اوگرا ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر آئل انڈسٹری کے لیے تربیتی سیشن، شفافیت کی جانب اہم پیش رفت
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے پاکستان کی آئل انڈسٹری میں شفافیت اور خودکاریت کو فروغ دینے کے لیے ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔ اوگرا نے پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (پی آئی ٹی بی) کے اشتراک سے ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کے ٹریک اینڈ ٹریس نظام کے نفاذ کی جانب اہم پیش رفت کرتے ہوئے ایک جامع تربیتی سیشن کا انعقاد کیا ہے۔ اس تربیتی سیشن کا بنیادی مقصد متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو اوگرا ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے مؤثر اور درست استعمال سے آگاہ کرنا تھا۔
ترجمان اوگرا عمران غزنوی کے مطابق، اسلام آباد میں واقع اوگرا ہیڈ آفس میں منعقد ہونے والے اس سیشن میں آئل سیکٹر کے 200 سے زائد نمائندگان نے ذاتی طور پر شرکت کی، جبکہ ملک کے دیگر حصوں سے تعلق رکھنے والے شرکاء کی ایک بڑی تعداد آن لائن ویڈیو لنک کے ذریعے اس تربیتی عمل کا حصہ بنی۔ اس موقع پر اوگرا اور پی آئی ٹی بی کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے جنہوں نے اس نظام کی افادیت پر روشنی ڈالی۔
اوگرا ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے مقاصد اور اہم خدوخال
یہ تربیتی ورکشاپ آئل سپلائی چین کو مکمل طور پر ڈیجیٹائز کرنے کے سفر کا نقطہ آغاز ہے۔ اوگرا ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے اب پاکستان میں ایندھن کی نقل و حرکت، اسٹاک اور فروخت کی نگرانی روایتی طریقوں کے بجائے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے کی جائے گی۔ یہ نظام ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی کو ہموار بنانے کے ساتھ ساتھ غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔
اس سسٹم کے ذریعے پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد و برآمد، ریفائنریز میں مقامی سطح پر ہونے والی پیداوار، روزانہ کی بنیاد پر اسٹاک کی رپورٹنگ، اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی جانب سے ریٹیل آؤٹ لیٹس (پٹرول پمپس) تک کی ترسیل کی ریئل ٹائم (حقیقی وقت میں) نگرانی ممکن ہوگی۔ اوگرا ڈیجیٹل پلیٹ فارم کا قیام اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ڈیٹا میں کسی قسم کی ہیرا پھیری کی گنجائش نہ رہے اور ریگولیٹر کے پاس ہر وقت تازہ ترین معلومات موجود رہیں۔
چیئرمین اوگرا کا افتتاحی خطاب اور عزم
تربیتی سیشن کے دوران افتتاحی خطاب کرتے ہوئے چیئرمین اوگرا جناب شہزاد اقبال نے کہا کہ یہ نیا نظام پاکستان کے انرجی سیکٹر میں گیم چینجر ثابت ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ اوگرا ڈیجیٹل پلیٹ فارم نہ صرف ریگولیٹری فریم ورک کو مضبوط کرے گا بلکہ سروس ڈیلیوری کے عمل کو بھی تیز تر بنائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ وقت کی ضرورت ہے کہ ہم فرسودہ دفتری طریقہ کار کو چھوڑ کر ٹیکنالوجی پر مبنی حل کی طرف بڑھیں۔
جناب شہزاد اقبال نے مزید کہا کہ اس پورٹل کی مدد سے کاروباری ماحول کو آسان (Ease of Doing Business) بنایا جائے گا۔ پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی چین کی مکمل مانیٹرنگ سے مارکیٹ میں مصنوعی قلت پیدا کرنے والے عناصر کی حوصلہ شکنی ہوگی، اور حکومت و عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ مزید پختہ ہوگا۔
ماہرین کی بریفنگ اور سوال و جواب کا سیشن
تربیتی سیشن کے دوران پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (پی آئی ٹی بی) کے آئی ٹی ماہرین نے نظام کے مختلف ماڈیولز پر تفصیلی بریفنگ دی۔ انٹرفیس کے استعمال سے لے کر ڈیٹا اینٹری تک کے ہر مرحلے کو عملی طور پر سمجھایا گیا۔ شرکاء کو عملی مظاہرے کے ذریعے دکھایا گیا کہ کس طرح اوگرا ڈیجیٹل پلیٹ فارم ڈیٹا کا تجزیہ کرتا ہے اور خودکار رپورٹس تیار کرتا ہے۔
بریفنگ کے اختتام پر شرکاء کو سوالات اٹھانے اور اپنی تجاویز پیش کرنے کا بھرپور موقع دیا گیا، جس سے سیشن دو طرفہ بات چیت کی شکل اختیار کر گیا۔ آئل انڈسٹری کے نمائندوں کی جانب سے پوچھے گئے تکنیکی سوالات کے جوابات اوگرا اور پی آئی ٹی بی کی مشترکہ ٹیم نے تفصیلی انداز میں دیے۔ ماہرین نے اس بات کی یقین دہانی کروائی کہ اوگرا ڈیجیٹل پلیٹ فارم کو صارف دوست (User-Friendly) بنایا گیا ہے تاکہ انڈسٹری کے آپریٹرز کو روزمرہ استعمال میں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
مستقبل کی منصوبہ بندی اور باہمی تعاون
اوگرا نے آئل سیکٹر میں ٹیکنالوجی پر مبنی اصلاحات لانے اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بامقصد اور مؤثر تعاون جاری رکھنے کے پختہ عزم کا اعادہ کیا ہے۔ اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ آئندہ بھی ایسی ورکشاپس کا انعقاد کیا جائے گا تاکہ انڈسٹری کے ڈیٹا کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالا جا سکے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ، برینٹ کروڈ 108 ڈالر تک پہنچ گیا
آنے والے مہینوں میں اوگرا ڈیجیٹل پلیٹ فارم کا دائرہ کار مزید وسیع کیا جائے گا، جس میں پیٹرول پمپس کے لائسنس کے آن لائن اجراء اور تجدید جیسے فیچرز بھی شامل کیے جا سکتے ہیں۔ یہ پیش رفت نہ صرف آئل کمپنیوں کے لیے آسانی پیدا کرے گی بلکہ ریگولیٹر کے نظام کی کارکردگی کو بھی بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے میں مدد فراہم کرے گی۔ یہ منصوبہ پاکستان کی توانائی کی منڈیوں میں اصلاحات کے ایک طویل المدتی وژن کا آئینہ دار ہے جو ملکی معیشت کی پائیداری میں اپنا کردار ادا کرے گا۔