن کی کیفیت میں ہے۔

بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت بغیر کسی کمی بیشی کے 4 ہزار 601 ڈالر کی سطح پر مستحکم رہی۔ عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں یہ استحکام دراصل سرمایہ کاروں کے محتاط رویے، امریکی ڈالر کی قدر، شرح سود سے متعلق توقعات، اور عالمی سیاسی و معاشی حالات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق فی الوقت سرمایہ کار کسی بڑے فیصلے سے گریز کر رہے ہیں اور آنے والے دنوں میں عالمی معاشی اشاریوں کے واضح ہونے کے منتظر ہیں، جس کے باعث سونے کی قیمتیں ایک محدود دائرے میں گردش کر رہی ہیں۔

بین الاقوامی مارکیٹ میں استحکام کے اثرات مقامی صرافہ بازاروں میں بھی واضح طور پر نظر آئے۔ پاکستان کی مقامی صرافہ مارکیٹوں میں آج جمعہ کے روز 24 قیراط خالص سونے کی فی تولہ قیمت بغیر کسی تبدیلی کے 4 لاکھ 82 ہزار 462 روپے کی سطح پر برقرار رہی۔ یہ قیمت گزشتہ کاروباری دن کے برابر رہی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقامی مارکیٹ بھی عالمی رجحانات کی پیروی کر رہی ہے۔

اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت بھی بغیر کسی رد و بدل کے 4 لاکھ 13 ہزار 633 روپے پر مستحکم رہی۔ سونے کی یہ قیمتیں ان افراد کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہیں جو زیورات کی خریداری، شادی بیاہ کی تقریبات، یا سرمایہ کاری کے مقصد سے سونا خریدنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ قیمتوں میں استحکام کے باعث خریداروں کو وقتی طور پر یہ سہولت حاصل ہوئی ہے کہ وہ اچانک اضافے کے خدشے کے بغیر اپنے فیصلے کر سکیں۔

معاشی ماہرین کے مطابق مقامی سطح پر سونے کی قیمتوں کا دارومدار نہ صرف عالمی نرخوں پر ہوتا ہے بلکہ ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر، درآمدی اخراجات، ٹیکس پالیسی، اور طلب و رسد جیسے عوامل بھی اس پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ چونکہ حالیہ دنوں میں روپے کی قدر میں بھی نسبتاً استحکام دیکھا گیا ہے، اس لیے سونے کی قیمتوں میں کسی بڑے اتار چڑھاؤ کا امکان کم رہا۔

چاندی کی قیمتوں میں بھی آج کسی قسم کی تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی۔ مقامی مارکیٹوں میں فی تولہ چاندی کی قیمت بغیر کسی کمی بیشی کے 9 ہزار 425 روپے کی سطح پر مستحکم رہی، جبکہ 10 گرام چاندی کی قیمت بھی 8 ہزار 080 روپے پر برقرار رہی۔ چاندی کو عام طور پر سونے کے مقابلے میں کم قیمت مگر اہم صنعتی اور سرمایہ کاری دھات سمجھا جاتا ہے، جس کی قیمتیں بھی عالمی رجحانات سے متاثر ہوتی ہیں۔

چاندی کی قیمتوں میں استحکام کا ایک سبب عالمی سطح پر صنعتی طلب میں توازن اور سرمایہ کاری کے رجحانات میں وقتی سست روی کو قرار دیا جا رہا ہے۔ چونکہ چاندی کا استعمال نہ صرف زیورات بلکہ الیکٹرانکس، سولر پینلز، اور دیگر صنعتی شعبوں میں بھی ہوتا ہے، اس لیے اس کی قیمتوں میں استحکام صنعتی سرگرمیوں کے موجودہ تسلسل کی نشاندہی کرتا ہے۔

بازار کے ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں اگر عالمی سطح پر افراطِ زر، امریکی فیڈرل ریزرو کی شرح سود سے متعلق پالیسی، یا جیو پولیٹیکل حالات میں کوئی نمایاں تبدیلی آتی ہے تو اس کے اثرات سونے اور چاندی کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ تاہم فی الحال مارکیٹ میں ایک محتاط سکون پایا جا رہا ہے۔

صرافہ بازار سے وابستہ تاجروں کے مطابق قیمتوں میں استحکام کے باعث خرید و فروخت کا رجحان معمول کے مطابق رہا، نہ غیر معمولی تیزی دیکھی گئی اور نہ ہی مندی کا کوئی خاص دباؤ نظر آیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اکثر خریدار اس انتظار میں ہیں کہ آیا قیمتیں مستقبل قریب میں کم ہوں گی یا ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آئے گا۔

سرمایہ کاروں کے لیے سونا ہمیشہ سے ایک محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب اسٹاک مارکیٹ یا دیگر سرمایہ کاری کے ذرائع غیر یقینی کا شکار ہوں۔ موجودہ استحکام اس بات کا اشارہ ہے کہ سرمایہ کار فی الحال دفاعی حکمت عملی اپنائے ہوئے ہیں اور مارکیٹ کے اگلے رخ کا انتظار کر رہے ہیں۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو آج جمعہ کے روز مقامی اور عالمی سطح پر سونے اور چاندی کی قیمتوں میں استحکام نے مارکیٹ میں ایک متوازن فضا قائم رکھی۔ نہ تو قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا اور نہ ہی کمی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فی الحال قیمتی دھاتوں کی منڈی ایک عبوری مرحلے سے گزر رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں عالمی معاشی حالات اور مالیاتی پالیسیوں کی سمت اس استحکام کو برقرار رکھنے یا ختم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]